AskAhmadiyyat

جہاد بالسیف یا دفاعی جنگ

جہاد کی چوتھی قسم دفاعی جنگ یا جہاد بالسیف ہے یعنی جب دشمن دینی اقدار کو ختم کرنے اور دین کو تباہ و برباد کرنے کے لئے دین پر حملہ آور ہو تو اس وقت دفاعی جنگ کرنے کو جہاد بالسیف کہتے ہیں۔ جیسا کہ ذکر ہوچکا ہے کہ نبی کریم ؐ نے اسے جہاد اصغر قرار دیا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:۔

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰـتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا وَ اِنَّ اللہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُ ـ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلاَّ ۤاَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللہُ

(الحج:40۔41)

 یعنی وہ لوگ جن سے (بلاوجہ) جنگ کی جارہی ہے ان کو بھی (جنگ کرنے کی) اجازت دی جاتی ہے۔ کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا ہے اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے (یہ وہ لوگ ہیں) جن کو ان کے گھروں سے صرف ان کے اتنا کہنے پر کہ اللہ ہمارا رب ہے بغیر کسی جائز وجہ کے نکالا گیا۔
علماء نے دفاعی جنگ کی بعض شرائط بیان کی ہیں جن کی موجودگی کے بغیر یہ جہاد جائز نہیں۔

چنانچہ سید نذیر حسین صاحب دہلوی لکھتے ہیں:۔
”جہاد کی کئی شرطیں ہیں جب تک وہ نہ پائی جائیں جہاد نہ ہوگا”

(فتاویٰ نذیریہ جلد3کتاب الامارۃ والجہاد صفحہ282۔ناشر اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)

مولانا ظفر علی خان صاحب ایڈیٹر اخبار زمیندار لاہور نے درج ذیل شرائط کا ذکر کیا ہے:۔
”1۔ امارت   2۔ اسلامی نظام حکومت   3۔ دشمنوں کی پیش قدمی و ابتدا”

(اخبار زمیندار 14جون 1934ء)

خواجہ حسن نظامی نے جہاد کے لئے (1)۔ کفار کی مذہب میں مداخلت (2)۔امام عادل
(3)۔ حرب و ضرب کے سامان کے ہونے کا ذکر کیا ہے۔ (رسالہ شیخ سنوسی)

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے لکھا کہ :۔
(1)۔مسلمانوں میں امام و خلیفہ وقت موجود ہو (2)۔ مسلمانوں میں ایسی جمیعت حاصل جماعت موجود ہو جس میں ان کو کسر شوکت اسلام کا خوف نہ ہو۔

(الاقتصاد فی مسائل الجہاد از مولوی محمد حسین بٹالوی صفحہ51۔52۔مطبع وکٹوریہ پریس)

خلاصہ یہ کہ علماء کے نزدیک جہاد بالسیف کے لئے پانچ شرائط کا پورا ہونا لازمی ہے اور ان میں سے کسی ایک کے بھی نہ ہونے سے دینی قتال نہیں ہوسکتا اوروہ شرائط یہ ہیں کہ

(1)۔امام وقت کا ہونا (2)۔اسلامی نظام حکومت (3)۔ ہتھیار و نفری جو مقابلہ کے لئے ضروری ہو (4)۔ کوئی ملک یا قطعہ ہو(5)۔دشمن کی پیش قدمی اور ابتداء۔

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter