AskAhmadiyyat

حضرت بانی جماعت احمدیہ نے جہاد بالسیف کو کیوں ملتوی کیا؟

حضرت بانی جماعت احمدیہ نے جہاد کے التوا کا اعلان اپنی طرف سے ہر گز نہیں فرمایا بلکہ آنحضرت ؐ نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ مسیح موعود اور امام مہدی کے زمانہ میں مذہبی جنگوں کا التوا ہو جائے گا۔ چنانچہ فرمایا:۔
‘یَضَعُ الْحَرْبَ” (وہ جنگ کو موقوف کر دے گا)

 (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ بن مریم)

اسی طرح فرمایا
اس کے زمانہ میں جنگ اپنے ہتھیار رکھ دے گی۔

 (الدر المنثور فی التفسیر بالماثور از امام جلال الدین سیوطی۔ دارالمعرفۃ بیروت لبنان)

ان پیشگوئیوں میں یہ اشارہ تھا کہ مسیح موعود کے زمانہ میں اس جہاد کی شرائط موجود نہیں ہوں گی۔ چنانچہ حضرت بانی جماعت احمدیہ نے جو مسیح اور مہدی ہونے کے مدعی تھے آنحضرت ؐ کی پیشگوئی کے عین مطابق قتال کی شرائط موجود نہ ہونے کی وجہ سے اس کے عارضی التوا کا اعلان فرمایا۔ آپ نے لکھا:۔

اب چھوڑ دو جہاد کا اے دوستو خیال

 دیں کےلئے حرام ہے اب جنگ اور قتال

کیوں بھولتے ہو تم یضع الحرب کی خبر

 کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر

 فرما چکا ہے سید کونین مصطفیٰ

 عیسیٰ مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا

یہ حکم سن کے بھی جو لڑائی کو جائے گا

 وہ کافروں سے سخت ہزیمت اٹھائے گا

اک معجزہ کے طور سے یہ پیشگوئی ہے

 کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے

 

(تحفہ گولڑویہ۔ رخ جلد 17ص77-78)

    We recommend Firefox for better fonts view.

    Follow by Email
    Facebook
    Twitter