AskAhmadiyyat

دعویٰ الوہیت وتوہین الٰہی کا الزام

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ” ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے۔ہماری اعلیٰ لذات ہمارے خدا میں ہیں کیو نکہ ہم نے اس کو دیکھا اور ہر ایک خوبصورتی اس میں پائی۔یہ دولت لینے کے لائق ہے اگرچہ جان دینے سے ملے اور یہ لعل خریدنے کے لائق ہے اگرچہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو۔اے محرومو !اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھادوں۔کس دف سے بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا سے میں علاج کروں تا سننے کے لیے لوگوں کے کان کھلیں ۔ “ (کشتیٴ نوح ۔ روحانی خزائن جلد 19صفحہ22،21)

 مندرجہ ذیل عبارت پیش کرکے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ(نعوذ باللہ ) حضرت مسیح موعودعلیہ السلام خداتعالیٰ کی توحید پر ایمان نہ رکھتے تھے۔”اور دانیال نبی نے اپنی کتاب میں میرا نام میکائیل رکھا ہے اور عبرانی میں لفظی معنیٰ میکائیل کے ہیں خدا کی مانند یہ گویا اس الہام کے مطابق ہے جو براہین احمدیہ میں ہے:اَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَةِ تَوْحِیْدِیْ وَتَفْرِیْدِیْ ”(اربعین نمبر 3 حاشیہ۔روحانی خزائن جلد 17صفحہ 413)

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter