AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعودؑ پر نئی نبوت، نئے دین، نئے قبلہ ،نئی نماز اور نئے قرآن بنانے کا الزام جھوٹا ہے

حضرت اقدس مسیح موعودؑ اس اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔

’’یہ بھی مجھ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ میں نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں اورکہ میں نے نیا دین بنالیا ہے یا میں کسی الگ قبلہ کی فکر میں ہوں ‘نماز میں نے الگ بنائی ہے یا قرآن کو منسوخ کرکے اور قرآن بنالیا ہے ۔ سواس تہمت کے جواب میں میں بجز اس کے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین (ال عمران :62)کہوں اورکیا کہوں ؟

میرا دعویٰ صرف یہ ہے کہ موجود ہ مفاسد کے باعث خداتعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اورمیں اس امر کا خفاء نہیں کرسکتا کہ مجھے مکالمہ مخاطبہ کا شرف عطاکیا گیا ہے اورخداتعالیٰ مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور کثرت سے ہوتا ہے ۔اسی کانام نبوت ہے مگر حقیقی نبوت نہیں۔نبا ء ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے خبر کے ہیں۔ اب جو شخص کوئی خبر خداتعالیٰ سے پاکر خلق پر ظاہر کرے گا اس کو عربی میں نبی کہیں گے ۔میں آنحضرت ﷺ سے الگ ہوکر کوئی دعویٰ نہیں کرتا۔ یہ تونزاع لفظی ہے۔کثرت مکالمہ مخاطبہ کو دوسرے الفاظ میں نبوت کہا جاتا ہے دیکھوحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ قول کہ قُوْلُوْااِنَّہُ خَاتَمُ النَّبِیِّیْنَ وَلَاتَقُوْلُوْالَانَبِیَّ بَعْدَہ (ترجمہ :۔ یہ تو کہو کہ آپﷺ خاتم النبیین ہیں مگر یہ نہ کہو کہ آپﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ۔ ناقل)اس امر کی صراحت کرتا ہے نبوت اگر اسلام میں موقوف ہوچکی ہے تویقینا جانو کہ اسلام بھی مرگیا اور پھر کوئی امتیازی نشان بھی نہیں ہے ۔ایک باغ جس کو اس کے مالی اور باغبان نے چھوڑ دیا ۔ اسے بھلا دیا ۔اس کی آبپاشی کی اس کو فکر نہیں توپھر نتیجہ ظاہر ہے کہ چند سال بعد وہ باغ خشک ہوکر بے ثمر ہوجاوے گا اور آخر کار لکڑیاں جلانے کے کام میں لائی جاویں گی۔

اصل میں ان کی اورہماری نزاع لفظی ہے ۔مکالمہ مخاطبہ کا تو یہ لوگ خود بھی اقرار کرتے ہیں ۔مجدد صاحب بھی اس کے قائل ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ جن اولیا ء اللہ کو کثرت سے خداتعالیٰ کا مکالمہ مخاطبہ ہوتا ہے وہ محدث اورنبی کہلاتے ہیں ۔

اچھا میں پوچھتا ہوں کہ ایک انسان خداتعالیٰ سے خبر پاکر دنیا پر ظاہر کرے تواس کانام آپ لوگ عربی زبان میں بجز نبی کے اورکیا تجویز کرتے ہیں؟عجیب بات ہے کہ اسی لفظ کے مفہوم کو اگر زبان اردو میں یا پنجابی میں بیان کیا جائے تومان لیتے ہیں اوراگر عربی زبان میں پیش کریں تو نفرت اورانکار کرتے ہیں ۔یہ تعجب نہیں تواورکیا ہے ؟

