AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعودؑ نے اناجیل پر ہونے والے اعتراضات کا ذکر کیا ہے نہ کہ خود اعتراض کیا ہے

حضرت مسیح موعودؑ کی مندرجہ بالا تحریرات الزامی جوابات کے طور پر اناجیل میں بیان فرمودہ حالات کے مطابق ہیں۔معترض نے دھوکہ دینے کی خاطر یہ تحریرات سیاق و سباق سے ہٹا کے پیش کی ہیں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔

’’بالآخر میں دوبارہ افسوس سے لکھتا ہوں کہ آپ کا یہ قول کہ حضرت مریم کا اُختِ ہارون ہونا آپ پر بد اثر ڈالتا ہے میری نگاہ میں آپ کی بہت ناواقفیت ظاہر کرتا ہے۔ اس بے ہودہ اعتراض پر پہلے علماء نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ اگر استعارہ کےؔ رنگ میں یا اور بنا پر خداتعالیٰ نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرایا ہے تو آپ کو اس سے کیوں تعجب ہوا۔جبکہ قرآن شریف بجائے خود بار بار بیان کر چکا ہے کہ ہارون نبی حضرت موسٰیؑ کے وقت میں تھا۔ اور یہ مریم حضرت عیسٰیؑ کی والدہ تھی جو چودہ سو1400 برس بعد ہارون کے پیدا ہوئی۔ تو کیا اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ ان واقعات سے بے خبر ہے اور نعوذ باللہ اُس نے مریم کو ہارون کی ہمشیرہ ٹھہرانے میں غلطی کی ہے کس درجہ کے خبیث طبع یہ لوگ ہیں کہ بیہودہ اعتراض کر کے خوش ہوتے ہیں۔ اور ممکن ہے کہ مریم کا کوئی بھائی ہو جس کا نام ہارون ہو۔ عدم علم سے عدم شے تو لازم نہیں آتا۔ مگر یہ لوگ اپنے گریبان میں منہ نہیں ڈالتے اور نہیں دیکھتے کہ انجیل کس قدر اعتراضات کا نشانہ ہے۔ دیکھو یہ کس قدر اعتراض ہے کہ مریم کو ہیکل کی نذر کر دیا گیاتھا تا وہ ہمیشہ بیت المقدس کی خادمہ ہو۔ اور تمام عمر خاوند نہ کرے۔ لیکن جب چھ سات مہینہ کا حمل نمایاں ہوگیا تب حمل کی حالت میں ہی قوم کے بزرگوں نے مریم کا یوسف نام ایک نجّار سے نکاح کر دیا اور اس کے گھر جاتے ہی ایک دو ماہ کے بعد مریم کو بیٹا پیدا ہوا۔ وہی عیسیٰ یا یسوع کے نام سے موسوم ہوا۔ اب اعتراض یہ ہے کہ اگردرؔ حقیقت معجزہ کے طور پر یہ حمل تھا تو کیوں وضع حمل تک صبر نہیں کیا گیا؟ دوسرا اعتراض یہ ہے کہ عہد تو یہ تھا کہ مریم مدت العمر ہیکل کی خدمت میں رہے گی پھر کیوں عہد شکنی کر کے اور اس کو خدمتِ بیت المقدس سے الگ کر کے یوسف نجّارکی بیوی بنایا گیا؟ تیسرا اعتراض یہ ہے کہ توریت کے رُو سے بالکل حرام اور ناجائز تھا کہ حمل کی حالت میں کسی عورت کا نکاح کیا جائے۔ پھر کیوں خلاف حکم توریت مریم کا نکاح عین حمل کی حالت میں یوسف سے کیا گیا۔ حالانکہ یوسف اس نکاح سے ناراض تھا اور اس کی پہلی بیوی موجود تھی۔ وہ لوگ جو تعدد ازواج سے منکر ہیں شاید اُن کو یوسف کے اس نکاح کی اطلاع نہیں۔ غرض اس جگہ ایک معترض کا حق ہے کہ وہ یہ گمان کرے کہ اس نکاح کی یہی وجہ تھی کہ قوم کے بزرگوں کو مریم کی نسبت ناجائز حمل کا شبہ پیدا ہوگیا تھا۔ اگرچہ ہم قرآن شریف کی تعلیم کے رُو سے یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ حمل محض خدا کی قدرت سے تھا تا خدا تعالیٰ یہودیوں کو قیامت کا نشان دے ۔۔۔ القصّہ حضرت مریم کا نکاح محض شبہ کی وجہ سے ہوا تھا۔ ورنہ جوعورت بیت المقدس کی خدمت کرنے کے لئے نذر ہو چکی تھی اس کے نکاح کی کیا ضرورت تھی۔ افسوس! اس نکاح سے بڑے فتنے پیدا ہوئے اور یہود نابکار نے ناجائز تعلق کے شبہات شائع کئے۔ پس اگر کوئی اعتراض قابلِ حل ہے تو یہ اعتراض ہے نہ کہ مریم کا ہارون بھائی قرار دینا کچھ اعتراض ہے۔ قرآن شریف میں تو یہ بھی لفظ نہیں کہ ہارون نبی کی مریم ہمشیرہ تھی۔ صرف ہارون کا نام ہے نبی کا لفظ وہاں موجود نہیں۔ اصل بات یہ ہے۔‘‘

