AskAhmadiyyat

صداقت حضرت مسیح موعود

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔ ’’یہ عاجز تو محض اسی غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچا دے کہ دنیا کے مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآن کریم لایا ہے ۔ اور دار النجات میں داخل ہونے کے لئےدروازہ لا الٰہ الّا اللہ محمّد رسول اللہ ہے ۔(حجۃ الاسلام ۔ روحانی خزائن جلد 6ص53،52)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؑ نے ادھیڑ عمر میں اپنی پہلی بیوی کو  طلاق دیکر دوسری شادی کرلی اور اپنی پہلی اولاد کو جائیداد سے بھی بے دخل کردیا جوکہ نبی کریمﷺ کے فیصلہ خَیْرُ کُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَ اَنَا خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِیْ یعنی تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہے کے خلاف ہے۔کیا ایک نبی کے یہ شایان شان ہے؟

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔

’’پس قرآن شریف میں جس کا نام خاتم الخلفاء رکھا گیا ہے اسی کا نام احادیث میں مسیح موعود رکھا گیا ہے اور اسی طرح سے دونوں ناموں کے بارے میں جتنی پیشگوئیاں ہیں وہ ہمارے ہی متعلق ہیں‘‘۔(ملفوظات جلد 5 صفحہ 554)اس بات پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ بات قرآن میں کہیں نہیں لکھی۔

1۔          آیت قرآنی وَمَا اَرْسَلْنَا مِن رَّسُوْلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِہٖ لِیُبَیِّنَ لَھُمْ (ابراہیم: 5 )(ترجمہ :اور ہم نے کوئی پیغمبر نہیں بھیجامگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ انہیں خوب کھول کر سمجھا سکے۔) پیش کر کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر نازل ہونے والے ان الہامات پر اعتراض کیا جاتا ہے جو کہ ان زبانوں میں ہوئے جن سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کچھ بھی واقفیت نہ تھی جیسے انگریزی یا سنسکرت یا عبرانی وغیرہ۔

2۔        نیز حضرت مسیح موعود ؑ کی مندرجہ ذیل تحریر پیش کر کے اسے آپکے الہاموں کے خلاف دلیل قرار دیا جاتا ہے :

’’ یہ بالکل غیر معقول اور بیہودہ امر ہے کہ انسان کی اصل زبان تو کوئی ہو اور الہام اس کو کسی اور زبان میں ہو جس کو وہ سمجھ بھی نہیں سکتا کیونکہ اس میں تکلیف مالا یطاق ہے اور ایسے الہام سے فائدہ کیا ہوا جو انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘    (چشمۂ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 218 )

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter