AskAhmadiyyat

طلاق دینے کی وجہ دین سےبے رغبتی تھی

حضرت مسیح موعودؑ نے جیسا کہ انبیا ء کا دستور ہوا کرتا ہے کہ اپنے اہل و عیال کو دین کی طرف راغب کرنے کی سعی کرتے ہیں ہر ممکن کوشش کی۔لیکن ان کا دین کی طرف میلان نہ تھا۔یہی وجہ تھی کہ حضرت صاحب نے اپنی پہلی بیوی سے خاص تعلقات ترک کر دئے البتہ حسن معاشرت ان سے ہر دم رہا۔بعد ازیں ان کی دین کے معاملہ میں مخالفت پر بھی آپ نے انہیں تنبیہہ کی لیکن ان کے منع نہ ہونے پر آپؑ نے دینی غیرت کی خاطر انہیں طلاق دیدی۔

آپؑ کی دوسری بیوی حضرت نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ  کا بیان ذیل میں مزید تفصیل کے لئے درج کیا جاتا ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ بیان فرماتے ہیں :۔

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اوائل سے ہی مرزا فضل احمد کی والدہ سے جن کو لوگ عام طور پر ”  پھجے دی ماں کہاکرتے تھے بے تعلقی سی تھی جس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت صاحب کے رشتہ داروں کو دین سے سخت بے رغبتی تھی اور ان کا ان کی طرف میلان تھا اور وہ اسی رنگ میں رنگین تھیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان سے مباشرت ترک کردی تھی ہاں آپ اخراجات وغیرہ باقاعدہ دیا کرتے تھے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ میری شادی کے بعد حضرت صاحب نے انہیں کہلا بھیجا کہ آج تک تو جس طرح ہوتا رہا ہوتا رہا اب میں نے دوسری شادی کر لی ہے اس لئے اب اگر دونوں بیویوں میں برابری نہیں رکھو ں گا تو میں گنہگار ہوں گا اس لئے اب دو باتیں ہیں یا تو تُم مجھ سے طلاق لے لو اور یا مجھے اپنے حقوق چھوڑ دو میں تم کو خرچ دیئے جاوں گا ۔انہوں نے کہلا بھیجا کہ اب میں بڑھاپے میں کیا طلاق لوں گی بس مجھے خرچ ملتا رہے میں اپنے باقی حقوق چھوڑتی ہوں۔والدہ صاحبہ فرماتی ہیں چنانچہ پھر ایسا ہی ہوتا رہا حتّٰی کہ محمد ی بیگم کا سوال اُٹھا اور آپ کے رشتہ داروں نے مخالفت کر کے محمد ی بیگم کا نکاح دوسری جگہ کر ا دیا اور فضل احمد کی والدہ نے ان سے قطع تعلق نہ کیا بلکہ ان کے ساتھ رہی تب حضرت صاحب نے ان کو طلاق دے دی ۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت صاحب کا یہ طلاق دینا آپ کے اس اشتہار کے مطابق تھا جو آپ نے 2مئی 1981ءکو شائع کیا اور جس کی سرخی تھی ” اشتہار نصرت دین و قطع تعلق از اقارب مخالف دین “ اس میں آپ نے بیان فرمایا تھا کہ اگر مرزا سلطا ن احمد اور ان کی والدہ اس امر میں مخالفانہ کوشش سے الگ نہ ہوگئے تو پھر آپ کی طرف سے مرزا سلطان احمد عاق اور محروم الارث ہوں گے اور ان کی والدہ کو آپ کی طرف سے طلاق ہوگی ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ فضل احمد نے اس وقت اپنے آپ کو عاق ہونے سے بچا لیا ۔نیز والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ اس واقعہ کے بعد ایک دفعہ فضل احمد کی والدہ بیمار ہوئیں تو چونکہ حضرت صاحب کی طرف سے مجھے اجازت تھی میں انہیں دیکھنے کے لئے گئی ۔ واپس آکر میں نے حضرت صاحب سے ذکر کیا کہ پھّجے کی ماں بیمار ہے اور یہ تکلیف ہے ۔ آپ خاموش رہے ۔ میں نے دوسری دفعہ کہاتو فرمایا میں تمہیں دو گولیاں دیتا ہوں یہ دے آؤ مگر اپنی طرف سے دینا میرا نام نہ لینا ۔والدہ صاحبہ فرماتی تھیں کہ اور بھی بعض اوقات حضرت صاحب نے اشارةً کنایۃً مجھ پر ظاہر کیا کہ میں ایسے طریق پر کہ حضرت صاحب کا نام درمیان میں نہ آئے اپنی طرف سے کبھی کچھ مدد کر دیا کروں سو میں کر دیا کرتی تھی۔‘‘

 (سیرت المہدی جلد اول صفحہ30-31روایت نمبر41)

We recommend Firefox for better fonts view.