AskAhmadiyyat

جواب پیش فرمودہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

” اور یہ کہنا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا کہیں ذکر نہیں یہ سراسر غلطی ہے کیونکہ جس حالت میں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں بڑا فتنہ عیسیٰ پرستی کا فتنہ ٹھیرایا ہے اور اُس کے لئے وعید کے طور پر یہ پیشگوئی کی ہے کہ قریب ہے کہ زمین و آسمان اُس سے پھٹ جائیں اور اُسی زمانہ کی نسبت طاعون اور  زلزلوں وغیرہ حوادث کی پیشگوئی بھی کی ہے اور صریح طور پر فرما دیاہے کہ آخری زمانہ میں جبکہ آسمان اور زمین میں طرح طرح کے خوفناک حوادث ظاہو ہونگے وہ عیسیٰ پرستی کی شامت سے ظاہر ہوں گے اور پھر دوسری طرف یہ بھی فرمایا وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا(بنی اسرائیل:16۔ترجمہ :اور ہم ہرگز عذاب نہیں دیتےیہاں تک کہ کوئی رسول بھیج دیں) پس اس سے مسیح موعود کی نسبت پیشگوئی کھلے کھلے طور پر قرآن شریف میں ثابت ہوتی ہے کیونکہ جو شخص غور اور ایمانداری سے قرآن شریف کو پڑھے گا اُس پر ظاہر ہوگا کہ آخری زمانہ کے سخت عذابوں کے وقت جبکہ اکثر حصے زمین کے زیر و زبر کئے جائیں گے اور سخت طاعون پڑے گی اور ہر ایک پہلو سے موت کا بازار گرم ہوگا اُس وقت ایک رسول کا آنا ضروری ہے جیسا کہ خُدا تعالیٰ نے فرمایا وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا یعنی ہم کسی قوم پر عذاب نہیں بھیجتے جب تک عذاب سے پہلے رسول نہ بھیج دیں پھر جس حالت میں چھوٹے چھوٹے عذابوں کے وقت میں رسول آئے ہیں جیسا کہ زمانہ کے گذشتہ واقعات سے ثابت ہے تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس عظیم الشان عذاب کے وقت میں جو آخری زمانہ کا عذاب ہے اور تمام عالم پر محیط ہونے والا ہے جس کی نسبت تمام نبیوں نے پیشگوئی کی تھی خدا کی طرف سے رسول ظاہر نہ ہو اس سے تو صریح تکذیب کلام اللہ کی لازم آتی ہے۔ پس وہی رسول مسیح موعود ہے کیونکہ جب کہ اصل موجب اُن عذابوں کا عیسائیت کا فتنہ ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا تو ضرور تھا کہ اس فتنہ کےمناسبِ حال اور اس کے فرو کرنے کی غرض سے رسول ظاہر ہو سو اُسی رسول کو دوسرے پیرایہ میں مسیح موعود کہتے ہیں پس اس سے ثابت ہوا کہ قرآن شریف میں مسیح موعود کا ذکر ہے اور یہی ثابت کرنا تھاہر ایک سمجھ سکتا ہے کہ اگر قرآن شریف کی رو سے عیسائیت کے فتنہ کے وقت عذاب کاآنا ضروری ہے تو مسیح موعود کا آنا بھی ضروری ہے اور ظاہر ہے کہ یہ عذاب عیسائیت کے کمال فتنہ کے وقت آنا قرآن مجید سے ثابت ہے پس مسیح موعود کا آنا بھی قرآن کریم سے ثابت ہے۔ اسی طرح عام طورپر قرآن شریف سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم کسی قوم پر عذاب کرناچاہتے ہیں تو ان کے دلوں میں فسق و فجور کی خواہش پیدا کر دیتے ہیں تب وہ اتباع شہوات اور بے حیائی کے کاموں میں حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں تب اُس وقت اُن پر عذاب نازل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ امور بھی یورپ میں کمال تک پہنچ گئے ہیں جو بالطبع عذاب   کے مقتضی ہیں اور عذاب رسول کے وجود کا مقتضی ہے اور وہی رسول مسیح موعود ہے۔ پس تعجب ہے اُس قوم سے جو کہتی ہے کہ مسیح موعود کا قرآن شریف میں ذکر نہیں۔ علاوہ اس کے قرآن شریف کی یہ آیت بھی کہ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ (النور:56۔ترجمہ:جیسا کہ اُس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا) یہی چاہتی ہے کہ اس اُمت کے لئے چودھویں۱۴ صدی میں مثیل عیسیٰ ظاہر ہو جیسا کہ حضرت عیسیٰ حضرت موسیٰ سے چودھویں صدی میں ظاہر ہوئے تھے تا دونوں مثیلوں کے اول و آخر میں مشابہت ہو اسی طرح قرآن شریف میں یہ بھی پیشگوئی ہےوَاِنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ اِلَّا نَحْنُ مُھْلِکُوْھَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اَوْ مُعَذِّبُوْھَاعَذَابًا شَدِیْدًا(بنی اسرائیل :59) یعنی کوئی ایسی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں گے یا اُس پر شدید عذاب نازل نہ کریں گے یعنی آخری زمانہ میں ایک سخت عذاب نازل ہوگااور دوسری طرف یہ فرمایا وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا  پس اس سے بھی آخری زمانہ میں ایک رسول کا مبعوث ہونا ظاہر ہوتا ہے اور وہی مسیح موعود ہے۔

اور یہی پیشگوئی سورۂ فاتحہ میں بھی موجود ہے کیونکہ سورہ فاتحہ میں خدا تعالیٰ نے عیسائیوں کا نام الضّآلِّین رکھا ہے اس میں یہ اشارہ ہے کہ اگرچہ دنیا کے صدہا فرقوں میں ضلالت موجود ہے مگر عیسائیوں کی ضلالت کمال تک پہنچ جائے گی گویا دنیا میں فرقہ ضالہ وہی ہے اور جب کسی قوم کی ضلالت کمال تک پہنچتی ہے اور وہ اپنے گناہوں سے باز نہیں آتی تو سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ ان پر عذاب نازل ہوتا ہے پس اس سے بھی مسیح موعود کا آنا ضروری ٹھہرتا ہے یعنی بموجب آیت وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا۔ ”

(حقیقۃ الوحی۔ جلد 22ص498تا500)

We recommend Firefox for better fonts view.