AskAhmadiyyat

11بیٹے ہونے کے متعلق حوالہ

کتاب مدارج النبوۃ کا حوالہ

 اور جہاں تک معترض کا “کم علمی ”  کا اعتراض ہے ، اس کے جواب میں امت محمدیہ کے معروف بزرگ  شیخ عبد الحق محدث دہلوی کا بیان کردہ حوالہ پیش ہے:۔

“مواہب لدنیہ نے دار قطنی سے نقل کیا ہے کہ طیب و طاہر، عبد اللہ کے سوا ہیں(یعنی طیب ، طاہر ، عبد اللہ ، قاسم اور ابراہیم) اس بناء پر صاحبزادگان کی تعداد پانچ ہو جاتی ہے اور کل تعداد نو ہوتی ہے۔ اور بعض لوگوں نے نقل کیا ہے کہ طیب  و مطیب ایک حمل سے، اور طیب و طاہردوسرے حمل سے متولد ہوئے۔ اس قول کو صاحب صفوة نے بیان کیا ہے۔ اس لحاظ سے کل تعداد گیارہ بن جاتی ہے اور بعض سے منقول ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل ایک فرزند رسول صلی اللہ علیہ وسلم متولد ہوا تھا اور اس کا نام عبد مناف رکھا گیا تھا۔ اس طرح کل (اولاد کی)تعداد بارہ ہو جاتی ہے۔ بجز عبد مناف کے سب کے سب عہد اسلام میں پیدا ہوئے۔ اور ابن اسحاق نے کہا کہ حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کے علاوہ سب کے سب فرزندان، عہد اسلام سے پہلے پیدا ہوئے اور سب نے شیر خوارگی کے زمانہ میں وفات پائی۔ایک دوسرے شخص کا قول گزر چکا ہے کہ عبداللہ بعد از نبوت پیدا ہوئے اسی بناء پر ان کا نام طیب و طاہر رکھا گیا۔ تمام اقوال سے آٹھ فرزندان رسول کی تعداد حاصل ہوئی۔ “

(مدارج النبوة ، جلد دوم صفحہ 771۔تصنیف حضرت علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ، ترجمہ :الحاج مفتی غلام معین الدین نعیمی)

مندرجہ بالا لنک پر کلک کر کے قارئین کرام اصل حوالہ کا صفحہ ملاحظہ کر سکتے ہیں ۔

We recommend Firefox for better fonts view.