AskAhmadiyyat

ہسٹیریا کے اعتراض کا عمومی جواب

مخالفین کا ازل سے یہ شیوہ رہا ہے کہ پوری تحریر میں سے ایک بات لے لیتے ہیں اور اس پر اعتراض کی پوری عمارت کھڑی کردیتے ہیں جبکہ  اگلی چند سطور میں ہی اس بات کی وضاحت موجود ہوتی ہے۔چنانچہ اس روایت کے سلسلہ میں بھی اسی خیانت سے کام لیا گیا ہے۔

 انبیاء بھی انسان ہوتے ہیں اور بشری بیماریاں بھی انہیں لاحق ہو سکتی ہیں۔

حضرت بانی جماعت احمدیہ ؑ کی اہلیہ دہلی سے تعلق رکھتی تھیں۔ اُنکا آپؑ کے متعلق ہسٹیریا کی بیماری کا کہنا حقیقی بیماری کو ظاہر نہیں کرتا بلکہ محض بیماری کی بعض علامات کے باعث انہوں نے یہ کہاہے۔ اسی طرح حضرت بانی جماعت احمدیہؑ کے خسر ، حضرت میر ناصر نواب صاحب  بھی دہلی کے تھے ۔ اور ان کا بھی آپؑ کی وفات کی وجہ وبائی ہیضہ کہنا حقیقتًا ہیضہ ہونے کی دلیل نہیں ۔ بلکہ وہ اپنے دہلی کے محاورہ کے لحاظ سے یہ بات کر رہے تھے۔ پس یہ لفظ اس جگہ ایک غیر طبی رنگ میں دوران سر اور ہسٹیریا کی جزوی مشابہت کی و جہ سے استعمال کیا گیا ہے۔

    We recommend Firefox for better fonts view.

    Follow by Email
    Facebook
    Twitter