AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعود ؑ کی ذات پر کئے جانے والے اعتراضات

اعتراض اٹھایا جاتا ہے کہ مرزا صا حب رمضان کا احترام نہ کیا کرتے تھے ایک بار امرتسر میں رمضان کے ایام میں تقریر کرتے ہوئے چائے پی اور ایک مرتبہ ایک مہمان روزہ کی حالت میں آپ کے پاس آیا جبکہ دن کا بیشتر حصہ گزر چکا تھا۔آپ نے اس شخص کا روزہ کھلوا دیا۔ان واقعات سے مرزا صاحب کی روزہ سے دشمنی اور ارکان اسلام کی بے حرمتی کا الزام لگایا جاتا ہے ۔

اعتراض کیا جاتا ہے کہ قرآن مجید میں ہےوَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ(یٰسٓ:70)اور ہم نے اس کو شعر نہیں سکھایا اور نہ ہی یہ اس کے شایان شان ہے ۔نیزوَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ (الشعراء:225)اور شاعر وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی گمراہ لوگ پیروی کرتے ہیں ۔اس لیے نبی شاعر نہیں ہوتا۔ مرزا صاحب شاعر تھے۔

مخالفین احمدیت کی طرف سے تحریف کی راہ اختیار کرتے ہو ئے الفضل کا حوالہ دیکر حضرت مسیح موعودؑ اورحضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی شان میں نہایت گستاخانہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس کبھی کبھار زنا کرلیا کرتے تھے اور ایسا کرنا نعوذباللہ اولیاء اللہ کا طریق تھا اور ساتھ ہی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی ذات پر بھی نعوذ باللہ زنا کا الزام لگاتے ہیں۔

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام  نے یہ لکھاہے کہ انہوں نے ممانعت جہادمیں اتنی کتابیں تالیف کی ہیں جن سے پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔معترضین یہ کہتے ہیں  یہ مبالغہ اور جھوٹ ہے۔نیز یہ اعتراض کرتے ہیں کہ جتنی بھی کتابیں لکھیں ہیں ان میں نصف کے قریب آباء کی تعریف پرمشتمل ہیں ۔

We recommend Firefox for better fonts view.