(چشمہ مسیحی ۔روحانی خزائن  جلد 20 صفحہ 356,357)

حضرت مسیح موعودؑ  سرحدی لوگوں کا بنی اسرائیل میں سے ہونے کے متعلق قرائن کا ذکر کرتے ہوئےفرماتے ہیں(یہ رسم بوجہ اناجیل میں حضرت مریم ؑ اور یوسف نجار سے متعلق واقعات کے بیان ہونے کےآئی ہے):۔

’’پانچواں قرینہ اُن کے وہ رسوم ہیں جو یہودیوں سے بہت ملتے ہیں مثلاً ان کے بعض قبائل ناطہ اور نکاح میں کچھ چنداں فرق نہیں سمجھتے اور عورتیں اپنے منسوب سے بلاتکلّف ملتی ہیں اور باتیں کرتی ہیں۔ حضرت مریم صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ قبل نکاح کے پھرنا اس اسرائیلی رسم پر پختہ شہادت ہے۔ مگر خوانین سرحدی کے بعض قبائل میں یہ مماثلت عورتوں کی اپنے منسوبوں سے حد سے زیادہ ہوتی ہے۔ حتّی کہ بعض اوقات نکاح سے پہلے حمل بھی ہو جاتا ہے جس کو بُرا نہیں مانتے بلکہ ہنسی ٹھٹھے میں بات کو ٹال دیتے ہیں کیونکہ یہود کی طرح یہ لوگ ناطہ کو ایک قسم کا نکاح ہی جانتے ہیں جس میں پہلے مہر بھی مقرر ہو جاتا ہے۔‘‘

(ایام الصلح۔روحانی خزائن ج 14 ص300)

حضرت مسیح موعودؑکشتی نوح میں فرماتے ہیں :۔

’’ وہ شخص جو مجھے کہتا ہے کہ میں مسیح ابن مریم کی عزت نہیں کرتا بلکہ مسیح تو مسیح مَیں تو اس کے چاروں بھائیوں کی بھی عزت کرتا ہوں کیونکہ پانچوں ایک ہی ماں کے بیٹے ہیں نہ صرف اسی قدر بلکہ میں تو حضرت مسیح کی دونوں حقیقی ہمشیروں کو بھی مقدسہ سمجھتا ہوں کیونکہ یہ سب بزرگ مریم بتول کے پیٹ سے ہیں اور مریم کی وہ شان ہے جس نے ایک مدت تک اپنے تئیں نکاح سے روکا۔ پھر بزرگان قوم کے نہائت اصرار سے بوجہ حمل کے نکاح کر لیا۔ گو لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ برخلاف تعلیم توریت عین حمل میں کیونکر نکاح کیا گیا اور بتول ہونے کے عہد کو کیوں ناحق توڑا گیا اور تعدد ازواج کی کیوں بنیاد ڈالی گئی یعنی باوجود یوسف نجار کی پہلی بیوی کے ہونے کے پھر مریم کیوں راضی ہوئی کہ یوسف نجار کے نکاح میں آوے مگر میں کہتا ہوں کہ یہ سب مجبوریاں تھیں جو پیش آگئیں اس صورت میں وہ لوگ قابل رحم تھے نہ قابلِ اعتراض۔‘‘

(کشتی نوح۔ رخ جلد19ص18)

    We recommend Firefox for better fonts view.