AskAhmadiyyat

جہاد بالمال

اللہ تعالیٰ کی راہ میں دین کی اشاعت کے لئے مال خرچ کرنے کو بھی جہاد سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس جہاد کا حکم ان الفاظ میں آیا ہے

وَ جَاھِدُوْا بِاَمْوَالِکُمْ وَ اَنْفُسِکُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ (التوبہ:41)

ترجمہ:۔ اور اپنے اموال اور جانوں کے ذریعہ اللہ کے راستہ میں جہاد کرو۔

جہاد بالمال اور جماعت احمدیہ

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ اس جہاد میں بھی ایک بے مثال اور ممتاز مقام رکھتی ہے۔
1۔   عبد الرحیم اشرف صاحب مدیر المنیر فیصل آباد نے لکھا:۔
”ان (جماعت احمدیہ) کے بعض دوسرے ممالک کی جماعتوں اور افراد نے کروڑوں روپوں کی جائیدادیں صدر انجمن احمدیہ ربوہ اور صدر انجمن احمدیہ قادیان کے نام وقف کر رکھی ہیں”

(ہفت روزہ المنیر2مارچ1956ء۔ صفحہ10)

2۔   مولوی منظور احمد چنیوٹی صاحب نے ایک انٹرویو میں کہا:۔
”ہر قادیانی اپنی آمدنی کا دسواں حصہ اپنے مذہب کی ترویج و اشاعت کے لئے قادیانی جماعت کو دیتا ہے، ہزاروں افراد اپنی جائیداد کے دسویں حصہ کے لئے وصیت کر چکے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 5لاکھ روپے فی گھنٹہ کے حساب سے قادیانی جماعت نے T.V لیا ہوا ہے۔ 24گھنٹے T.V چینل چلتا ہے ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں ہیں”۔

( ہفت روزہ وجود کراچی۔ جلد2۔ 22 تا28 نومبر2000ء۔ شمارہ47۔ صفحہ31)

3۔   مسلک اہل حدیث کا ترجمان ہفت روزہ الاعتصام لکھتا ہے:۔
”ایک تجزےے کے مطابق دنیا میں موجود ہر قادیانی اپنی ماہوار آمدنی کا دس فیصد رضاکارانہ طور پر اپنے مذہب کی تبلیغ پر صرف کرتا ہے۔ کسی ہنگامی ضرورت پر خرچ کرنا اس کے علاوہ ہے انہی ماہانہ فنڈز کی بدولت اس وقت ایک مستقل T.V اور ریڈیو اسٹیشن قائم کیا جاچکا ہے جس سے چوبیس گھنٹے قادیانیت کا تبلیغی مشن جاری رہتا ہے”۔

(اداریہ از حافظ عبد الوحید۔ الاعتصام 11 فروری 2000ء۔ جلد52۔ شمارہ 5۔ صفحہ4)

    We recommend Firefox for better fonts view.

    Follow by Email
    Facebook
    Twitter