AskAhmadiyyat

پیشگوئی مصلح موعود

 

پیشگوئی مصلح موعود

 

پیشگوئی مصلح موعود کے الفاظ

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں

’’ خدائے رحیم وکریم بزرگ وبرتر نے جو ہریک چیزپر قادر ہے (جلّ شانہٗ وعزّ اسمہٗ) مجھ کو اپنے الہام سے مخاطب کر کے فرمایا کہ
’’میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتاہوں اسی کے موافق جو تُو نے مجھ سے مانگا۔ سو مَیں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپائیہ قبولیّت جگہ دی اور تیرے سفر کو ( جو ہوشیار پور اور لدھیانہ کا سفرہے ) تیرے لئے مبارک کر دیا۔ سو قدرت اور رحمت اور قربت کا نشان تجھے دیا جاتا ہے ۔ فضل اور احسان کا نشان تجھے عطا ہوتا ہے اور فتح اور ظفر کی کلید تجھے ملتی ہے ۔ اے مظفّر ! تجھ پر سلام ۔ خدا نے یہ کہا تا وہ جو زندگی کے خواہاں ہیں موت کے پنجہ سے نجات پاویں اور وہ جو قبروں میں دبے پڑے ہیں باہر آویں اور تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر ہو اور تا حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آجائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے اور تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں اور تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں اور تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا کے دین اور اس کی کتاب اور اس کے پاک رسول محمد مصطفی ؐ کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے اور مجرموں کا راہ ظاہر ہو جائے۔

سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ ایک ذکی غلام (لڑکا ) تجھے ملے گا۔ وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریّت ونسل ہو گا۔

خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتاہے ۔ اُس کا نام عنموائیل اور بشیر بھی ہے ۔ اس کو مقدّس روح دی گئی ہے اور وہ رِجس سے پاک ہے۔ وہ نور اللہ ہے ۔ مبارک وہ جو آسمان سے آتاہے ۔ اس کے ساتھ فضل ہے جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا ۔ وہ صاحب شکوہ اور عظمت اور دولت ہو گا۔ وہ دنیا میں آئے گا اور اپنے مسیحی نفس اور روح الحق کی برکت سے بہتوں کو بیماریوں سے صاف کرے گا۔ وہ کلمۃ اللہ ہے کیونکہ خدا کی رحمت وغیوری نے اُسے کلمۂ تمجید سے بھیجا ہے ۔ وہ سخت ذہین و فہیم ہو گا اور دل کا حلیم ۔ اور علومِ ظاہری وباطنی سے پُرکیا جائے گا۔ اور وہ تین کو چار کرنے والا ہوگا( اس کے معنی سمجھ میں نہیں آئے )۔ دہ شنبہ ہے مبارک دہ شنبہ ۔ فرزند دلبند گرامی ارجمند ۔ مَظْھَرُ الْاَوَّلِ وَالْاٰخِرِ ۔ مَظْھَرُ الْحَقِّ وَالْعَلَآءِ کَاَنَّ اللّٰہَ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ جس کا نزول بہت مبارک اور
جلالِ الٰہی کے ظہور کا موجب ہو گا۔ نور آتا ہے نور ۔ جس کو خدا نے اپنی رضا مندی کے عطر سے ممسوح کیا۔ ہم اس میں اپنی روح ڈالیں گے اور خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔ وہ جلد جلد بڑھے گا اور اسیروں کی رستگاری کا موجب ہو گا اور زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ تب اپنے نفسی نقطۂ آسمان کی طرف اٹھایا جائے گا ۔ وَکَانَ اَمْرًا مَّقْضِیًّا ‘‘

(اشتہار 20فروری 1886ء مندرجہ مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 100تا 102، تذکرہ طبع چہارم صفحہ 111-109)

اعلان مصلح موعود

اللہ تعالیٰ نے 5 اور 6 جنوری 1944ء کی درمیانی رات کو ایک خواب کے ذریعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی پر یہ منکشف فرمایا کہ آپ ہی پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہیں ۔آپ نے 20 فروری 1944ء کو ہوشیار پور کے مقام پرایک عظیم الشان جلسہ میں اپنے مصلح موعود ہونے کا اعلان فرمایا۔ آپ فرماتے ہیں:۔