اب صرف یہی بات باقی ہے جسے میں ضرور ی سمجھتا ہوں کہ ان لوگوں نے شاید اس مہذب اورتعلیم یافتہ گروہ کو بھی اس امر میں دھوکادیا ہواور ہم سے بدظن کرنے کی کوشش کی ہو۔ لہٰذا میں مناسب سمجھتا ہوں کہ آپ لوگوں پر ظاہر کردوں کہ خداتعالیٰ نے مجھے تجدید دین کے واسطے تائید اورنصرت کے ساتھ تازہ نشانات دیکر بھیجا ہے ۔آپ یقیناً سمجھیں کہ اگر خداتعالیٰ نے مجھے نہ بھیجا ہوتاتو یہ دین بھی اوردینوں کی طرح صرف قصے کہانیوں میں ہی محدود ہوجاتا ۔خداتعالیٰ سے آنے والا نابود نہیں کیا جاتا ۔انجام کا رخدااس کی سرسبزی دنیا پر ظاہر کردیتا ہے ۔

ان لوگوں نے میری توہین کے واسطے جھوٹ سے تہمت سے افتراء سے اور طرح طرح کے حیلوں سے کام لیا ہے اور ہماری ترقی کو روکنے کے واسطے ہم سے لوگوں کو بد ظن کرنے کے واسطے سے سخت کوششیں کی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی قدرت سے بایں ہمہ ہماری ترقی ہی ہوتی گئی اور ہو رہی ہے ۔ حتی کہ اب چار لاکھ سے بھی زیادہ لوگ مختلف ممالک میں ہماری جماعت کے موجود ہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ سمجھ دار لوگ جب سمجھ لیتے ہیں کہ یہی راہ دشمن پر غلبہ پانے کی ہے تو پھر وہ اس پر سچے دل سے قائم ہو جاتے ہیں ۔

اب ہمیں بتائیں کہ جن کا یہ مذہب ہے کہ عیسیٰ مرے نہیں بلکہ زندہ ہیں اورآنحضرت ﷺ وفات پاکر مدینہ میں مدفون ہیں۔ بتائیے انہوں نے آنحضرت کی عزت پر کیسا حملہ کیا ہے ۔ اور پھر کہتے ہیں کہ وہی اسرائیلی  نبی پھر دنیا میں آکر امت محمدیہ کی اصلاح اور تجدید دین کرے گا۔ اب فرمائیے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد جب ایک اسرائیلی نبی آگیا تو پھر آنحضرت ﷺ کس طرح خاتم النبیین رہے ۔ اس اعتقاد سے تو خاتم النبیین حضرت عیسیٰ ؑ ہوئے نہ آنحضرت ﷺ ۔ حاشاو کلا عیسیٰ ؑ تو خود براہ راست خدا تعالیٰ کے نبی تھے۔ کیا ان کی پہلی شریعت اور نبوت منسوخ ہو جائے گی۔ جب سورہ نور میں ہمیں صاف الفاظ میں وعدہ مل چکا ہے کہ جو آوے گا تم میں سے ہی آوے گا ۔ تمہارے غیر کو قدم رکھنے کی اب گنجائش نہیں اور بخاری مین بھی جواصح الکتب بعد کتاب اللہ ہے ۔ اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ (ترجمہ :۔تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔ناقل)موجود ہے ۔ اور پھر جب ان کی وفات بھی صراحت سے قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہے تو کیوں ایسا اعتقاد رکھا جاتا ہے ۔جو کہ سراسر قرآن شریف اور آنحضرت ﷺ کے خلاف ایک عقیدہ ہے ۔ آنحضرت ﷺ نے خود ان کو معراج کی رات میں وفات شدہ انبیاء کے ساتھ دیکھا ۔ اگر وہ زندہ تھے تو ان کے واسطے الگ کوئی مقام تجویز ہونا چاہیے تھا۔ نہ کہ مردوں میں ۔ زندہ کو مردہ سے کیا تعلق اور کیا واسطہ ۔

