AskAhmadiyyat

احادیث میں مذکور آنحضرتﷺ کےاسمائے مبارکہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم میں بیان شدہ اسمائے مبارکہ کے علاوہ اپنے یہ نام اور منصب بھی بیان فرمائے۔

1۔        آپؐ الماحی ہیں

2۔        آپؐ الحاشر ہیں

3۔        آپؐ العاقب ہیں

 

(بخاری کتاب المناقب ـ باب ماجاء فی اسماء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)

 

4۔        آپؐ المقفّٰی ہیں

5۔        آپؐ نبی الرحمہ ہیں

6۔        آپؐ نبی التوبہ ہیں

7۔        آپؐ نبی الملحمہ ہیں

 

(مسند احمد بن حنبل۔ جلد4۔ صفحہ404۔المکتبہ الاسلامی بیروت)

 

8۔        آپؐ سید ولد آدم ہیں

9۔        آپؐ شفیع ہیں

 

(مسند احمد بن حنبل۔ جلد3۔ صفحہ2۔المکتبہ الاسلامی بیروت)

 

10۔آپ ؐصاحب وسیلہ ہیں

 

(ترمذی۔ ابواب المناقب۔ باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

 

11۔      آپؐ حاملِ لواء الحمد ہیں

 

(ترمذی۔ ابواب المناقب۔ باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

 

12۔     آپؐ اکرمُ الاولین والآخرین ہیں

 

(ترمذی۔ ابواب المناقب۔ باب ماجاء فی فضل النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

 

13۔     آپؐ آخر الانبیاء ہیں

 

(مسلم کتاب الحج باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)

 

14۔     آپؐ محل ہیں

15۔     آپؐ محرم ہیں

 

(مسلم۔ کتاب الصید والذبائح۔باب اباحۃ اکل لحم الخیل)

 

ہم نے یہاں نمونۃًچند دعاوی واسمائے مبارکہ قارئین کی خدمت میں پیش کئے ہیں جبکہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جامع جمیع صفات الٰہیہ ہیں۔ آپ کے دعاوی آپ کی صداقت اور عظمت کے آئینہ دار ہیں۔ پس ہم معترض کی منطق کو انہیں پر الٹا کر یہ سوال کرتے ہیں کہ اس کے مطابق کیا ان کے نزدیک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بکثرت دعاوی آپؐ کو (نعوذ باللہ، نعوذ باللہ) جھوٹا ثابت کرتے ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم ہر گز نہیں۔ آپ کا ایک ایک نام اور ایک ایک دعویٰ آپ کی بلند شان کی عکاسی کرتا ہے۔

کوئی بھی اعتراض کرنے سے قبل یہ سوچنا چاہیے کہ اس  کی زد کہاں تک پہنچ سکتی ہے ۔

We recommend Firefox for better fonts view.