AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے بیان میں کوئی تضاد نہیں

حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کے معجزہ شق القمر سے متعلق عقیدہ میں کسی قسم کا کوئی اختلاف یا تضاد نہیں ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی جو تحریر پیش کی گئی ہے اس میں صرف یہ بیان ہے کہ یہ معجزہ واقعی ظہور میں آیا اس کے ہونے میں کسی کوشک نہیں۔ہاں یہ معجزہ کیسے وقوع میں آیا اس کے پیچھے کیا سائنس کار فرماں تھی اس کا ذکر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ نے پیش کردہ تحریر میں بیان فرما یا ہے۔

اگر معترض حضرت مسیح موعودؑ کی باقی تحریرات کا بھی ملاحظہ فرمالیں تو انہیں معلوم ہوگا کہ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کا شق القمر  کے معجزہ کی ہئیت کے بارہ میں کوئی تضاد نہیں ۔

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ:۔

”بعض محد ثین کا مذہب یہ بھی ہے کہ شق القمر بھی ایک قسم کا خسوف تھا اور شاہ عبدالعزیز بھی یہی کہتے ہیں اور ہمارا مذہب بھی یہی ہے کہ از قسم خسوف تھا کیونکہ بڑے بڑے علماء اس طرف گئے ہیں۔“

(البدر جلد 2 مورخہ 13 فروری 1903 ء صفحہ 26)

اسی طرح آپ ؑ نزول المسیح میں فرماتے ہیں کہ:۔

” اس وقت کافروں نے شق القمر کے نشان کو ملاحظہ کر کے جو ایک قسم کا خسوف تھا یہی کہا تھا کہ اس میں کیا انوکھی بات ہے قدیم سے ایسا ہی ہوتا آیا ہے کوئی خارق عادت امر نہیں ۔“

(نزول المسیح رخ جلد 18 ص 506,507)

مزید فرماتے ہیں:۔

”بڑا عظیم الشان معجزہ آنحضرت ﷺ کا شق القمر تھا اور شق القمر دراصل ایک قسم کا خسوف ہی تھا اور آنحضرت ﷺ کے اشارہ سے ہوا۔“

(الحکم جلد 7 مورخہ 31مئی1903 ء صفحہ2)

اسی طرح آپ ؑ ایک اور جگہ پر فرماتے ہیں کہ:۔

”ہماری رائے میں یہی ہے کہ وہ ایک قسم کا خسوف تھا۔“

(بدر جلد7مورخہ24مئی1908ء صفحہ3)

حضرت مسیح موعود ؑ چشمہٴ معرفت میں فرماتے ہیں کہ:۔

” شقّ القمر تو ہم پہلے بھی لکھ آئے ہیں کہ یہ وہ معجزہ ہے کہ جو عرب کے ہزاروں کافروں کے روبرو بیان کیا گیا ہے پس اگر یہ امرخلاف واقعہ ہوتا تو یہ اُن لوگوں کا حق تھا کہ وہ اعتراض پیش کرتے کہ یہ معجزہ ظہور میں نہیں آیا خاص کر اس حالت میں کہ شقُّ القمر کی آیت میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ کافروں نے یہ معجزہ دیکھا اور کہا کہ یہ پکّا جادو ہے جو آسمان تک پہنچ گیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُوَاِنْ یَّرَوْا اٰیَةً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْر’‘مُّسْتَمِرّ’‘ یعنی قیامت نزدیک آئی اور چاند پھٹ گیا اور جب یہ لوگ خداکاکوئی نشان دیکھتے ہیں توکہتے ہیں کہ ایک پکّا جادو ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر شق القمر ظہور میں نہ آیا ہوتا تو اُن کاحق تھا کہ وہ کہتے کہ ہم نے تو کوئی نشان نہیں دیکھا اور نہ اس کو جادوکہا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کوئی امر ضرور ظہور میں آیا تھا جس کانام شق القمر رکھا گیا۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ وہ ایک عجیب قسم کا خسوف تھا جس کی قرآن شریف نے پہلے خبر دی تھی اور یہ آیتیں بطور پیشگوئیوں کے ہیں اس صورت میں شق کا لفظ محض استعارہ کے رنگ میں ہوگا کیونکہ خسوف کسوف میں جو حصہ پوشیدہ ہوتاہے گویا وہ پھٹ کر علیحدہ ہو جاتا ہے ایک استعارہ ہے۔“

(چشمہ معرفت رخ جلد 23 ص232)

We recommend Firefox for better fonts view.