غرض خدا تعالیٰ نے قول سے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے فعل سے ثابت کر دیا کہ وہ وفات پاچکے ہیں ۔ اب   فَمَاذَا بَعْدَ الْحَقِّ إِلَّا الضَّلَالُ (يونس 33) (ترجمہ :۔ پھر حق کے بعد گمراہى کے سوا کىا رہ جاتا ہے۔ناقل)مسلماں ہو کر قرآن اور قول الرسول ﷺ کو قبول نہیں کرتے تو نہ کریں ان کا اختیار ہے ۔ میری تکذیب نہیں کر تے بلکہ اس کی جس طرف سے میں آیا ہوں اور اس جس کا میں غلام ہو ں تکذیب کرتے ہیں ۔ میں کیا اور میری تکذیب کیا۔ بلکہ یہ تو آنحضرت ﷺ کی تکذیب کرتے ہیں ۔ بات تو ایک ہی ہے قرآن میں خلیفہ کے آنے کی نص موجود ہے اور احادیث میں قرب قیامت کے وقت آنے والے خلیفہ کانام مسیح رکھا گیا ہے ۔ اب ان میں اختلاف کیا ہے ۔

ان الزامات کے سوادوسرے الزام بھی اسی قسم کے بے حقیقت اور ضد اور تعصب کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں ان سب کا رد مفصلا ً ہم نے اپنی کتابوں میں کر دیاہے ۔ ان لوگوں کے بعض عقائد تو ایسے ہیں جن سے ایک سچے مسلمان کا دل کانپ جاتا ہے ۔ مثلاً ان لوگوں کا عقیدہ ہے کہ کوئی بھی مس شیطان سے پاک نہیں ۔ بجز عیسیٰ علیہ السلام کے ۔ ان کا یہ مسئلہ کیسا قابل شرم ہے ۔ ہمارے نبی کریم افضل الرسل ۔ پاکوں کے سردار تو مس شیطان سے ( نعوذباللہ) پاک نہیں اور حضرت عیسیٰ ؑ پاک ہیں ۔ کیسا افسوس کا مقام ہے ۔ خدا جانے مسلمان کہلا کر ان کو کیا ہوگیا۔

دیکھو خود آنحضرت ﷺ کا یہ حال ہے اور خود مسلمان آریوں اور عیسائیوں کے ہم زبان بنے ہوئے ہیں ۔ ہمار ا اپنا سب سے پیارانبی جس کی پیروی ہمارا فخر اور ہمارے واسطے باعث عزت اورموجب نجات ہے اگر وہ وفات پا چکے ہیں تو ہم عیسیٰ ؑ کو کیا کریں ۔

بس یہ باتیں ہیں جن پر ہمیں کافر کہا جاتا ہے ۔ دجال کہا جاتا ہے ۔ اور اسلام سے خارج کہا جاتا ہے ۔ اور ہم سے سلام علیکم کرنے والا مصافحہ کرنے والا ۔ملاقات کرنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے ایسا متعدی کفر ہے ۔ اور تمام جماعت ایک کافروں کا مجموعہ ہے ۔ کیسا افسوس آتا ہے کہ جو آنحضرتﷺ کی زندگی اور آپ کے دین کی تجدید اور خدمت کرنے کے واسطے ہر وقت کمر بستہ ہے ۔ اس کو گندی گالیاں نکالتے ہیں ۔ برے برے ناموں سے یاد کرتے ہیں ۔ میرے صندوق بھرے پڑے ہیں ۔ ان کی گندی گالیوں سے بعض اوقات بیرنگ خط محصول ادا کر کے وصول کیا۔ کھول کر دیکھاتو اس میں اول سے آخر تک بے نقط گالیوں کے سوا کچھ ہوتا ہی نہیں ور مولوی کہلا کر چوہڑے چماروں کی طرح گندی اور فحش گالیاں نکالتے ہیں کہ انسان کو پڑھتے ہوئے بھی شرم آجاتی ہے ۔ ابھی کہتے ہیں کہ اسلام کسی کی کیا ضرورت ہے جبکہ قرآن موجود ہے اور مولوی موجو د ہیں۔ یہ نہیں جانتے کہ ان کے مولوی جو ان بھیڑوں کے گلہ بان ہیں خود بھیڑیے ہیں اور وہ ریوڑ کیسے خطرہ میں ہے جس کا کوئی گلہ بان نہ ہو۔ اسلام پر اندرونی اور بیروین حملے ہور ہے ہیں۔ اور ماریں کھا رہا ہے ۔ پس ایسے شخص کی ضرورت تھی کہ مغالطے اور مشکلات دور کر کے پیچیدہ مسائل کو حل کرکے رستہ صاف کرتا اور اسلام کی اصلی روشنی اور سچا نور دوسری قوموں کے سامنے پیش کرتا۔ دیکھو ایک وہ زمانہ تھا کہ عیسائی لو گ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی نہ کوئی پیشگوئی ہے نہ معجزہ ۔ مگر اب میرے سامنے کوئی نہیں آتا حالانکہ ہم بلاتے ہیں

