AskAhmadiyyat

جواب از حضرت مسیح موعود علیہ السلام

معترضہ حوالہ

حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں :۔

’’ میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار مثیل مسیح آجائیں۔ ہاں اس زمانے کے لیے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے۔۔۔ پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آ سکیں۔ کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا۔ درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے اور جب کہ یہ حال ہے تو علماء کے لیے اشکال ہی کیا ہے۔ ممکن ہے کسی وقت ان کی یہ مراد بھی پوری ہو جائے۔‘‘

(ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ 197)

جواب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :۔

واضح ہو کہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اوراحادیث صحیحہ کے رُو سے ضروری طورپر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آگیا

امّاالجواب۔پس واضح ہو کہ مسیح موعود جس کا آنا انجیل اوراحادیث صحیحہ کے رُو سے ضروری طورپر قرار پا چکا تھا وہ تو اپنے وقت پر اپنے نشانوں کے ساتھ آگیا اور آج وہ وعدہ پورا ہوگیا جو خداتعالےٰ کی مقدّس پیشگوئیوں میں پہلے سے کیا گیا تھا۔ لیکن اگرکسی کے دل میں یہ خلجان پیدا ہوکہ بعض احادیث کی اس آنے والے مسیح کی حالت سے بظاہر مطابقت معلوم نہیں ہوتی جیسے مسلم کی دمشقی حدیث۔ تو اول تو اس کا یہی جواب ہے کہ درحقیقت یہ سب استعارات ہیں اورمکاشفات میں استعارات غالب ہوتے ہیں۔بیان کچھ کیاجاتاہے اور مرا د اُس سے کچھ لیاجاتاہے۔ سو یہ ایک بڑ ادھوکہ اور غلطی ہے جو اُن کو ظاہری طورپر مطابق کرنے کے لئے کوشش کی جائے اور یا اس تردّد اور فکر اورحیرت میں اپنے تئیں ڈال دیاجائے کہ کیوں یہ نشانیاں ظاہری طورپر مطابق نہیں آتیں۔ کیا یہ سچ نہیں کہ ان حدیثوں کی تشریح کے وقت فریق مخالف کوبھی اکثر مقامات میں تاویلوں کی حاجت پڑی ہے اوربڑے تکلّف کے ساتھ تاویلیں کی ہیں۔ جیسے مسیح ابن مریم کا یہ عمدہ کام جو بیان کیا گیا ہے جو وہ دنیا میں آکر خنزیروں کو قتل کرے گا۔ دیکھنا چاہیئے کہ اس کی تشریح میں علماء نے کس قدر الفاظ کو ظاہر سے باطن کی طرف پھیرنے کے لئے کوشش کی ہے۔ایسا ہی دجّال کے طواف کعبہ میں کس قدردور از حقیقت تاویلوں سے کا م لیا ہے۔ سو اگر فریق ثانی اِن مقامات میں تاویلوں سے بکلّی دستکش رہتے تو البتہ وہ ہمیں مُاَوّل(تاویل کرنے والا ۔ناقل) خیال کرنے میں کسی قدر معذور ٹھہرتے لیکن اب وہ آپ ہی اس راہ پر قدم مار کر کس مُنہ سے ہم کو یہ الزام دیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ چونکہ درحقیقت یہ کشفی عبارتیں استعارات سے پُر ہیں اس لئے کسی فریق کے لئے ممکن نہیں کہ ان کو ہر ایک جگہ ظاہر پر حمل کر سکے۔لمبے ہاتھوں کی حدیث لمبے ہاتھ کرکے بتلارہی ہے کہ اِن مکاشفات میں ظاہر پر زور مت دو ورنہ دھوکہ کھاؤ گے مگر کوئی اُس کی ہدایت کو قبول نہیں کرتا جو قبر کے عذاب کی نسبت حدیثوں میں بکثرت یہ بیان پایا جاتا ہے کہ ان میں گنہگار ہونے کی حالت میں بچّھو ہوں گے اور سانپ ہوں گے اور آگ ہوگی۔اگر ظاہر پر ہی ان حدیثوں کو حمل کرنا ہے تو ایسی چند قبریں کھودو اور اُن میں سانپ اور بچّھو دکھلاؤ۔

اگر ظلّی طور پر وہ بھی خداتعالےٰ کی طرف سے مثیلِ مسیح کا نام پاوے اور موعود میں بھی داخل ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ گو مسیح موعود ایک ہی ہے مگر اس ایک میں ہو کر سب موعود ہی ہیں۔

پھر بعد اس کے ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر ظاہر پر ہی اِن بعض مختلف حدیثوں کو جو ہنوز ہماری حالتِ موجودہ سے مطابقت نہیں رکھتیں محمول کیا جاوے تب بھی کوئی حرج کی بات نہیں۔ کیونکہ ممکن ہے کہ خداتعالےٰ ان پیشگوئیوں کو اس عاجز کے ایک ایسے کامل متبع کے ذریعہ سے کسی زمانہ میں پورا کردیوے جو منجانب اﷲ مثیل مسیح کا مرتبہ رکھتا ہو۔اور ہر ایک آدمی سمجھ سکتا ہے کہ متبعین کہ ذریعہ سے بعض خدمات کا پورا ہونا درحقیقت ایسا ہی ہے کہ گویا ہم نے اپنے ہاتھ سے وہ خدمات پوری کیں۔ بالخصوص جب بعض متبعین فنا فی الشیخ کی حالت اختیار کر کے ہمارا ہی روپ لے لیں اور خداتعالےٰ کا فضل انہیں وہ مرتبہ ظلّی طورپر بخش دیوے جو ہمیں بخشا۔ تو اس صورت میں بلاشبہ اُن کا ساختہ پرداختہ ہمار ا ساختہ پرداختہ ہے۔ کیونکہ جو ہمارے راہ پر چلتاہے۔ وہ ہم سے جدا نہیں اور جو ہمارے مقاصد کو ہم میں ہو کر پورا کرتاہے وہ درحقیقت ہمارے ہی وجود میں داخل ہے۔ اس لئے وہ جزو اورشاخ ہونے کی وجہ سے مسیح موعود کی پیشگوئی میں بھی شریک ہے کیونکہ وہ کوئی جدا شخص نہیں۔پس اگر ظلّی طور پر وہ بھی خداتعالےٰ کی طرف سے مثیلِ مسیح کا نام پاوے اور موعود میں بھی داخل ہو تو کچھ حرج نہیں کیونکہ گو مسیح موعود ایک ہی ہے مگر اس ایک میں ہو کر سب موعود ہی ہیں۔ کیونکہ وہ ایک ہی درخت کی شاخیں اور ایک ہی مقصد موعود کی روحانی یگانگت کی راہ سے متممّ و مکمل ہیں اور اُن کو اُن کے پھلوں سے شناخت کرو گے۔ یاد رکھنا چاہیئے کہ خداتعالےٰ کے وعدے جو اس کے رسولوں اور نبیوں اور محدثوں کی نسبت ہوتے ہیں کبھی تو بلا واسطہ پورے ہوتے ہیں اورکبھی بالواسطہ اُن کی تکمیل ہوتی ہے۔ حضرت مسیح ابن مریم کو بھی جو نصرت اور فتح کے وعدے دئے گئے تھے وہ اُن کی زندگی میں پورے نہیں ہوئے بلکہ ایک دوسرے نبی کے ذریعہ سے جو تمام نبیوں کا سردار ہے یعنی سیدنا وامامنا حضرت محمد مصطفےٰ خاتم الرسل کے ظہور سے پورے ہوئے اور اسی طرح حضرت موسیٰ کلیم اﷲ کو جو کنعان کی فتح کی بشارتیں دی گئی تھیں بلکہ صاف صاف حضرت موصوف کو وعدہ دیا گیا تھا کہ تُو اپنی قوم کو کنعان میں لے جائے گا اور کنعان کی سرسبز زمین کا انہیں مالک کردے گا۔ یہ وعدہ حضرت موسیٰ کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا اوروہ راہ میں ہی فوت ہوگئے لیکن یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پیشگوئی غلط نکلی جو اب تک توریت میں موجود ہے۔ کیونکہ موسیٰ کی وفات کے بعد موسوی قوت اورموسوی روح اس کے شاگرد یوشع کو عطا ہوئی۔اوروہ خداتعالےٰ کے حکم اور اس کے نفخِ روح سے موسیٰ میں ہو کر اور موسوی صورت پکڑ کر وہ کام بجا لایا جو موسیٰ کی پیروی میں پوری فنا اختیارکرکے اور خداتعالےٰ سے موسوی روح پا کر اس کام کو کیا تھا۔ ایسا ہی ہمارے سیّد ومولیٰ نبی کریم ﷺ کی نسبت توریت میں بعض پیشگوئیاں ہیں جو آنحضرتﷺ کے ہاتھ پر بلاواسطہ پوری نہیں ہوسکیں بلکہ وہ بواسطہ اُن خلفائے کرام کے پوری کی گئیں جو آنحضرت ﷺ کی محبت اورپیروی میں فانی تھے۔سو اس میں کون کلام کرسکتا ہے جو ایک مامور من اﷲ کی نسبت جن جن فتوحات اور امور عظیمہ کا تذکرہ پیشگوئی کے لباس میں ہوتاہے اس میں یہ ہرگز ضروری نہیں سمجھا جاتا کہ وہ سب کچھ اُسی کے ذریعہ سے پورا بھی ہو جائے بلکہ اُس کے خالص متبعین اس کے ہاتھو ں اورپَیروں کی طرح سمجھے جاتے ہیں اوران کی تمام کارروائیاں اُسی کی طر ف منسوب ہوتی ہیں۔ جیسے ایک سپہ سالار کسی جنگ میں عمدہ عمدہ سپاہیوں اور مدبّروں کی مدد سے کسی دشمن کو گرفتارکرتاہے یا قتل کردیتاہے تو وہ تمام کارروائی اُسی کی طرف منسوب کی جاتی ہے اور بلا تکلّف کہا جاتا ہے کہ اُس نے گرفتارکیا یا قتل کیا۔پس جبکہ یہ محاورہ شائع متعارف ہے تو اس بات میں کونسا تکلّف ہے کہ اگر فرض کے طورپر بھی تسلیم کرلیں کہ بعض پیشگوئیوں کا اپنی ظاہری صورت پر بھی پوراہونا ضروری ہے تو ساتھ اس کے یہ بھی تسلیم کرلینا چاہیئے کہ وہ پیشگوئیاں ضرورپوری ہوں گی اور ایسے لوگوں کے ہاتھ سے اُن کی تکمیل کرائی جائے گی کہ جو پورے طورپر پیروی کی راہوں میں فانی ہونے کی وجہ سے اور نیز آسمانی روح کے لینے کے باعث سے اس عاجز کے وجود کے ہی حکم میں ہوں گے ۔ اورایک پیشگوئی بھی جو براہین میں درج ہوچکی ہے اسی کی طرف اشار ہ کررہی ہے اوروہ الہام یہ ہے یَا عِیْسیٰ اِنِّیْ مُتَوَفِّیْکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ (ترجمہ :۔ اے عیسیٰ مَیں تجھے وفات دینے والا ہوں اور اپنی طرف تیرا رفع کرنے والا ہوں۔اور ان لوگوں کو جنہو ں نے تیری پیروی کی ہے ان لوگوں پر جنہوں نے انکار کیاہے قیامت کے دن تک بالا دست کرنے والا ہوں۔ناقل)۔ اس مسیح کو بھی یاد رکھو جو اس عاجز کی ذریت میں سے ہے جس کا نام ابن مریم بھی رکھا گیاہے کیونکہ اس عاجز کو براہین میں مریم کے نام سے بھی پکاراہے۔

(ازالہء اوہا م ۔رخ جلد 3 ص315تا318)

We recommend Firefox for better fonts view.