AskAhmadiyyat

Eid Milad Ul Nabi

عید میلاد النبی ﷺ ۔۔ Eid Milad Un Nabi

ایک شخص نے مولودخوانی پر سوال کیا ۔حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے فرمایا :۔

آنحضرت ﷺ کا تذکرہ بہت عمدہ ہے بلکہ حدیث سے ثابت ہے کہ اولیاء اور انبیا ء کی یا د سے رحمت نازل ہو تی ہے اور خودخدانے بھی انبیاء کے تذکر ہ کی تر غیب دی ہے لیکن اگر اس کے ساتھ ایسی بدعات مل جا ویں جن سے تو حید میں خلل واقع ہو تو وہ جا ئز نہیں ۔خدا کی شان خدا کے ساتھ اور نبی کی شان نبی کے ساتھ رکھو۔ آج کل کے مولودوں میں بدعت کے الفاظ زیادہ ہو تے ہیں اور وہ بدعات خدا کے منشاء کے خلاف ہیں ۔اگر بدعات نہ ہوں تو پھر تو وہ ایک وعظ ہے ۔ آنحضرت ﷺکی بعثت ،پیدائش اور وفات کا ذکر ہوتوموجب ثواب ہے۔ ہم مجاز نہیں ہیں کہ اپنی شریعت یاکتاب بنا لیویں ۔

بعض ملا ں اس میں غلوکر کے کہتے ہیں کہ مولودخوانی حرام ہے ۔اگر حرام ہے تو پھر کس کی پیروی کر وگے ؟ کیونکہ جس کا ذکر زیا دہ ہو اس سے محبت بڑھتی ہے اور پیدا ہو تی ہے ۔

مولود کے وقت کھڑا ہو نا جائز نہیں ۔ان اندھوں کو اس بات کا علم ہی کب ہو تاہے کہ آنحضرت ﷺ کی روح آگئی ہے بلکہ ان مجلسوں میں تو طرح طرح کے بدطینت اور بد معاش لوگ ہو تے ہیں وہا ں آپ کی روح کیسے آسکتی ہے اوریہ کہاں لکھا ہے کہ روح آتی ہے ؟

وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ (بنی اسرائیل :۳۷)

دونوں طرف کی رعایت رکھنی چاہیے ۔جب تک وہابی جو کہ آنحضرت ﷺ کی عظمت نہیں سمجھتا وہ بھی خدا سے دور ہے ۔انہوں نے بھی دین کو خراب کر دیا ہے ۔جب کسی نبی ، ولی کا ذکر آجاوے تو چِلَّا اٹھتے ہیں کہ ان کو ہم پر کیا فضیلت ہے؟انہوں نے انبیاء کے خوارق سے فائدہ اٹھانا نہیں چاہا ، دوسرے فرقے نے شرک اختیار کیا حتیٰ کہ قبروں کو سجدہ کیا اور اس طرح اپنا ایمان ضائع کیا ۔ہم نہیں کہتے کہ انبیا ء کی پرستش کرو بلکہ سوچو اور سمجھو ۔خدا تعا لیٰ بارش بھیجتا ہے ہم تواس پر قادر نہیں ہو تے مگر با رش کے بعد کیسی سرسبزی اورشادا بی نظر آتی ہے ۔اسی طرح انبیاء کا وجود بھی با رش ہے۔

پھر دیکھو کہ کوڑی اور موتی دونوں دریا ہی سے نکلتے ہیں پتھر اور ہیرا بھی ایک ہی پہاڑ سے نکلتا ہے مگر سب کی قیمت الگ الگ ہو تی ہے اسی طرح خدا نے مختلف وجود بنائے ہیں ۔انبیاء کا وجود اعلیٰ درجہ کا ہو تا ہے اور خدا کی محبت سے بھرا ہوا ۔اس کو اپنے جیسا سمجھ لینا اس سے بڑھ کر اور کیا کفر ہو گا بلکہ خدا نے تووعدہ کیا ہے کہ جواُن سے محبت کرتا ہے وہ انہیں میں سے شمار ہوگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام عطا ہو گا جس میں صرف میں ہی ہو ں گا۔ایک صحا بی روپڑاکہ حضور مجھے جو آپ سے محبت ہے مَیں کہاں ہوں گا؟ آپؐ نے فرمایا تو بھی میرے ساتھ ہوگا۔پس سچی محبت سے کام نکلتا ہے۔ایک مشرک ہرگز سچی محبت نہیں رکھتا۔میں نے جہاں تک دیکھا ہے ۔وہابیوں میں تیزی اور چالا کی ہو تی ہے۔ خاکساری اور انکساری تو ان کے نصیب نہیں ہو تی یہ ایک طرح سے مسلمانوں کے آریہ ہیں۔وہ بھی الہام کے منکر ،یہ بھی منکر ۔جب تک انسان برا ہ راست یقین حاصل نہ کرے قصص کے رنگ میں ہرگز خدا تعا لیٰ تک پہنچ نہیں سکتا جو شخص خدا تعا لیٰ پر پورا ایمان رکھتا ہے ضرور ہے کہ اس پر کچھ تو خدا کا رنگ آجاوے۔

دوسر ے گروہ میں سوائے قبرپر ستی اور پیرپرستی کے کچھ روح با قی نہیں ہے ۔قرآن کو چھوڑدیا ہے۔خدا نے امت وسط کہا تھا، وسط سے مراد ہے میانہ رو۔اور وہ دونوں گروہ نے چھوڑدیا۔پھر خدا فر ما تا ہے

اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَا تَّبِعُوْنِیْ (ال عمران :۳۲)

کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قر آن پڑھا تھا ؟اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے ہا ں آنحضرت ﷺ نے خوش الحانی سے قر آن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے ۔جب یہ آیت آئی

وَجِئْنَا بِکَ عَلٰی ھٰٓوُلَا ءِ شَھِیْدًا (النساء:۴۲)

آپ روئے اور فر ما یا بس کر میں آگے نہیں سن سکتا ۔آپ کو اپنے گواہ گذرنے پر خیال گذرا ہو گا۔ ہمیں خودخواہش رہتی ہے کہ کو ئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں ۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک کا م کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے ۔سچے مو من کے واسطے کا فی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کا م آنحضرت ﷺ نے کیا ہے کہ نہیں ۔اگر نہیں کیا تو کر نے کا حکم دیا ہے کہ نہیں ؟حضر ت ابراہیم ؑ آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولودنہ کروایا ؟

( فقه المسیح ، صفحہ 395 تا 398 )

We recommend Firefox for better fonts view.