AskAhmadiyyat

نبی کریم ﷺ کا اسوہ

ہمارے سامنے نبی کریمﷺ کا نمونہ موجود ہے جو اس ضمن میں ہماری راہنمائی فرماتا ہے۔قرآن مجید میں آتا ہے:۔

یٰاَیُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا وَ زِيْنَتَهَا فَتَعَالَيْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيْلًا۔(الاحزاب :29)

کہ جب آپ ؐ نے اپنی ازواج سے فرمایا کہ اگر تم دنیا چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں دنیاوی متاع دے کر رخصت کر دیتا ہوں۔

آپﷺ کی ازواج کا مال طلب کرنا کوئی معصیت نہ تھا جبکہ دوسروں کو اموال میں سے حصہ مل رہا تھا ۔مگر خدا تعالی اور رسول اللہﷺ ان کا کردار بلند دیکھنا چاہتے تھے ۔اور ان کے دلوں کو دنیا کی محبت سے خالی کرنا چاہتے تھے ۔اس لئے خدا تعالی نے بھی آنحضرتﷺ کو ان کے اس مطالبہ پر قائم رہنے کی صورت میں طلاق دینے کی اجازت دے دی۔ لیکن انہوں نے اپنا مطالبہ ترک کر دیا اور نہایت شاندار کردار کا مظاہرہ کیا ۔اس لئے حضور کو طلاق نہ دینا پڑی۔

لیکن حضرت مسیح موعودؑ کے انذار اور بار بار سمجھانے کے باوجود جب ان کی زوجہ نے دین کے معاملہ میں آپ کی مخالفت نہ چھوڑی تو آپ نے دین کی سربلندی کی خاطر انہیں طلاق دیدی۔

 

اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب

چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ اس اشتہار میں تحریر فرماتے ہیں:۔

”اس کام( محمدی بیگم کے دوسری جگہ نکاح)کے مدار المہام وہ ہوگئے جن پر اس عاجز کی اطاعت فرض تھی اور ہر چند سلطان احمد کوسمجھایا اوربہت تاکیدی خط لکھےکہ تو اور تیری والدہ اس کام سے الگ ہو جائیں ورنہ میں تم سے جدا ہو جاؤں گااور تمہارا کوئی حق نہ رہے گا۔مگر انہوں نے میرے خط کا جواب تک نہ دیااور بکلی مجھ سے بیزاری ظاہر کی۔اگر ان کی طرف سے تیز تلوار کا بھی مجھے زخم پہنچتا تو بخدا میں اس پر صبر کرتا ۔لیکن انہوں نے دینی مخالفت کر کےاور دینی مقابلہ سے آزار دے کر مجھے بہت ستایا اور اس حد تک میرے دل کو توڑ دیا  کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔اور عمدًا چاہا  کہ میں سخت ذلیل کیا جاؤں۔۔۔۔۔۔اس لئے میں نہیں چاہتا کہ اب ان کا  کسی قسم کا تعلق مجھ سے باقی رہے۔اور ڈرتا ہوں کہ ایسے دینی دشمنوں سے پیوند رکھنے سے معصیت نہ ہو”۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول ص206-208)

جہاں تک دوسری شادی کے بعد پہلی بیوی کے حقوق چھوڑنے کا تعلق ہے تو یہ آپؑ کی پہلی بیوی  کی اپنی رائے تھی جیسا کہ حضرت سودہؓ نے بھی آنحضرت ﷺسے اپنا حق چھوڑ دیا تھا اور اپنی باری حضرت عائشہ کو دے دی تھی۔

(صحیح بخاری،کتاب النکاح،باب من زوجھا لعزتھا و کیف یقسم ذالک)

We recommend Firefox for better fonts view.