AskAhmadiyyat

ہسٹیریا کے اعتراض سے متعلق اصل روایت اور اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صا حب کی وضاحت

اصل روایت اور اس پر حضرت مرزا بشیر احمد صا حب(حضرت مرزا صاحبؑ کے  صاحبزادے ) کی وضاحت پیش ہے۔

{ 19}    بسم اللہ الرحمن الرحیم ۔بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کو پہلی دفعہ دوران سر اور ہسٹیریا کا دورہ بشیراوّل (ہمارا ایک بڑا بھائی ہوتا تھا جو۱۸۸۸ء میں فوت ہوگیاتھا ) کی وفات کے چند دن بعد ہوا تھا ۔رات کو سوتے ہوئے آپ کو اتھو آ یا اور پھر اس کے بعد طبیعت خراب ہوگئی مگر یہ دورہ خفیف تھا۔پھر اس کے کچھ عرصہ بعدآپ ایک دفعہ نماز کیلئے باہر گئے اور جاتے ہوئے فرما گئے کہ آج کچھ طبیعت خرا ب ہے ۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے بعد شیخ حامد علی (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک پرانے مخلص خادم تھے اب فوت ہو چکے ہیں ) نے دروازہ کھٹکھٹایا کہ جلدی پانی کی ایک گاگر گرم کر دو۔والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ   میں سمجھ گئی کہ حضرت صاحب کی طبیعت خراب ہوگئی ہوگی چنانچہ میں نے کسی ملازم عورت کو کہا کہ اس سے پوچھو میاں کی طبیعت کا کیا حال ہے ۔شیخ حامدعلی نے کہا کہ کچھ خراب ہوگئی ہے ۔میں پردہ کر اکے مسجد میں چلی گئی تو آپ لیٹے ہوئے تھے میں جب پاس گئی تو فرمایا کہ میری طبیعت بہت خراب ہو گئی تھی لیکن اب اِفاقہ ہے ۔میں نماز پڑھا رہاتھا کہ میں نے دیکھا کہ کوئی کالی کالی چیز میرے سامنے سے اُٹھی ہے اور آسمان تک چلی گئی ہے پھر میں چیخ مار کر زمین پر گر گیا اور غشی کی سی حالت ہوگئی ۔والدہ صاحبہ  فرماتی ہیں اس کے بعد سے آپ کو باقاعدہ دورے پڑنے شروع ہو گئے ۔ خاکسارنے پوچھا دورہ میں کیا ہوتا تھا ۔والدہ صاحبہ نے کہا ہاتھ پاؤں ٹھنڈے ہو جاتے تھے اوربدن کے پٹھے کھچ جاتے تھے خصوصاً گردن کے پٹھے اور سر میں چکر ہوتا تھا اور اس وقت آپ اپنے بدن کو سہار نہیں سکتے تھے ۔شروع شروع میں یہ دورے بہت سخت ہوتے تھے پھر اس کے بعد کچھ تو دوروں کی ایسی سختی نہیں رہی اور کچھ طبیعت عادی ہوگئی ۔ خاکسار نے پوچھا اس سے پہلے تو سر کی کوئی تکلیف نہیں تھی ؟ والدہ صاحبہ نے فرما یا پہلے معمولی سر درد کے دورے ہو ا کرتے تھے ۔خاکسار نے پوچھا کیا پہلے حضرت صاحب خود نماز پڑھاتے تھے والدہ صاحبہ نے کہا کہ ہاںمگر پھر دوروں کے بعد چھوڑ دی ۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ یہ مسیحیت کے دعویٰ سے پہلے کی بات ہے ۔

(اس روایت میں جو حضرت مسیح موعود ؑکے دوران سر کے دوروں کے متعلق حضرت والدہ صا حبہ نے ہسٹیریا کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس سے وہ بیماری مراد نہیں ہے جو علم طب کی رو سے ہسٹیریا کہلاتی ہے۔ بلکہ یہ لفظ اس جگہ ایک غیر طبی رنگ میں دوران سر اور ہسٹیریا کی جزوی مشابہت کی و جہ سے استعمال کیا گیا ہے۔ ورنہ جیسے کہ حصہ دوم کی روایت نمبر۳۶۵ و ۳۶۹میں تشریح کی جا چکی ہے۔ حضرت مسیح موعود کو حقیقتًا ہسٹیریا نہیں تھا چنانچہ خود حضرت مسیح موعود نے جہاں کہیں بھی اپنی تحریرات میں اپنی اس بیماری کا ذکر کیا ہے ۔ وہاں اس کے متعلق کبھی بھی ہسٹیریا وغیرہ کا لفظ استعمال نہیں کیا اور نہ ہی علم طب کی رو سے دوران سر کی بیماری کسی صورت میں ہسٹیریا  یا مراق کہلا سکتی ہے۔ بلکہ دوران سر کی بیماری کے لئے انگریزی میں غالباً ورٹیگو(vertigo) کا لفظ ہے جو غالباً سردرد ہی کی ایک قسم ہے جس میں سر میں چکر آتا ہے اور گردن وغیرہ کے پٹھوں میں کھچاوٹ محسوس ہوتی ہے۔ اور اس حالت میں بیمار کے لئے چلنا یا کھڑے ہونا مشکل ہو جاتا ہے ۔ لیکن ہوش و حواس پر قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چنانچہ خاکسار راقم الحروف نے متعدد  دفعہ حضرت مسیح موعود ؑ کو دورے کی حالت میں دیکھا ہے اور کبھی بھی ایسی حالت نہیں دیکھی۔ جس میں ہوش و حواس پر کوئی اثر پڑا ہو اور حضرت مسیح موعود کی یہ بیماری بھی دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک پیشگوئی کے مطابق تھی۔ جس میں  بتایا گیا تھا کہ مسیح موعود  دو  زرد  چادروں (یعنی دو بیماریوں) میں لپٹا ہوا نازل ہو گا۔ دیکھو مشکوٰۃ باب اشراط الساعۃ  بحوالہ مسلم وغیرہ۔ اور روایت میں جو یہ لفظ آتے ہیں کہ پہلے دورے کے وقت آپ نے کوئی کالی کالی چیز آسمان کی طرف اٹھتی دیکھی۔ سو دوران سر کے عارضہ میں یہ ایک عام بات ہے کہ سر کے چکر کی وجہ سے اردگرد کی چیزیں گھومتی ہوئی اوپر کو اٹھتی نظر آتی ہیں اور بوجہ اس کے کہ ایسے دورے کے وقت مریض کا میلان آنکھیں بند کر لینے کی طرف ہوتا ہے۔ عموماً یہ چیزیں سیاہ رنگ اختیار کر لیتی ہیں اور دورے میں غشی کی سی حالت ہو جانے سے جیسا کہ خود الفاظ بھی اسی حقیقت کو ظاہر کر رہے ہیں۔ حقیقی غشی مراد نہیں بلکہ بوجہ زیادہ کمزوری کے آنکھیں نہ کھول سکنا یا بول نہ سکنا مراد ہے۔ واللہ اعلم)

