AskAhmadiyyat

معترضہ حوالہ جات

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

”ایسا ہی شقّ القمرکا عالی شان معجزہ جو خدائی ہاتھ کو دکھلا رہا ہے۔ قرآن شریف میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلی کے اشارہ سے چاند دو ٹکڑے ہوگیا اور کفار نے اِس معجزہ کو دیکھا۔ اُس کے جواب میں یہ کہنا کہ ایسا وقوع میں آنا خلاف علم ہیئت ہے یہ سراسر فضول باتیں ہیں کیونکہ قرآن شریف تو فرماتا ہے کہ ا ِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُوَاِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌمُّسْتَمِرٌّیعنی قیامت نزدیک آگئی اور چاند پھٹ گیا اورکافروں نے یہ معجزہ دیکھا اورکہا کہ یہ پکا جادو ہے جس کا آسمان تک اثر چلا گیا۔ اب ظاہر ہے کہ یہ نِرا دعویٰ نہیں بلکہ قرآن شریف تو اس کے ساتھ ان کافروں کو گواہ قرار دیتاہے جو سخت دشمن تھے اور کفر پر ہی مرے تھے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر وقوع میں نہ آیا ہوتا تو مکّہ کے مخالف لوگ اورجانی دشمن کیونکر خاموش بیٹھ سکتے تھے وہ بلاشبہ شور مچاتے کہ ہم پر یہ تہمت لگائی ہے ہم نے تو چاند کو دو ٹکڑے ہوتے نہیں دیکھا اور عقل تجویز نہیں کرسکتی کہ وہ لوگ اس معجزہ کو سراسر جھوٹ اور افترا خیال کرکے پھر بھی چپ رہتے۔ بالخصوص جبکہ اُن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس واقعہ کا گواہ قرار دیا تھا تواس حالت میں اُن کا فرض تھا کہ اگر یہ واقعہ صحیح نہیں تھا تواس کا رد کرتے نہ یہ کہ خاموش رہ کر اس واقعہ کی صحت پر مہر لگا دیتے پس یقینی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ ضرور ظہور میں آیا تھا۔

(چشمہ معرفت ۔رخ جلد 23 ص411)

حضرت مرزا بشیر الدین محموداحمد رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔

مفسرین نے غلطی سے اس کے یہ معنی کیے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ یہ معجزہ دکھایا تھا کہ چاند کی طرف اشارہ کیا تو وہ حقیقتاً جسمانی طور پر پھٹ کر دو ٹکڑے ہو گیا (فتح البیان ) حالانکہ یہ غلط ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو عرب کے سب حصوں میں اور دنیا کے سب حصوں میں ایسا نظر آتا بلکہ نظام شمسی کے لیے مہلک ثابت ہوتا کیونکہ وہ اسی صورت میں قائم رہ سکتا ہے جبکہ اس کے سب سیارے اپنی اپنی جگہ پر ٹھیک رہیں ۔ پھر کسی صحابیؓ نے بھی جو اس وقت اس مجلس میں ہو یا مکہ یا عرب کے کسی اور مقام پر ہو ، اس کی شہادت نہیں دی کہ چاند جسمانی طور پر پھٹ گیا تھا۔“

(تفسیر صغیر صفحہ 706)

We recommend Firefox for better fonts view.