AskAhmadiyyat

جواب از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب

آنحضرتﷺ کی پیشگوئی کے مطابق آپؐ کے غلام صا دق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس زمانے کے حکم و عدل بن کر مبعوث ہوئے۔ آپؑ کے کارہائے نمایاں کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ کے صاحبزادے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؒ تحریر فرماتے ہیں:۔

’’مسیح موعود  کا پہلا کام اختلافات اندرونی کے  متعلق حکم ہو کر فیصلہ کرنا تھا سو اس کے متعلق جاننا چاہیے کہ اس زمانہ میں امت محمدیہ کے اندرونی اختلافات چند قسموں پر مشتمل ہیں :۔

اول:۔    صفات باری تعالیٰ کے متعلق اختلافات۔              دوم:۔    ملائکہ کے متعلق اختلافات     سوم:۔ سلسلہ رسالت کے متعلق اختلافات ۔             چہارم:۔  بعث بعد الموت اور جزاء سزااور جنت و دوزخ۔      پنجم:۔     مسئلہ تقدیر خیر و شر کے متعلق اختلافات

ششم:۔  خلافت راشدہ کے متعلق اختلافات        ہفتم:۔قرآن و حدث کے مرتبہ کے متعلق اختلافات           ہشتم:۔اہل حدیث و اہل فقہ کے متعلق اختلافات             نہم:۔مسائل علمی کے متعلق اختلافات                دہم:۔مسائل فقہی کے متعلق اختلافات ۔

یہ وہ دس قسم کے اختلافات ہیں جنہوں نے اس زمانہ میں اسلامی دنیا میں ایک اندھیر مچا رکھا تھا اور علاوہ آپس کی تُو تُو مَیں مَیں کے ، ان کی وجہ سے مسلمانوں میں ایسی ایسی باتیں پیدا ہو گئی تھیں جنہوں نے اسلام کو دنیا میں بدنام کر دیا تھا اور دشمن کو اسلام پر حملہ کرنے کا ایک بہت بڑا موقعہ ہاتھ آگیا تھا اور فہمیدہ مسلمان اس بات سے تنگ آکر اور کوئی مخلصی کی راہ نہ دیکھ کر اسلام کی حالت پر خون کے آنسو بہاتے تھے اور بعض کمزور ا یمان تو اسلام کو خیر باد کہہ رہے تھے ۔ ایسے طوفان عظیم کے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق حضرت مرزا صاحب کو حکم و عدل بنا کر مبعوث فرمایا۔ جنہوں نے آتے ہی اپنا سفید جھنڈا بلند کر دیا اور پکار کر کہا ۔ ادھر آؤ کہ خدا نے مجھے تمہارے اختلافات میں حکم بنا کر بھیجا ہے ۔ آؤ کہ میں تمہارے اختلافات میں سچا سچا فیصلہ کر وں گا۔ اس کے بعد آپ اس روحانی عدالت کی کرسی پر جلوہ افروز ہو گئے اور قضاء کا کام شرو ع ہوا۔‘‘

(حوالہ -:تبلیغ ہدایت ۔ صفحہ 105-106)

پھر دوسرے اہم کام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’دوسرا کام مسیح موعود کا بیرونی حملوں کو رد کرنا اور دوسرے  مذاہب کے مقابل پر اسلام کو غالب کر دکھانا تھا اور اسلام کی تبلیغ کو وسیع کر کے اسلام کے نام پر ساری دنیا کو اور خصوصًا ممالک مغربی کو فتح کرنا تھا۔ یہ کام بھی جس خیر و خوبی سے انجام پایا اور پا رہا ہے وہ اپنی نظیر آپ ہی ہے ۔‘‘

پھر فرماتے ہیں:۔

’’آپؑ نے چار مختلف مرحلوں سے کسر صلیب اور قتل دجال کا کام انجام دیا :۔

اول۔     وہ اختلافات اندرونی جنہوں نے اسلام کو بدنام کر رکھا تھا اور عیسائیوں کو اسلام کے خلاف بڑا دلیر کر دیا تھا انکو آپ نے دلائل نیرہ سے صاف کر دیا۔

دوسرے۔            آپ نے عقل و نقل سے مسیحیت کے اصولی عقائد کا بطلان ثابت کیا اور اس بحث میں دلائل کا ایک سورج چڑھا دیا اور مسیحیوں کو ایک بڑے مباحثہ میں مغلوب کیا۔

تیسرے۔            آپ نے واقعہ صلیب اور وفات مسیح اور قبر مسیح ناصری کے متعلق تاریخی تحقیقات کر کے مسیحی مذہب پر وہ کاری ضرب لگائی جس نے اس کو جڑ سے کاٹ کر رکھ دیا۔

چوتھے۔  دعا اور روحانی مقابلوں اور زبردست الٰہی نشانوں کے ذریعہ آپ نے مسیحیت کے مقابل میں اسلام کو غالب کر دکھایا۔‘‘

(تبلیغ ہدایت ۔ صفحہ130)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا تیسرا کام بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’تیسرا کام مسیح موعود کا یہ بتایا گیا تھا کہ وہ کھوئے ہوئے ایمان کو پھر دنیا میں قائم کرے گا۔ یعنی اس کے زمانہ میں حقیقی ایمان دنیا سے مفقود ہو چکا ہو گا، لیکن وہ پھر دوبارہ ایمان کو دنیا میں واپس لائے گا ۔ ‘‘

(تبلیغ ہدایت صفحہ 192)

’’احمدیہ جماعت نے ہر قسم کی قربانی کر کے اس بات پر مہر لگا دی ہے کہ اُن کی سب سے پیاری چیز ایمان ہے جس پر وہ ہر دنیوی چیز قربان کر دینے کو تیار ہیں۔ پس ثابت ہو گیا کہ ان میں وہ ایمان ہے جس کے متعلق مُخبرصادق نے خبر دی تھی کہ وہ دنیا سے اٹھ جائے گا مگر مسیح موعود اسے پھر دنیا میں لا کر قائم کرے گا۔ پس الحمد للہ کہ اس جہت سے بھی مسیح موعود کی علامت حضرت مرزا صاحب ؑ میں نمایاں طور پر پوری ہوئی ۔‘‘

(تبلیغ ہدایت صفحہ 209)

مکمل کتاب پڑھنے کےلئے مندرجہ ذیل لنک پر کلک کریں۔

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter