AskAhmadiyyat

تھیٹر اور سینما جانے کے اعتراض کا جواب

مندرجہ ذیل حوالہ جات پر اعتراض کیا جاتا ہے ۔

معترضہ حوالے

1۔       حضرت بانی جماعت احمدیہ کی سیرت پر لکھی گئی کتاب ’’ذکر حبیب ‘‘میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓذکر کرتے ہیں :۔

’’ایک شب دس بجے کے قریب میں تھیئٹرمیں چلا گیا جو مکان کے قریب ہی تھا اور تماشہ ختم ہونے پر دو بجے رات کو واپس آیا- صبح منشی ظفر احمد صاحب نے میری عدم موجودگی میں حضرت صاحب کے پاس میری شکایت کی کہ مفتی صاحب رات تھیئٹرچلے گئے تھے- حضرت صاحب نے فرمایا ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے- اِس کے سوا اور کچھ نہیں فرمایا ۔منشی ظفر احمد صاحب نے خود ہی مجھ سے ذکر کیا کہ مَیں تو حضرت صاحب کے پاس آپ کی شکایت لے کر گیا تھا اور میرا خیال تھا کہ حضرت صاحب آپ کو بلا کر تنبیہ کریں گے- مگر حضورنے تو صرف یہی فرمایا کہ ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے اور اس سے معلومات حاصل ہوتے ہیں– مَیں نے کہا کہ حضرت صاحب کا کچھ نہ فرمانا یہ بھی ایک تنبیہ ہے- وہ جانتے ہیں کہ آپ مجھ سے ذکر کریں گے-‘‘

(ذکر حبیب ص 18)

2۔       حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں :۔

’’جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں مگر قیام انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا واپسی پر جب ہم فرانس آئے ، تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریانی سے نظر آ سکے ۔وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے مگر مجھے ایک اوپیرا میں لے گئے ،جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ اوپیرا سینما کو کہتے ہیں ۔چودھری صاحب نے بتایا کہ یہ اعلیٰ سو سائٹی کی جگہ ہے جسے دیکھ کر آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے ،میری نظر چونکہ کمزور ہے ۔اسلئے دور کی چیز اچھی طرح نہیں دیکھ سکتا۔تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چودھری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں اُنہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ کپڑے پہنے ہوئے ہیں مگر باوجود اس کے کہ وہ ننگی معلوم ہوتی تھیں ۔تو یہ بھی ایک لباس ہے اسی طرح ان لوگوں کے شام کی دعوتوں کے گاؤن ہوتے ہیں نام تو اس کا بھی لباس ہے مگر اس میں جسم کا ہر حصہ بالکل ننگا نظر آتا ہے۔‘‘

(خطبات محمود ج 1ص226،اخبار الفضل قادیان 28جنوری 1934)

اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے

نبی کریم ﷺ کی مشہور حدیث ہے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ ، یعنی اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہوتا ہے ۔  مندرجہ بالال دونوں حوالوں کو بغورپڑھنے سے پتہ لگ جاتا ہے کہ تھیٹر یا سینما جانا کس مقصد سے تھا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں :

’’ایک دفعہ ہم بھی گئے تھے تاکہ معلوم ہو کہ وہاں کیا ہوتا ہے- ‘‘

(ذکر حبیب ص 18)

اس سے معلوم ہوا کہ مقصد اور نیت تماشہ دیکھنا نہیں بلکہ علم کا حصول تھا اس کے سوا کچھ نہیں۔

اسی طرح حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحبؓ کے بارہ میں جو حوالہ ہے وہاں آپؓ فرماتے ہیں :۔

’’مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں‘‘

(خطبات محمود ج 1ص226،اخبار الفضل قادیان 28جنوری 1934)

اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ علم حاصل کرنے کےلئے کہ یورپ کی سوسائٹی کا کیا حال ہے ، آپ وہاں گئے ۔ آپ چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلیفہ تھے اور آپؑ کے اصلاح کے مشن کو آگے بڑھانا آپ کا فرض منصبی تھا ۔ اس لئے اس سوسائٹی کا علم حاصل کرنے کے لئے اور مشاہدہ کرنے کے لئے وہاں گئے ۔ ورنہ تماشہ دیکھنا مقصدنہ تھا۔ کیونکہ سینما کے برے استعمال کے بارہ میں آپؓ نے  وضاحت سے فرما یا ہے ۔ ملاحظہ ہو :

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ؓفرماتے ہیں :۔

’’ موجودہ زمانے میں جو لغویات پائی جاتی ہیں ان میں سے سب سے مقدم سینما ہے جو قومی اخلاق کے لئے ایک نہایت ہی مہلک اور تباہ کن چیز ہے اور تمدنی لحاظ سے بھی ملکی امن کے لئے خطرہ کا موجب ہے۔ میں نے کچھ عرصہ ہوا فرانس کے متعلق پڑھا کہ وہاں کئی گاؤں صرف اس لئے ویران ہو گئے کہ لوگ سینما کے شوق میں گاؤں چھوڑ چھوڑ کر شہروں میں آکر آباد ہو گئے تھے اور گورنمنٹ کو فکر پڑ گئی کہ اس رَو کو کس طرح روکا جائے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ سینما اپنی ذات میں برا نہیں مگر اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اس کا برے طور پر استعمال کر کے اس زمانے میں اسے انتہائی  طور پر نقصان رساں اور تباہ کن بنا دیا گیا ہے۔ ورنہ اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کے   نظا روں کی فلم تیار کرے اور وہاں کی برف اور درخت اور چشمے وغیرہ لوگوں کو دکھائے      جائیں ۔اس کی چٹانوں اور غاروں اور چوٹیوں کا نظارہ پیش کیا جائے اور اس میں کسی قسم کا باجا یا گانا نہ ہو تو چونکہ یہ چیز علمی ترقی کا موجب ہو گی اس لئے یہ جائز ہو گی ۔اسی طرح اگر کوئی فلم کلّی طور پر تبلیغی ہو یا تعلیمی ہو اور اس میں گانے بجانے اور تماشہ کا شائبہ تک نہ ہو تو اس کے دیکھنے کی ہم اجازت دے دیں گے۔اسی طرح تربیتی یا جنگی اداروں کی طرف سے جو خالص علمی تصاویر آتی ہیں جن میں جنگلوں دریاؤں کے نظارے یا کارخانوں کے نقشے یا لڑائی کے مختلف مناظر ہوتے ہیں وہ بھی دیکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی ترقی ہو تی ہے یا بعض صنعتی یا زرعی تصویریں ہوتی ہیں جن میں کسانوں کوکھیتی باڑی کے طریق سکھائے جاتے ہیں ۔فصلوں کو تباہ کرنے والی بیماریوں کے علاج بتائے جاتے ہیں ۔زراعت کے نئے نئے آلات سے روشناس کیا جاتا ہے۔عمدہ بیج اور ان کی پیدا وار دکھائی جاتی ہے۔ایسی چیزیں لغو میں شامل نہیں کیونکہ ان کے دیکھنے سے علمی لحاظ سے انسان کو ایک نئی روشنی حاصل ہوتی ہے اور اس کا تجربہ ترقی کر تا ہے اور وہ بھی اپنی تجارت یا صنعت یا زراعت کو زمانے کو دوڑ کے ساتھ ساتھ بڑھانے اور ترقی دینے کے وسائل اختیار کر سکتا ہے۔ ‘‘

(تفسیر کبیر ۔جلد6۔تفسیر سورہ فرقان صفحہ 586)

We recommend Firefox for better fonts view.