AskAhmadiyyat

خدا تعالیٰ کے حضور تذلل شان نبوت کا خاصہ ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جس شعر پر اعتراض کیا جاتا ہے وہ اپنے سیاق و سباق کے ساتھ مندرجہ ذیل ہے :۔

کام جو کرتے ہیں تیری رہ میں پاتے ہیں جزا

مجھ سے کیا دیکھا کہ یہ لطف وکرم ہے بار بار

تیرے کاموں سے مجھے حیرت ہے  اے میرے کریم

کس عمل پر مجھ کو دی ہے خلعتِ قرب وجوار

کِرمِ خاکی ہوں مرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشرکی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

یہ سراسر فضل واحساں ہے کہ میں آیا پسند

ورنہ درگہ میں تیری کچھ کم نہ تھے خدمتگذار

(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد 21صفحہ 127)

اس اعتراض کا بارہا جماعت احمدیہ کی طرف سے جواب دیا جاتا رہا ہے ۔

ان اشعار سے صاف ظاہر ہے کہ’’ کِرمِ خاکی‘‘و الے شعر میں ’’ مرے پیارے ‘‘ کے الفاظ خداتعالیٰ کو مخاطب کر کے کہے گئے ہیں۔اوریہ شعر بھی حضرت مسیحِ موعود علیہ السلام کی مناجات میں سے ہے جو آپ نے خدا تعالیٰ کے حضور کیں۔ نیزیہ شعرآپ کے عجز وانکسار اور خدا تعالیٰ کے حضور تذلّل کا آئینہ دار ہے جو کہ شانِ نبوّت کا ایک خاصّہ ہے ۔

عجیب بات ہے کہ تواضع اور انکسار تو ہر مومن کا ہنر ہے ۔ مگر عیب چین نگاہ اسے اپنے عدم بصیرت کی وجہ سے قابل اعتراض ٹھہراتی ہے ۔

آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں:۔

                        لَا تَوَاضَعَ عَبْدٌ لِلّٰہِ اِلَّا رَفَعَہُ اللّٰہُ ۔

(مسند احمد بن حنبل۔حدیث نمبر7032)

            یعنی جو بندہ اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی کا اظہار کرتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کا درجہ بلند کر تا ہے ۔

پھر آنحضرت ﷺ کی ایک دعا ملاحظہ ہو۔ آپﷺ فرماتے ہیں:۔

’’اِنِّیْ ذَلِیْلٌ فَاَعَزِّنِیْ۔‘‘

(مستدرک للحاکم۔ بحوالہ جامع الصغیر للسیوطی جلد 1باب الکاف)

کہ مَیں ذلیل ہوں مجھے عزت دے۔

اسی قسم کے انکسار کا اظہار حضرت داؤد علیہ السلام کی مناجات میں بھی موجود ہے ۔ چنانچہ زبور نمبر22آیت 6 میں لکھا ہے :۔

پر مَیں کیڑا ہوں نہ انسان

آدمیوں کا ننگ ہوں اور قوم کی عار

کیا معترض حضرت داؤد علیہ السلام کے متعلق بھی زبان درازی کرے گا ۔

ایک موقع پر حضرت مسیح موعود ؑ نے فرمایا :

’’اس آیت میں ان نادان موحدوں کا ردّ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متیّٰ سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلل ہے جو ہمیشہ ہمارے سیّد صلی اﷲ علیہ وسلم کی عادت تھی ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اﷲ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص درحقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد اﷲ ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام ۔روحانی خزائن جلد 5صفحہ 163)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ فرماتے ہیں :۔

’’ خدا کی عظمتوں سے ایک انسان اپنے آ پ کو پوری طرح بھر سکتا ہی نہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ایسا لا متناہی مضمون ہے کہ انسان کے اندر مزید کی طلب پیدا ہو جاتی ہے اور انسان جتنی ترقی کرتا چلا جاتا ہے اتنی اپنی کمزوریوں کی طرف اس کی نگاہ اور زیادہ کثرت کے ساتھ پڑنے لگتی ہے اور زیادہ کمزوریاں دریافت کرنے لگتا ہے۔ چنانچہ ایسے صاحب عرفان وجود جب خد ا کو مخاطب ہوتے ہیں تو کہتے ہیں کہ:۔

کرم خاکی ہو ں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں

ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا! ہم میں تو کچھ بھی نہیں ، تو نے کیا ہم میں دیکھا جو ہمیں چن لیا، ہم تو کسی لائق بھی نہیں ۔ بے شمار محبت اور عشق کے ترانے دل سے اٹھتے ہیں جو دوسرے سننے والوں کو عجیب دکھائی دیتے ہیں۔ جب وہ ایسے صاحب عرفان لوگوں کی باتیں سنتے ہیں تو حیران ہوتے ہیں کہ وہ کیا باتیں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔

یہ جو مضمون آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زبان سے سنتے ہیں تو آپ حیران ہوتے ہیں کہ یہ کیا بات ہے۔جن کی ہم نے بیعت کی ، جن کو اپنا امام مانا، جن کو خدا نے ہمارا امام بنایا ان کی یہ حالت ہے۔ آپ تعجب سے دیکھتے ہیں اور غیر تضحیک سے ان باتوں کو دیکھتا ہے اور مجالس میں بیان کرتا ہے کہ لو یہ دیکھ لو!یہ مرزا صاحب ہیں جنہوں نے دنیا کا امام ہونے کا دعویٰ کیا ، کہتے ہیں خد انے مجھے چن لیا اور پھر کہتے ہیں کرم خاکی ہوں نہ آدم زاد ہوں، بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عارہوں۔ ایسا شخص دنیا کی کیا سرداری کرے گااور دنیا کی کیسے رہنمائی کا اہل ہو گا۔ وہ نادان یہ نہیں جانتے کہ ایسے وجود جب وہ خدا کو مخاطب ہوتے ہیں تو خدا کی عظمتوں کے مقابل پر اپنے آپ کو دیکھ رہے ہیں اور خدا کی عظمتوں کو جاننے والا صاحب عرفان آدمی خدا کے مقابل پر اپنے آپ کا بالکل ذرۂ ناچیز اور حقیر اور ذلیل ترین وجود سمجھنے لگتا ہے۔اس پر یہ روشن ہو جاتا ہے کہ جس کی طرف وہ حرکت کر رہا ہے وہ لامتناہی وجود ہے جس کی کوئی حد نہیں ، و ہ حسنات کا درجہ کمال ہے ، اسی سے حسنات پھوٹتی ہیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں اور اس کے مقابل پر وہ جو اپنی حیثیت کو دیکھتے ہیں تو وہ چھوٹی ہوتی ہوتی رفتہ رفتہ نظر سے غائب ہو جاتی ہے۔‘‘

(خطبات طاہر جلد 6ص700۔701)

پس خدا تعالیٰ کے حضور یہ عجزو انکسار اور تذلّل کا اظہار تو شانِ نبوّت کا خاصّہ ہے ۔ مناجات کے ان الفاظ پر اگر معترض تمسخر کرتا ہے تو دیگر انبیاء کرام اور سب سے بڑھ کر آنحضرت ﷺ کی منکسرانہ التجائیں بھی اس کی لپیٹ میں آتی ہیں۔

We recommend Firefox for better fonts view.