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر19)

اس کی مزید وضاحت ان دو روایات، جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے،سے ہوتی ہے جو حسب ذیل ہیں۔

”  بسم اللہ الرحمن الرحیم۔مولوی شیر علی صا حب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سیر کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا۔کہ انبیاء کے متعلق بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان کو ہسٹیریا کا مرض ہوتا ہے لیکن یہ ان کی غلطی ہے ۔دراصل بات یہ ہے کہ انبیاء کے حواس میں چونکہ بہت غیرمعمولی حدت اور تیزی پیدا ہو جاتی ہے۔اس لئے نا واقف لوگ غلطی سے اسے ہسٹیریا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ حالانکہ دراصل وہ ہسٹیریا نہیں ہوتا بلکہ صرف ظاہری صورت میں ہسٹیریا سے ملتی جلتی حالت ہوتی ہے ۔ لیکن لوگ غلطی سے اس کا نا م ہسٹیریا رکھ دیتے ہیں۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر367)

” بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ ڈاکٹر میر محمدؐ اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ میں نے کئی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سُناہے کہ مجھے ہسٹیریا ہے ۔بعض اوقات آپ مراق بھی فرمایا کرتے تھے لیکن در اصل بات یہ ہے کہ آپ کو دماغی محنت اور شبانہ روز تصنیف کی مشقت کی وجہ سے بعض ایسی عصبی علامات پیدا ہو جایا کرتی تھیں جو ہسٹیریا کے مریضوں میں بھی عموماً دیکھی جاتی ہیں ۔مثلاً کام کرتے کرتے یکدم ضعف ہو جانا۔چکروں کاآنا ۔ہاتھ پاؤں کا سرد ہوجانا ۔ گھبراہٹ کا دورہ ہو جانا یا ایسا معلوم ہوناکہ ابھی دم نکلتا ہے یا کسی تنگ جگہ یا بعض اوقات زیادہ آدمیوں میں گھر کر بیٹھنے سے دل کا سخت پریشا ن ہونے لگنا وغیر ذالک۔یہ اعصاب کی ذکاوت حس یا تکان کی علامات ہیں اور ہسٹیریا کے مریضوں کو بھی ہوتی ہے اور انہی معنو ں میں حضرت صاحب کو ہسٹیریا یا مراق بھی تھا ۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری جگہ جو مولوی شیر علی صاحب کی روایت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ یہ جو بعض انبیاء کے متعلق لوگوں کا خیال ہے کہ ان کو ہسٹیریا تھا یہ ان کی غلطی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ حس کی تیزی کی وجہ سے ان کے اندر بعض ایسی علامات پیدا ہو جاتی ہیں جو ہسٹیریا کی علامات سے ملتی جلتی ہیں ۔ اس لئے لوگ غلطی سے اسے ہسٹیریا سمجھنے لگ جاتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب جو کبھی کبھی یہ فرمادیتے تھے کہ مجھے ہسٹیریا ہے یہ اسی عام محاورہ کے مطابق تھاورنہ آپ علمی طورپر یہ سمجھتے تھے کہ یہ ہسٹیریا نہیں۔بلکہ اس سے ملتی جلتی علامات ہیں جوذکاوت حس یا شدت کار کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہیں ۔نیز خاکسارعرض کرتا ہے کہ ڈاکٹر میرمحمدؐ اسماعیل صاحب ایک بہت قابل اور لائق ڈاکٹر ہیں ۔چنانچہ زمانہ طالب علمی میں بھی وہ ہمیشہ اعلیٰ نمبروں میں کامیاب ہوتے تھے اور ڈاکٹری کے آخری امتحان میں تمام صوبہ پنجاب میں اوّل نمبر پر رہے تھے اور ایّام ملازمت میں بھی ا ن کی لیاقت و قابلیت مسلّم رہی ہے ۔اور چونکہ بوجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بہت قریبی رشتہ دار ہونے کے ان کو حضرت صاحب کی صحبت اور آپ کے علاج معالجہ کا بھی بہت کافی موقعہ ملتا رہتا تھا اس لئے ان کی رائے اس معاملہ میں ایک خاص وز ن رکھتی ہے جو دوسری کسی رائے کو کم حاصل ہے۔”

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر372)x

    We recommend Firefox for better fonts view.