AskAhmadiyyat

معترضہ الہام کے بعد دوسرا الہام ہوا جس کا مطلب تھا اب کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی

معترضہ تحریر حسب ذیل ہے:۔

’’اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ وَھَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اَرْبَعَۃً مِنَ الْبَنِیْنَ وَ اَنْجَزَ وَعْدَہُ مِنَ الْاِحْسَانِ بَشَّرَنِیْ بِخامِسٍ فِیْ حِیْنٍ مِّنَ الْاَحْیَانِ ‘‘

(مواھب  الرحمان۔روحانی خزائن جلد 19ص360)

ترجمہ :۔ تمام تعریف اُسی ذات کو زیبا ہے جس نے بڑھاپے کے باوجود مجھے چار بیٹے عطا کئے اور ازراہِ احسان اپنا وعدہ پورا کیا۔ نیز آئندہ کسی وقت پانچویں کی (بھی)مجھے بشارت دی ۔

جواب

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

تیسری بات جس پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ پانچویں بیٹے کی پیشگوئی ہے جس کی نسبت مخالفین سلسلہ کا خیال ہے کہ وہ اب تک پوری نہیں ہوئی۔ کیونکہ حضرت اقدس ؑ نے مواہب الرحمن کے صفحہ 139پر صاف طور سے لکھا تھا۔ کہ بَشَّرَنِیْ بِخامِسٍ فِیْ حِیْنٍ مِّنَ الْاَحْیَانِ یعنی مجھے ایک پانچویں بیٹے کی بشارت دی گئی ہے اور اسی طرح اور بہت سے الہامات سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ ؑ کے ہاں ایک اور لڑکا پیدا ہونے والا ہے مثلاً یہ کہ اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ حَلِیْمٍ یَنْزِلُ مَنْزِ لَ الْمُبَارَکِ سَاھَبُ لَکَ غُلَاماً زَکِیًّا۔ رَبِّ ھَبْ لِیْ ذُرِّیَّةً طَیِّبَةً اِنَّا نُبَشِّرُکَ بِغُلَامٍ اِسْمُہ یَحییٰ۔ مَظْھَرُ الْحقِّ وَالْعُلا کَاَ نَّ اللہ نَزَلَ مِنَ السَّمَاءِ ۔

پھر اس کے بعد الہام ہوا ” کَفٰی ھٰذَا“ ۔ اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ یہ مبارک احمد کی ولادت کے وقت کے الہام ہیں ۔۔۔ اور دوسرے الہام کے یہ معنی ہیں کہ یہ نسل یا یہ اولاد کافی ہے ۔ اور اب اس کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی۔

 

مگر ان پیشگوئیوں کے ساتھ ہی مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس کا ایک الہام جو کہ اخبار الحکم 30جون 1899ء کو شائع ہو چکا ہے۔ یعنی اِنِّی اَسْقُطُ مِنَ اللّٰہ وَ اُصِیْبُہ یعنی میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہوں اور اسی کی طرف جاتا ہوں ۔ پھر اس کے بعد الہام ہوا ” کَفٰی ھٰذَا “ ۔ اور ساتھ ہی لکھا ہے کہ یہ مبارک احمد کی ولادت کے وقت کے الہام ہیں اب ہر ایک غور کرنے والا انسان سمجھ سکتا ہے کہ پہلے الہام سے تو ثابت ہوتا تھا کہ ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو بچپن میں ہی فوت ہو جائے گا ۔ اور دوسرے الہام کے یہ معنی ہیں کہ یہ نسل یا یہ اولاد کافی ہے ۔ اور اب اس کے بعد کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوگی چنانچہ پہلے الہام کے مطابق مبارک احمد آٹھ سال کی عمر میں فوت ہو گیا ۔ اور دوسرے الہام کے مطابق آپ کے ہاں اور کوئی نرینہ اولاد نہیں ہوئی اور تین چار برس کا عرصہ دراز گذرا کہ آپ کو الہام ہوا کہ اِنَّا نُبَشِّرُ کَ بِغُلَامٍ اورا س الہام کو آپ نے اپنے پوتے پر لگایا۔ کیونکہ جب دونوں کلام خدا کی طرف سے تھے تو ان میں تناقض نہیں ہونا چاہئے تھا اور دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہونے چاہئیں تھے ۔ چنانچہ ملہم نے بھی اسی بات کے خیال سے آئندہ بیٹے کے الہام کو اپنے پوتے پر چسپاں کیا ۔ کیونکہ پوتا بھی بیٹے کے قائمقام ہوتا ہے ۔ پس اس کے بعد لازم ہے کہ ہر ایک الہام جو آئندہ بیٹے کی نسبت ہو وہ آئندہ نسل کے لئے ہو ۔

زبان کے لحاظ سے بھی بیٹا آئندہ نسل کے کسی فرد پربھی بولا جاتا ہے

اور پھر یہ بھی غور کرنا چاہئے کہ زبان کے لحاظ سے بھی بیٹا آئندہ نسل کے کسی فرد پربھی بولا جاتا ہے چنانچہ عربی میں اس طرح کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔ چنانچہ اکثر قبیلوں کے نام ان کے کسی بزرگ کے نام پر ہوتے ہیں ۔ اور وہ اس کی اولاد کہلاتے ہیں ۔ چنانچہ بنو ہاشم اور بنو قریظہ کے دو قبیلے جو مکہ اور مدینہ کے ہیں مسلمانوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ایک تو وہ قبیلہ ہے جس سے نور اسلام کا درخت پھوٹا اور ایک وہ ہے جس نے اس کے تباہ کرنے کا بیڑا اٹھایا ۔ اور پھر بنی امیہ کی خلافت اور بنی عباس کی سلطنت بھی فراموش نہیں کی جاسکتیں ۔ اے دلوں کے اندھو ! غور کرو ! ! کیا ہارون الرشید اور مامون الرشید عباس کے بیٹے تھے یا خلیفہ مروان اور عمر بن عبد العزیز امیہ کے لڑکے تھے ؟ ہاں ذرا تدبر سے کام لو اور دیکھو ! کہ حضرت اقدس ؑ کا ایک الہام ہے جو آج سے تیس برس پہلے شائع ہو چکا ہے کہ یَنْقَطِعُ مِنْ اٰبٓاءِ کَ وَ یُبْدَء ُ مِنْکَ یعنی آئندہ تیرے بڑوں کا نام اڑایا جائے گا اور تیری نسل کا نام تجھ سے مشہور ہوگا ۔ اور دوسرے یہ کہ اوروں کی نسل ہلاک کی جائے گی اور آپ کی رکھی جائے گی۔ مگر وہ جو تقویٰ اختیار کریں وہ اس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ مگر بہر حال آئندہ نسل آپ کے نام پر شروع ہوگی اور آپ کی اولاد کہلائے گی ۔ سو اگر اس الہام کی بناء پر ایک آئندہ ہونے والے لڑکے کی بشارت اس رنگ میں دے دی گئی کہ وہ تیری ہی اولاد سے ہوگا تو کیا حرج ہوا۔ جب دنیا اپنے طور پر ایک شخص کو صدیوں گزرنے کے بعد بھی ایک دوسرے شخص کا بیٹا قرار دیتی ہے ۔ اور عمر بن عبد العزیز اور ہارون الرشید امیہ اور عباس کے لڑکے کہلاتے ہیں۔ تو کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود ؑ کی نسل میں سے کسی آئندہ آنے والے لڑکے کو ان کے لڑکے کے نام سے پکار نہ سکے ۔ کیا وہ کام جس کا انسان کو اختیار ہے خدا اس کے کرنے سے معذور ہے ؟ یا جب دنیا کے طالب ایک شخص کو کسی پہلے گذرے ہوئے شخص سے نسبت دیتے ہیں حالانکہ وہ اس کا مستحق نہیں ہوتا ۔ تو کیا خدا جو خوب جانتا ہے کہ کون کس سے نسبت دئیے جانے کے لائق ہے ایسا نہیں کرسکتا؟ آج وہ سید جو ہزاروں قسم کی بدیوں میں مبتلاء ہیں اور لاکھوں گناہوں کے مرتکب ہوتے ہیں اور سینکڑوں قسم کی بدکاریاں صبح اور شام ان سے سرزد ہوتی ہیں۔ اور وہ جن کے اقوال ایک شریف آدمی کی زبان پر نہیں لائے جاسکتے۔ اور جن کے افعال ایسے نہیں ہیں کہ نیکوں کی مجلس میں ان کا ذکر بھی کیا جائے تو آل محمد ﷺ کہلانے کے مستحق ہیں ۔ مگر حضرت مسیح موعود ؑ کی نسل میں سے کسی لڑکے کو اگر خدا تعالیٰ نے کسی مصلحت کی وجہ سے ان کا لڑکا قرار دیا اور اس کے وجود کی ان کو بشارت دی تو وہ ناجائز ٹھہرا؟ کیا یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ خدا ان سے بھی زیادہ محدود طاقتوں والا ہے؟ یا اس کو نسبت دینے کا علم نہیں اور وہ اس بارے میں غلطی کر بیٹھا ہے؟ (نعوذ باللہ) آج سینکڑوں نہیں ہزاروں لیکچر ار اپنی تقریروں میں زور زور سے چلا چلا کر کہتے ہیں کہ اے بنی آدم ایسا مت کرو ۔ ایسا کرو۔ مگر ان سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ہمارے باپ کا نام تو آدم نہ تھا پھر تم کیوں ہم کو اس نام سے پکارتے ہو ۔ مگر حضرت صاحب ؑ کی نسل میں سے ایک بچہ کو اگر ان کا لڑکا قرار دیا گیا تو کون سا اندھیر آگیا۔ کَفیٰ ھٰذَا کا الہام صاف ثابت کرتاہے کہ بیٹے کے الہام آئندہ نسل کے کسی لڑکے کی نسبت ہیں۔ اور پھر وہ الہام جس میں ہے کہ تیری اولاد تیرے نام سے مشہور ہوگی ۔ اس کی اور بھی تائید کرتا ہے کہ آئندہ نسل کو بھی حضرت مسیح موعود ؑ کا بیٹا کہا جاسکتا ہے ۔ خدا تعالیٰ تو خوب جانتا ہے کہ کون ان کا بیٹا بننے کے لائق ہے اس لئے اگر کسی عظیم الشان لڑکے کی نسبت جو دنیامیں ایک تبدیلی پیدا کر دے خبر دی جائے اور اس کو حضرت صاحب ؑ کا بیٹا قرار دیا جائے تو کیا حرج ہے ۔ نبی کریم ﷺ نے بھی تو فرمایا ہے کہ اہل فارس میں سے جو ایمان لائے وہ بنی فاطمہ میں سے ہے پس کیا اہل فارس خود حضرت فاطمہ ؓ کے لڑکے بن جاتے ہیں۔

قرآن شریف میں یہودیوں کو بار بار بنی اسرائیل کے نام سے پکارا جاتا ہے حالانکہ اسرائیل کو فوت ہوئے قریباً اڑھائی ہزار برس گذر گئے تھے۔

اور پھر اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ جیسے قرآن وحدیث میں کثرت سے یہ محاورہ استعمال ہوتا ہے تو حضرت مسیح موعود ؑ سے اگر خدا تعالیٰ نے اس رنگ میں کلام کیا تو کیا حرج واقعہ ہوا مثلاً قرآن شریف میں یہودیوں کو بار بار بنی اسرائیل کے نام سے پکارا جاتا ہے حالانکہ اسرائیل کو فوت ہوئے قریباً اڑھائی ہزار برس گذر گئے تھے۔ اور یہودیوں کو پھر بھی خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے نام سے پکارا اگر یہ محاورہ عرب کا نہ ہوتا اور کتب الہیہ میں ایسا طریق نہ ہوتا تو اس وقت کے یہودی جو بات بات پر اعتراض کرتے تھے فوراً بول اٹھتے اور شور مچا دیتے کہ دیکھو ایسا مت کہو ہم بنی اسرائیل نہیں ۔ اور اپنے والدین کا نام بتاتے کہ ان لوگوں کی اولاد سے ہیں ۔ اور پھر قرآن شریف میں حضرت ابراہیم ؑ کی نسبت آتاہے کہ وَ وَ ھَبْنَا لَہ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ (الانعام:85) یعنی ہم نے حضرت ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ عطا کئے حالانکہ حضرت یعقوب ؑ حضرت ابراہیمؑ کے بیٹے نہ تھے بلکہ حضرت اسحاق ؑ کے لڑکے تھے ۔ پس معلوم ہوا کہ خدا کے کلام میں ایسا آجاتا ہے اور اس میں اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ اور پھر قرآن شریف میں آتاہے وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَا قَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ(البقرہ۔ 64) حالانکہ مخاطب تو وہ تھے جو نبی کریمﷺ کے مخالف تھے ۔ اور حوالہ ان کا دیا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں گذرے ہیں ۔ کیا یہودیوں کا حق نہ تھا کہ وہ کہتے کہ کہ یہ غلط ہے ہم سے طور کے نیچے کوئی معاہدہ نہیں لیا گیا ۔ مگر افسوس کہ وہ آج کل کے معترضین سے زیادہ سمجھ رکھتے تھے اور جانتے تھے کہ کبھی پہلوں کا نام لیا جاتا ہے اور مخاطب پچھلے کئے جاتے ہیں اور پہلے مراد ہوتے ہیں۔ اور بیٹے سے پوتا یا پڑپوتا یا نسل میں سے کوئی اور شخص مراد ہو سکتا ہے اور اس میں کوئی اعتراض کی بات نہیں ہوتی ۔ پھر مسلمانوں کو بہت سے حکم قرآن شریف میں دئے گئے ہیں ۔ مثلاً یٓا َ یُّھَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُم النِّسَاءَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِھِنَّ (الطلاق۔2) یعنی اے نبی جب طلاق دو تم عورتوں کو تو طلاق دو ان کو ان کی عدت پر ۔ تو کیا یہ احکام خاص حضرت نبی کریم ﷺ کے لئے ہیں۔ اور دوسرے مسلمان اس سے بری ہیں۔ اور اگر بفرض محال وہ شامل ہو گئے تو آج کل کے مسلمان تو ضرور اس کی پابندی سے آزاد ہوں گے ۔ پس جب ایسا نہیں ہے اور کلام الہیٰ میں اس قسم کا کلا م آجاتا ہے تو اس بے فائدہ اعتراض سے کیا فائدہ ۔ اعتراض تو ایسا ہونا چاہئے جو عقل کے مطابق ہو اور پہلے انبیاء پر نہ پڑے جب ایک اعتراض سے قرآن شریف اور احادیث صحیحہ اور کل انبیاء علیھم السلام پر حرف آتا ہے تو ایسا اعتراض بجائے فائدہ کے الٹا عذاب الہیٰ کا موجب ہوتا ہے۔ پس وہ جو اس قسم کے اعتراض کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں خوش ہوتے ہیں چاہئے کہ ڈریں ۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی غیرت شریر کو سزا کے بغیر نہیں چھوڑتی اور بے جا طعنہ کرنے والا خود مورد قہر الہیٰ ٹھہرتا ہے ۔ غور کرو کہ قرآن شریف میں صاف آتا ہے وَجَاھِدُوْا فِی اللّٰہِ حَقَّ جِھَادِہ ھُوَ اجْتَبٰکُم ْ وَمَا جَعَلَ عَلَیْکُمْ فِیْ الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ مِلَّةَ اَبِیْکُم ْ اِبْرٰھِیْمَ ھُوَ سَمّٰکُم المُّسْلِمِیْنَ (الحج ۔79)اور کوشش کرو اللہ کی راہ میں خوب کوشش۔ جس نے پسند کیا تم کو اور نہیں کی تمہارے لئے دین میں کوئی تنگی ۔ وہ دین جو تمہارے باپ ابراہیم کا ہے جس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے۔ اب کیا ان آیات سے یہ نکلتا ہے کہ ہر ایک مسلمان کے باپ کا نام ابراہیم ہوتا ہے۔ نہیں ہرگز نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو حضرت ابراہیم ؑ کی طرز پر کام کرتا اور ان کے بتائے ہوئے رستہ پر چلتا ہے اور اسلام قبول کرتا ہے وہ خدا کے نزدیک ایسا ہے جیسے حضرت ابراہیم ؑ کا بیٹا۔ ورنہ یہ بات ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ دنیاکی سینکڑوں قومیں ایسی ہیں جو اسلام میں داخل ہیں مگر حضرت ابراہیم ؑ کی نسل سے نہیں اور نہ ان کی قوم کا حضرت ابراہیم ؑ کے خاندان سے کوئی تعلق ہے پس جب خدا تعالیٰ نے ہر ایک اس شخص کو جو مسلمان ہوتا ہے اور خدا کی راہ میں کوشش کرتاہے حضرت ابراہیم ؑ کا بیٹا قرار دیا اور بیٹے کے لفظ کو اس قدر وسیع کر دیا کہ بنی اسماعیل اور بنی اسرائیل کی بھی کوئی شرط نہ رکھی تو پھر اگر آج اس خدا نے حضرت مسیح موعود ؑ کی نسل میں سے کسی کو انہی کا بیٹا قرار دیا تو کیا حرج ہے؟ جبکہ آج بیس کروڑ انسان جو مسلمان کہلاتے ہیں خواہ عرب کے رہنے والے ہوں یا شام کے غرض یہ کہ ایران ، افغانستان، ہندوستان ، چین ، جاپان کے علاوہ یورپ و امریکہ کے باشندے بھی حضرت ابراہیم ؑ کے بیٹے کہلا سکتے ہیں اور خدا تعالیٰ قرآن شریف میں ان کو ابراہیم ؑ کے بیٹے قرار دیتا ہے تو ایک شخص کو اگر حضرت مسیح موعود ؑ کا بیٹا قرار دیا گیا تو کیا غضب ہوا ۔

ان الہامات سے یہ مراد نہ تھی کہ خود حضرت اقدسؑ سے لڑکا ہوگا بلکہ یہ مطلب تھا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا شخص تیری نسل سے پیدا ہوگا جو خدا کے نزدیک گویا تیرا ہی بیٹا ہو گا۔

پھر حدیث دیکھتے ہیں تو اس میں بھی بہت سے ایسے محاورات پاتے ہیں۔ مثلاً معراج کی رات جب آنحضرت ﷺ نے جبرائیل علیہ السلام سے حضرت ابراہیم ؑ کی نسبت پوچھا کہ یہ کون ہیں تو انہوں نے جواب میں کہا کہ ھٰذَا اَبُوْکَ الصَّالِحُ۔یعنی یہ تیرا نیک باپ ہے ۔ اور ایسا ہی حضرت آدم ؑ کی نسبت فرمایا۔ پس جب قرآن و حدیث سے یہ بات صاف ثابت ہے تو پھر حضرت اقدس ؑ پر کیوں اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کو ایک لڑکے کا وعدہ تھا جو پورا نہ ہوا ۔ خدا کے وعدے ٹلا نہیں کرتے اور وہ پورے ہو کر رہتے ہیں۔ اسی طرح یہاں بھی ہوگا ان الہامات سے یہ مراد نہ تھی کہ خود حضرت اقدس ؑ سے لڑکا ہوگا بلکہ یہ مطلب تھا کہ آئندہ زمانہ میں ایک ایسا شخص تیری نسل سے پیدا ہوگا جو خدا کے نزدیک گویا تیرا ہی بیٹا ہو گا۔ اور وہ علاوہ تیرے چار بیٹوں کے تیرا پانچواں بیٹا قرار دیا جائے گا۔ جیسے کہ حضرت عیسیٰ ؑ ابن داؤد کہلاتے ہیں ایسا ہی وہ آپ ؑ کا بیٹا کہلائے گا اور اس میری بات کی تائید خود حضرت اقدس ؑ کے اس الہام سے بھی ہوتی ہے جو میں اوپر درج کر آیا ہوں یعنی کَفٰی ھٰذَا جس کے معنی یہ تھے کہ حضرت اقدس ؑ کے ہا ں اب نرینہ اولاد نہ ہوگی ۔ چنانچہ اس کے بعد دو لڑکیاں ہوئیں اور لڑکا کوئی نہیں ہوا ۔ اور خود حضرت اقدس ؑ کا بھی یہی خیال تھا۔ کیونکہ انہوں نے بھی ایک الہام جس میں بیٹے کی بشارت تھی اپنے پوتے پر لگایا تھا۔ ورنہ اگر ان کو ہی خیال ہوتا کہ میرے ہی بیٹا ہوگا تو پوتے پر کیوں لگاتے۔ سمجھتے کہ آئندہ بیٹا ہوگا اور وہ الہام پورا ہو جائے گا۔پس صاف ظاہر ہے کہ وہ الہامات کسی آئندہ نسل کے لڑکے کی نسبت تھے۔ خواہ پوتا ہو یا پڑپوتا ہو یا کچھ مدت بعد ہو۔

اب بعض لوگ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ایک شخص جس کے چار لڑکے موجود ہوں کہہ سکتا ہے کہ میرے ایک لڑکا ہو گا اور چونکہ اس کے اولاد موجود ہے اس لئے اس کے کوئی نہ کوئی تو بچہ ہو گاہی پس کیا ہم اس طرح اس کو نبی مان لیں ۔ اس لئے یہ بات بھی یاد رہے کہ اول تو ہم اس کی دیگر نشانیوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس کی نبوت پر گواہی دیتی ہیں یا نہیں اگر واقعی اس کے ساتھ ایسے نشانات ہیں جن سے ایک شخص نبی قرار دیا جاسکتا ہے تو اس میں کیا شک ہے کہ وہ نبی ہے۔ پیشگوئیاں بعض بڑے جلال کی ہوتی ہیں ۔ بعض معمولی درجہ کی ہوتی ہیں اور ذراذرا سے واقعات کی بعض اوقات نبی کو خبر دی جاتی ہے۔ تو اس پر اس بات سے کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا اور دوسرے یہ کہ حضرت اقدس ؑ نے صرف یہ پیشگوئی نہیں کی کہ میرے ایک بیٹا ہوگا بلکہ اس کے ساتھ شرائط رکھے ہیں اور وہ یہ کہ وہ حلیم ہوگا نیک فطرت اور پاک ہوگا۔ اس زمانہ کے لوگوں میں سے ایک خاص امتیاز رکھتا ہوگا۔ اور یحییٰ ؑ نبی کی خصلتوں پر ہوگا۔ اور سب سے بڑی شرط یہ کہ وہ اس جلال کے ساتھ آئیگا کہ گویا اس کے زمانہ میں خدا خود زمین پر اتر آئیگا۔ پس اگر کوئی شخص اس قسم کی پیشگوئی کرے اور وہ اپنے وقت پر پوری بھی ہو جائے تو کیا شک ہے کہ وہ سچا ہے اور اس کے الہام رحمانی ہیں۔ پس معترضین کو چاہئے کہ بجائے ان پیشگوئیوں پر اعتراض کرنے کے ان پیشگوئیوں کو دیکھیں جو اس خاص زمانہ کے لئے ہیں۔ اور جو سینکڑوں کی تعداد میں پوری ہو چکی ہیں اور ہو رہی ہیں۔ اگر آئندہ آنے والی پیشگوئیوں کو نظرِ اعتراض سے دیکھا گیا تو کوئی نبی سچا ثابت نہیں ہو سکے گا مثلاً حضرت موسیٰ ؑ نے خبر دی تھی کہ میری قوم شام کی وارث ہوگی اگر ان کے فوت ہونے سے ان کی قوم بگڑ جاتی اور ان کو کافرودجال ٹھہراتی تو کس قدر مشکل پڑتی۔ یا جب حضرت داؤد ؑ سے وعدے کئے گئے تھے اور وہ حضرت مسیحؑ کے وقت میں پورے ہوئے تو کیا درمیانی زمانہ کے لوگوں کو حق نہ تھا کہ وہ اعتراض کرتے کہ فلاں فلاں وعدہ پورا نہیں ہوا یا حضرت عیسیٰ ؑ نے جب اپنے حواریوں کو تختوں کے وعدے دئیے تھے اور اپنے لئے بادشاہی کی خبر دی تھی تو اس وقت اگر وہ لوگ انکار کر بیٹھتے کہ خود تو سولی پر لٹکایا گیا معلوم نہیں ہمارا کیا حال ہوگا تو کیا ان کے لئے بہتر ہوتا؟یا ہمارے نبی کریم ﷺ نے ریل کی سواری کی خبر دی تھی جو آج کل آکر پوری ہوئی تو کیا بیچ کی بارہ صدیوں کے لوگ دین اسلام کو ترک کر دیتے اور کفر اختیار کر لیتے کہ وہ نئی سواری کا وعدہ پورا نہیں ہوا۔پس جب سب نبیوں سے ایسا ہوتا چلا آیا ہے اور انہوں نے آئندہ زمانہ کی خبریں بھی دی ہیں۔ تو اگر حضرت مسیح موعود ؑ نے آئندہ کی کچھ خبریں دیں اور بتایا کہ میری نسل میں سے ایک ایسا لڑکا ہوگا جس کی ہیبت اس قدر ہوگی کہ گویا خدا آسمان سے اس کی مدد کے لئے اتر آیا تو کیا ہوا؟ اس سے تو ان کی اور بھی سچائی ثابت ہوگی اور اس وقت کے لوگ اس پیشگوئی کو پورا ہوتے دیکھیں گے۔ اور مزہ اٹھائیں گے۔ آج کل کے لوگوں سے جو وعدے ہیں وہ ان پر غور کریں اور ان پر جو شکوک ہیں وہ بیان کریں اور توبہ استغفار ساتھ کرتے رہیں تا انہیں اصل حقیقت معلوم ہو اور خدا اپنے خاص فضل سے ان پر سچائی کھول دے۔اور وہ صراط مستقیم دیکھ لیں تاکہ ہلاکت سے بچ جائیں۔ورنہ جیسا کہ میں لکھ آیا ہوں یہ بیٹے کی پیشگوئی تو کسی ایسے لڑکے کی نسبت ہے جو آپ کی نسل سے ہوگا اور بڑی شان کا آدمی ہوگا۔ اور خدا کی نصرت اس کے ساتھ ہوگی۔ اور یہ بھی میں ثابت کر آیا ہوں کہ حضرت اقدس ؑ کے الہامات میں ہی اس قسم کے استعارہ نہیں ہیں بلکہ پہلے نبیوں کے کلام میں اور قرآن و حدیث میں بھی ہیں کہ بیٹا کہا جاتا ہے اور مراد نسل میں سے کوئی آدمی ہوتا ہے۔“

(انوار العلوم جلد 1 ص 146تا 152)

We recommend Firefox for better fonts view.