’’آج(20 ؍فروری 1944ء)سے پورے اٹھاون سال پہلے۔۔۔ 20 فروری کے دن 1886ء میں اس شہر ہوشیار پور میں اس مکان میں جو کہ میری انگلی کے سامنے ہے ۔۔۔ قادیان کا ایک گمنام شخص جس کو خود قادیان کے لوگ بھی پوری طرح نہیں جانتے تھے لوگوں کی اس مخالفت کو دیکھ کر جو اسلام اور بانئ اسلام سے وہ رکھتے تھے، اپنے خدا کے حضور علیحدگی میں عبادت کرنے اور اس کی نصرت اور مدد طلب کرنے کے لئے آیا اور چالیس دن علیحدگی میں اس نے خدا تعالیٰ سے تضرع کے ساتھ دعائیں کیں ۔ ان دعاؤں کے نتیجہ میں خد انے اس کو ایک نشان دیا۔ وہ نشان یہ تھا کہ میں تم کو نہ صرف یہ کہ جو تمہارے ساتھ میرے وعدے ہیں ان کوپورا کروں گابلکہ ان وعدوں کوزیادہ شان اور زیادہ عظمت کے ساتھ پورا کرنے کیلئے میں تمہیں ایک خاص بیٹا دوں گا۔ وہ اسلام کو دنیا کے کناروں تک پہنچائے گا۔ کلام الہٰی کے معارف لوگوں کو سمجھائے گا۔ رحمت اور فضل کا نشان ہوگااور دینی اور دنیوی علوم جو اسلام کی اشاعت کے لئے ضروری ہیں اسے عطا کئے جائیں گے ۔ اللہ اسے لمبی عمر دے گا یہاں تک کہ وہ دنیا کے کناروں تک شہرت پائے گا۔ اور قومیں اس سے برکت حاصل کریں گی ۔۔۔یہ خبر ایسی زبردست خبرہے کہ کوئی انسان ایسی خبر دینے کی طاقت نہیں رکھتا۔ آخر یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔ جس لڑکے کا میں نے ذکر کیا ہے وہ مَیں ہی ہوں۔ میرے ذریعہ اس پیشگوئی کی بہت سی شقیں پوری ہو چکی ہیں اس لئے جماعت کا اصرار تھا کہ میں اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا اعلان کروں مگر میں خاموش رہا۔ حتیٰ کہ گزشتہ جنوری کے مہینہ میں لاہور میں مجھے ایک رؤیا دکھایا گیا۔ جس میں مجھے بتایا گیا کہ اس پیشگوئی کا میں ہی مصداق ہوں۔۔۔مَیں اس واحد اور قہار خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔۔۔ کہ خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اس پیشگوئی کے مطابق آپ کا وہ موعود بیٹا قرار دیا ہے جس نے زمین کے کناروں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا نام پہنچانا ہے ۔۔۔۔۔۔مَیں آسمان کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں ، زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں ،ہوشیار پور کی ایک ایک اینٹ کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ یہ سلسلہ دنیا میں پھیل کر رہے گا۔ حکومتیں اگر اس کے مقابلہ میں کھڑی ہوں گی تو مٹ جائیں گی، بادشاہتیں کھڑی ہوں گی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں گی۔ لوگوں کے دل سخت ہوں گے تو فرشتے ان کو اپنے ہاتھ سے ملیں گے یہاں تک کہ وہ نرم ہو جائیں گے اور ان کے لئے احمدیت میں داخل ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہے گا۔‘‘

(الفضل 24 فروری 1944ء)

پھر حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے لاہور میں جلسہ مصلح موعود میں اہل لاہور کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:۔

’’اے اہلِ لاہور ! میں تم کو خدا کا پیغام پہنچاتا ہوں ۔ میں تمہیں اس ازلی ابدی خدا کی طرف بلاتا ہوں جس نے تم سب کو پیدا کیا۔ تم مت سمجھو کہ اس وقت میں بول رہا ہوں ۔اس وقت میں نہیں بول رہا بلکہ خدا میری زبان سے بول رہا ہے ۔ میرے سامنے دین (حق) کے خلاف جو شخص بھی اپنی آواز بلند کرے گا اس کی آواز کو دبا دیا جائے گا۔ جو شخص میرے مقابلہ میں کھڑا ہو گا وہ ذلیل کیا جائے گا ،وہ رسوا کیا جائے گا،وہ تباہ اور برباد کیا جائے گا۔مگر خدا بڑی عزت کے ساتھ میرے ذریعہ(دین حق) کی ترقی اور اس کی تائید کے لئے ایک عظیم الشان بنیاد قائم کر دے گا۔ میں ایک انسان ہوں میں آج بھی مر سکتا ہوں اور کل بھی مر سکتا ہوں لیکن یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ میں اس مقصد میں ناکام رہوں جس کے لئے خدا نے مجھے کھڑا کیا ہے ۔ میں ابھی سترہ اٹھارہ سال کا ہی تھا کہ خدا نے مجھے خبر دی کہ اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْااِلیٰ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اے محمود میں اپنی ذات کی ہی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یقیناًجو تیرے متبع ہوں گے وہ قیامت تک تیرے منکروں پر غالب رہیں گے۔ یہ خدا کا وعدہ ہے جو اس نے میرے ساتھ کیا ۔ میں ایک انسان ہونے کی حیثیت سے بے شک دو دن بھی زندہ نہ رہوں مگر یہ وعدہ کبھی غلط نہیں ہوسکتا۔ جو خدا نے میرے ساتھ کیا کہ وہ میرے ذریعہ سے اشاعت (دین حق) کی ایک مستحکم بنیاد قائم کرے گااور میرے ماننے والے قیامت تک میرے منکرین پر غالب رہیں گے۔ اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ(دین حق) مغلوب ہوگیا ،اگر دنیا کسی وقت دیکھ لے کہ میرے ماننے والوں پر میرے انکار کرنے والے غالب آگئے تو بے شک تم سمجھ لو کہ میں ایک مفتری تھا لیکن اگریہ خبر سچی نکلی تو تم خودسوچ لو تمہارا کیا انجام ہوگا کہ تم نے خدا کی آواز میری زبان سے سنی اورپھر بھی اسے قبول نہ کیا۔ ‘‘

(انوار العلوم جلد 17ص243)

We recommend Firefox for better fonts view.