AskAhmadiyyat

جہاد بالقرآن

اس جہاد سے مراد یہ ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسروں کی بھی فکر کی جائے نیز توحید کے قیام کے لئے بھر پور کوشش کی جائے اور قرآنی تعلیم کی نشر و اشاعت کی جائے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

فَلاَ تُطِعِ الْکَافِرِیْنَ وَ جَاھِدْھُمْ بِہٖ جِہَادًا کَبِیْرًا (الفرقان:53)

ترجمہ:۔ پس تو کافروں کی بات نہ مان اور اس (یعنی قرآن کریم) کے ذریعہ سے ان سے جہاد کر۔

جہاد بالقرآن اور جماعت احمدیہ


جماعت احمدیہ اس جہاد میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔
1۔        مولانا ظفر علی خان ایڈیٹر اخبار زمیندار لاہور نے لکھا:۔
”گھر بیٹھ کر احمدیوں کو برا بھلا کہہ لینا نہایت آسان ہے لیکن اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہی ایک جماعت ہے جس نے اپنے مبلغین انگلستان میں اور دیگر یورپین ممالک میں بھیج رکھے ہیں”

(اخبار زمیندار لاہور دسمبر 1926ء)

2۔         حکیم عبد الرحیم صاحب اشرف مدیر رسالہ المنیر لائلپور لکھتے ہیں:۔
”قادیانیت میں نفع رسانی کے جو جوہر موجود ہیں ان میں اولین اہمیت اس جدو جہد کو حاصل ہے جو اسلام کے نام پر وہ غیر مسلم ممالک میں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ قرآن مجید کو غیر ملکی زبانوں میں پیش کرتے ہیں تثلیث کو باطل ثابت کرتے ہیں۔ سید المرسلین کی سیرت طیبہ کو پیش کرتے ہیں ان ممالک میں مسجدیں بنواتے ہیں اور جہاں کہیں ممکن ہواسلام کو امن و سلامتی کے مذہب کی حیثیت سے پیش کرتے ہیں”

(ہفت روزہ المنیر لائل پور۔ صفحہ10۔ 2 مارچ1956ء)

3۔         قاضی محمد اسلم صاحب سیف فیروز پوری بعنوان ”دینی جماعتوں کے لئے لمحہ فکریہ” لکھتے ہیں:
”قادیانیوں کا بجٹ کروڑوں روپوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تبلیغ کے نام پر دنیا بھر میں وہ اپنے جال پھیلا چکے ہیں ان کے مبلغین دور دراز ملکوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ بیوی ، بچوں اور گھر بار سے دور قوت لایموت پر قانع ہو کر افریقہ کے تپتے ہوئے صحراؤوں میں یورپ کے ٹھنڈے سبزہ زاروں میں، آسٹریلیا، کینیڈا اور امریکہ میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں”

            (ہفت روزہ اہلحدیث لاہور 11 ستمبر1992ء۔ صفحہ 11۔12)

4۔         جناب عبد الحق صاحب بھریا روڈ سندھ اپنے مضمون ”علمائے اسلام سے گذارش” میں لکھتے ہیں:۔
”قادیانی ٹیلیویژن پاکستان کے گھر گھر میں داخل ہو چکا ہے قرآن مجید کی تلاوت و تفسیر، درس احادیث، حمد و نعت اور تمام قوموں کے قادیانیوں خصوصا عربوں کو بار بار پیش کر کے قادیانی ہماری نوجوان نسل کے ذہن پر بری طرح چھا رہے ہیں”۔

(ہفت روزہ الاعتصام 24جنوری1997ء۔ جلد49۔ شمارہ نمبر4۔ صفحہ17)

5۔         مولوی منظور احمد صاحب چنیوٹی نے ایک انٹرویو میں کہا:۔
”روسی زبان میں قادیانی جماعت نے قرآن کریم کا ترجمہ کروا کر پورے روس میں تقسیم کیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کم از کم سو زبانوں میں قادیانیوں نے تراجم شائع کروائے ہیں جو پوری دنیا میں تقسیم کئے جاتے ہیں۔”

(ہفت روزہ وجود کراچی۔ جلد نمبر 2۔ شمارہ 47۔22 تا28 نومبر2000ء ۔ صفحہ 31)

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter