AskAhmadiyyat

انبیاء کی توہین کا الزام

سب پاک ہیں پیمبر،اک دوسرے سے بہتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیک از خدائے برتر خیرالوریٰ یہی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایک اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ انبیاء علیھم السلام سے رشتہ عقیدت توڑ کر اپنا گرویدہ کرنا ان کا نصب العین تھا۔چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام کا آغوش مادر میں ہمکلام ہونااس پر گراں گزرا تواپنے بیٹے کا ان سے تقابل کرتے ہوئے لکھا:حضرت مسیح نے تو صرف مہد ہی میں باتیں کیں مگراس لڑکے نے پیٹ میں ہی دو مرتبہ باتیں کیں۔‘‘

*ایک اعتراض یہ اٹھایا جاتا ہے کہ احمدی عقیدے کے مطابق حضرت مریم علیھاالسلام کے یوسف نجار نامی شخص سے تعلقات تھے۔ جس کے نتیجے میں حضرت مریم علیھا السلام کو عیسیٰ علیہ السلام کا حمل ہوا۔ پھر بدنامی سے بچنے کے لیے حضرت مریم کا یوسف نجار سے نکاح کروادیاگیا۔

مرزاصاحب، حضرت مریم کا یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح پھرنے کے متعلق لکھتے ہیں :

’’ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف نجار کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔‘‘

(ایام الصلح۔روحانی خزائن ج 14 ص300)

’’جب چھ سات ماہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجار سے نکاح کردیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کےبعد مریم کو بیٹاپیدا ہوا وہی عیسیٰ یایسوع کے نام سے موسوم ہوا۔‘‘

(چشمہ مسیحی۔روحانی خزائن ج 20 ص355)

’’ مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہائت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔‘‘

(کشتی نوح۔ روحانی خزائن ج19ص18)

ایک اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب کے مطابق حضرت مریم اور یوسف نجار کے نکاح سے مزید اولاد بھی پیدا ہوئی ہے مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:یسوع مسیح کے چار بھائی اور دو بہنیں تھیں، یہ سب یسوع کے حقیقی بھائی اور حقیقی بہنیں تھیں یعنی سب یوسف اور مریم کی اولاد تھیں۔(کشتی نوح۔ روحانی خزائن ج19 ص18)

حضرت مسیح موعودؑ کی مندرجہ ذیل عبارت پرحضرت عیسیٰ علیہ السلام کی  توہین کرنے کا اعتراض اٹھایا جاتا ہے :

’’وہ مسیح ہرطرح عاجزہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے، تولدپاکر مدت تک بھوک، پیاس، درد اور بیماری کا دکھ اُٹھاتارہا۔‘‘

(براہین احمدیہ۔رخ۔ ج 1 ص 441,442)

حضرت مسیح موعودؑ کی اس تحریر پر حضرت عیسیٰ کی توہین کا الزام لگایا جاتا ہے :’’جس حالت میں برسات کے دنوں میں ہزارہاکیڑے مکوڑے خود بخود پیدا ہوجاتے ہیں تو پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اس پیدائش سے کوئی بزرگی ان کی ثابت نہیں ہوتی، بلکہ بغیر باپ کے پیدا ہونا بعض قوی سے محروم ہونے پر دلالت کرتاہے۔‘‘(چشمہ مسیحی۔ روحانی خزائن ج 20 ص356)

حضرت مسیح موعود ؑ کی مندرجہ ذیل تحریرات  پر حضرت عیسیٰؑ کی توہین کا اعتراض اٹھایا جاتا ہے :

’’مسیح علیہ السلام کا معجزہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔‘‘

(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن ج3ص254)

’’مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے، جو مسیح کی ولادت سے قبل بھی مظہر عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیماراور تمام مجذوم، مفلوج، مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے۔‘‘

(ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن ج3ص263)

دوسری جگہ لکھتے ہیں:

’’اسی تالاب نے فیصلہ کردیا ہے کہ اگر آپ سے کوئی معجزہ بھی ظاہر ہوا ہو تو وہ معجزہ آپ کا نہیں بلکہ اس تالاب کا معجزہ ہے۔ اور آپ کے ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے اور کچھ نہیں تھا۔‘‘

(انجام آتھم۔روحانی خزائن ج11 ص 291)

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter