AskAhmadiyyat

ہندوستان میں جہاد بالسیف اور علماء زمانہ

1۔         اہل حدیث کے مشہور عالم و راہنما سید نذیر حسین صاحب دہلوی لکھتے ہیں
”جبکہ شرط جہاد کی اس دیار میں معدوم ہوئی تو جہاد کرنا یہاں سبب ہلاکت و معصیت ہوگا”

(فتاویٰ نذیریہ جلد3کتاب الامارۃ والجہاد صفحہ285۔ناشر اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)

2۔         مولوی محمد حسین بٹالوی لکھتے ہیں
”اس زمانہ میں بھی شرعی جہاد کی کوئی صورت نہیں ہے کیونکہ اس وقت نہ کوئی مسلمانوں کا امام موصوف بصفات و شرایط امامت موجود ہے اور نہ ان کو ایسی شوکت و جمیعت حاصل ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں پر فتح یاب ہونے کی امید کرسکیں”

(الاقتصاد فی مسائل الجہاد از مولوی محمد حسین بٹالوی صفحہ72۔مطبع وکٹوریہ پریس)

3۔         حضرت سید محمد اسماعیل صاحب شہیدسے ایک شخص نے انگریزوں سے جہاد کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا:۔
”ایسی بے رو ریا اور غیر متعصب سرکار پر کسی طرح بھی جہاد کرنا درست نہیں ہے اس وقت پنجاب کے سکھوں کا ظلم اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ ان پر جہاد کیا جائے”

(سوانح احمدی۔ صفحہ57۔ مرتبہ محمد جعفر تھانیسری صوفی پرنٹنگ اینڈ پبلشنگ کمپنی لمیٹڈ اسلامیہ سٹیم پریس لاہور)

4۔         خواجہ حسن نظامی صاحب لکھتے ہیں:۔
”انگریز نہ ہمارے مذہبی امور میں دخل دیتے ہیں نہ اور کسی کام میں ایسی زیادتی کرتے ہیں جس کو ظلم سے تعبیر کر سکیں۔ نہ ہمارے پاس سامانِ حرب ہے ایسی صورت میں ہم لوگ ہر گز ہر گز کسی کا کہنا نہ مانیں گے اور اپنی جانوں کو ہلاکت میں نہ ڈالیں گے،،

(رسالہ شیخ سنوسی۔ صفحہ17)

5۔         مفتیان مکہ کے فتاویٰ کے بارہ میں شورش کاشمیری مدیر چٹان لکھتے ہیں
”جمال دین ابن عبد اللہ، شیخ عمر، حنفی مفتی مکہ معظمہ، احمد بن ذنبی شافعی مفتی مکہ معظمہ اور حسین بن ابراہیم مالکی مفتی مکہ معظمہ سے اس مطلب کے فتوے حاصل کئے گئے کہ ہندوستان دارالسلام ہے”

(کتاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری مؤلفہ شورش کاشمیری۔ صفحہ141۔ مطبع چٹان پرنٹنگ پریس۔ 1973ء)

6۔         سرسید احمد خان صاحب لکھتے ہیں:۔
”مسلمان ہمارے گورنمنٹ کے مست امن تھے کسی طرح گورنمنٹ کی عملداری میں جہاد نہیں کر سکتے تھے”

(اسباب بغاوت ہند مؤلفہ سرسید احمد خان صفحہ31۔ سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور)

We recommend Firefox for better fonts view.

Follow by Email
Facebook
Twitter