خدا تعالیٰ کا یہی ارادہ تھا۔ اس نے اپنے وعدہ کے موافق وقت پر اپنے دین کی خبر گیری اور دستگیری فرمائی ہے ۔ انا نحن نزلنا الذکروانا لہ لحافظون ( الحجر:10)

اسلام کو اس نے دنیا میں قائم کیا، قرآن کی تعلیم پھیلائی اور اس کی حفاظت کا بھی وہی خود ذمہ دار ہے ۔ جب انسان اپنے لگائے ہوئے بوٹے کو التزام سے پانی دیتاہے تا وہ خشک نہ ہو جاوے تو کیا خدا انسان سے بھی گیا گزرا اور لا پراوہ ہے ۔ یاد رکھو کہ اسلام نے جن راہوں سے پہلے ترقی کی تھی اب بھی انہی راہوں سے ترقی کرے گا۔ خشک منطق ایک ڈائن ہے اس سے انجان آدمی کے اعتقاد میں خلل آتا ہے ۔ اور ظاہری فلسفے روحانی فلسفے کے بالکل مخالف ہیں ۔

صاحبان ! یہ امور ہیں جن کی اصلاح کے واسطے میں بھیجا گیا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس مجلس میں سے بعض ایسے بھی لوگ اٹھیں گے کہ ان میں کچھ بھی تبدیلی پیدا نہ ہو ئی ہو گی یا ان کے خیالات پر میری ان باتوں کا ذرہ بھی اثر نہ ہوگا۔ مگر یادرکھو جو مجھ سے مقابلہ کرتا ہے وہ مجھ سے نہیں بلکہ اس سے مقابلہ کرتا ہے جس نے مجھے بھیجا ہے ۔ اگر ادنیٰ چپڑاسی کی ہتک کی جائے اور اس کی بات نہ مانی جائے تو گورنمنٹ سے ہتک کرنے والے یا نہ ماننے والے کو سزا ملتی ہے اور باز پرس ہوتی ہے ۔ تو پھر خدا کی طرف سے آنے والی کی بے عزتی کرنا اس کی بات کی پرواہ نہ کرنا کیونکر خالی جاسکتاہے ۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اگر میرا سلسلہ خدا کی طرف سے نہیں تو یونہی بگڑ جائے گا خواہ کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہ کرے کیونکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ کہ {قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرَى} (طه 62) (ترجمہ :۔ وہ نامراد ہو جاتا ہے جو افترا کرتا ہے۔ناقل)اور {وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللَّهِ كَذِبًا (الأَنعام 22)(ترجمہ :۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جس نے اللہ پر کوئى جھوٹ گھڑا ىا۔ناقل)اور وہ شخص جو رات کو ایک بات بناتااور دن کو لوگوں کو بتاتا اورکہتا ہے کہ مجھے خدا نے ایسا کہا ہے وہ کیونکر بامراد اور بابر گ و بار ہو سکتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو فرماتا ہے ۔ {وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ۔ لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ} (الحاقة 45-47) (ترجمہ :۔ اور اگر وہ بعض باتىں جھوٹے طور پر ہمارى طرف منسوب کر دىتا  تو ہم اُسے ضرور داہنے ہاتھ سے پکڑ لىتے ۔ پھر ہم ىقىناً اُس کى رگ جان کاٹ ڈالتے ۔ناقل ) جب ایک ایسے عظیم الشان انسان کے واسطے ایسا فرمان ہے تو پھر ادنیٰ کے واسطے تو چھوٹی سی چھری کی ضرورت تھی اور کبھی کا فیصلہ ہو گیا ہوتا۔‘‘

(ملفوظات جلدپنجم ص667تا671)

We recommend Firefox for better fonts view.