AskAhmadiyyat

آیت خاتم النبیین کی تشریح از حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام

آیت خاتم النبیین :۔   مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ ۔

                                                                                            (الاحزاب:41)

ترجمہ:۔        محمدتمہارے جیسے مردوں میں سے کسی کا باپ نہیں بلکہ وہ اللہ کا رسول ہے اور سب نبیوں خاتَم ہے ۔

 آپؑ فرماتے ہیں:۔

       ’’خاتم النبیین ہونا ہمارے نبی ﷺ کا کسی دوسرے نبی کے آنے سے مانع ہے ۔ ہاں ایسا نبی جو مشکوٰۃ نبوّتِ محمدیہ سے نور حاصل کرتا ہے اور نبوّتِ تامہ نہیں رکھتا جس کو دوسرے لفظوں میں محدّث بھی کہتے ہیں وہ اس تجدید سے باہر ہے کیونکہ وہ بباعث ِ اتباع اور فنا فی الرسول ہونے کے جناب ختم المرسلین کے وجود میں ہی داخل ہے جیسے جُز کُل میں داخل ہوتی ہے ۔

                                                                               (ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3صفحہ575)

       ’’ اس عاجز نے کبھی اور کسی وقت حقیقی طور پر نبوت یا رسالت کا دعویٰ نہیں کیا اور غیر حقیقی طور پر کسی لفظ کو استعمال کرنا اور لغت کے عام معنوں کے لحاظ سے اس کو بول چال میں لانا مستلزم کفر نہیں۔ مگر میں اس کو بھی پسند نہیں کرتا کہ اس میں عام مسلمانوں کو دھوکہ لگ جانے کا احتمال ہے۔ لیکن وہ مکالمات اور مخاطبات جو اللہ جلّ شانہ، کی طرف سے مجھ کو ملے ہیں جن میں یہ لفظ نبوت اور رسالت کا بکثرت آیا ہے ان کو میں بوجہ مامور ہونے کے مخفی نہیں رکھ سکتا۔ لیکن بار بار کہتا ہوں کہ ان الہامات میں جو لفظ مُرْسَلْ یا رسول یا نبی کا میری نسبت آیا ہے۔ وہ اپنے حقیقی معنوں پر مستعمل نہیں ہے۔ اور اصل حقیقت جس کی میں علی رؤس الاشہاد گواہی دیتا ہوں یہی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔ اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا نہ کوئی پرانا اور نہ کوئی نیا۔ ۔۔۔۔ غرض ہمارا مذہب یہی ہے کہ جو شخص حقیقی طور پر نبوت کا دعویٰ کرے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن فیوض سے اپنے تئیں الگ کرکے اور اس پاک سرچشمہ سے جدا ہوکر آپ ہی براہ راست نبی اللہ بننا چاہتاہے تو وہ ملحد بے دین ہے اور غالباً ایسا شخص اپنا کوئی نیاکلمہ بنائے گا۔ اور عبادت میں کوئی نئی طرز پیدا کرے گا اور احکام میں کچھ تغیر و تبدل کردے گا۔ پس بلاشبہ وہ مسیلمہ کذّاب کا بھائی ہے اور اس کے کافر ہونے میں کچھ شک نہیں۔ ایسے خبیث کی نسبت کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ وہ قرآن شریف کو مانتا ہے۔

            لیکن یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ ابھی ہم نے بیان کیا ہے بعض اوقات خدائے تعالیٰ کے الہامات میں ایسے الفاظ استعارہ اور مجاز کے طور پر اس کے بعض اولیاء کی نسبت استعمال ہو جاتے ہیں اور وہ حقیقت پر محمول نہیں ہوتے سارا جھگڑا یہ ہے جس کو نادان متعصب اور طرف کھینچ کرلے گئے ہیں۔ آنے والے مسیح موعود کا نام جو صحیح مسلم وغیرہ میں زبان مقدس حضرت نبوی ؐسے نبی اللہ نکلا ہے وہ انہی مجازی معنوں کے رو سے ہے جو صوفیاء کرام کی کتابوں میں مسلّم اور ایک معمولی محاورہ مکالمات الٰہیہ کا ہے۔ ‘‘

                                                                        (انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد11ص27،28حاشیہ)

            ’’ اصل منشاء آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ تھا کہ جس مجدّد کو اس امت کے مجدّدوں میں سے عیسائی حملوں کی مدافعت میں اسلام کی نصرت کرنی پڑے گی اس کا نام بلحاظ عیسائیت کی اصلاح کے مسیح ہوگا۔ مگر ان لوگوں نے یہ سمجھ لیا کہ خود مسیح کسی زمانہ میں آسمان سے اتر آئے گا حالانکہ یہ صریح غلطی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فصیح اور پُرحکمت بیان میں یہ غیر موزوں اور بے تعلق اورغیر ؔمعقول بات ہرگز مقصود نہ تھی کہ ایک نبی جو اپنی زندگی کے دن پورے کر کے عادۃ اللہ کے موافق خداتعالیٰ اور نعیم آخرت کی طرف بلایا گیا پھر وہ اس دار تکالیف اور دارالفتن میں بھیجا جائے گا اور وہ نبوت جس پر مہر لگ چکی ہے اور وہ کتاب جو خاتم الکتب ہے فضیلت ختمیت سے محروم رہ جائے گی۔ ۔۔۔۔۔

اس پیشگوئی کے سمجھنے میں اہل عقل اور تدبر کرنے والوں کے لئے کچھ بھی دقت نہ تھی کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ مقدسہ ایسے صاف تھے کہ خود اس مطلب کی طرف رہبری کرتے تھے کہ ہرگز اس پیشگوئی میں نبی اسرائیلی کا دوبارہ دنیا میں آنا مراد نہیں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بار بار فرما دیا تھا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور حدیث لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ ایسی مشہور تھی کہ کسی کو اس کی صحت میں کلام نہ تھا اور قرآن شریف جس کا لفظ لفظ قطعی ہے اپنی آیت کریمہ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیِّیْنَ سے بھی اس بات کی تصدیق کرتا تھا کہ فی اؔلحقیقت ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔پھر کیونکر ممکن تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد تشریف لاوے۔ اس سے تو تمام تار و پود اسلام درہم برہم ہو جاتا تھا۔ ۔۔۔۔۔ غرض قرآن شریف میں خداتعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لا نَبِیّ بَعْدِی فرما کر اس امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آ سکتا اور پھر اس بات کو زیادہ واضح کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرما دیا تھا کہ آنے والا مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔ چنانچہصحیح بخاری کی حدیث اِمَامُکُمْ مِنْکُمْ اور صحیح مسلم کی حدیث فَاَمَّکُمْ مِنْکُمْ جو عین مقام ذکر مسیح موعود میں ہے صاف طور پر بتلا رہی ہے کہ وہ مسیح موعود اسی امت میں سے ہوگا۔!!!‘‘

                                                                             (کتاب البریہ ۔ روحانی خزائن جلد13ص216تا218)

            ’’ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے اُمّتی ہو۔ پس اِسی بنا پر مَیں اُمتی بھی ہوں اور نبی بھی۔ اور میری نبوت یعنی مکالمہ مخاطبہ الٰہیہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا ایک ظلّ ہے اور بجز اس کے میری نبوت کچھ بھی نہیں وہی نبوت محمدؐیہ ہے جو مجھ میں ظاہر ہوئی ہے۔ اور چونکہ مَیں محض ظلّ ہوں اور اُمّتی ہوں اس لئے آنجنابؐ کی اِس سے کچھ کسرِ شان نہیں۔ اور یہ مکالمہ الٰہیہ جو مجھ سے ہوتا ہے یقینی ہے۔ اگر مَیں ایک دم کے لئے بھی اِس میں شک کروں تو کافر ہوجاؤں اور میری آخرت تباہ ہو جائے۔ وہ کلام جو میرے پر نازل ہوا یقینی اور قطعی ہے۔ اور جیسا کہ آفتاب اور اس کی روشنی کو دیکھ کرکوئی شک نہیں کر سکتا کہ یہ آفتاب اور یہ اس کی روشنی ہے ایسا ہی مَیں اس کلام میں بھی شک نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے پر نازل ہوتا ہے اور مَیں  اس پر ایسا ہی ایمان لاتاؔ ہوں جیسا کہ خدا کی کتاب پر۔ یہ تو ممکن ہے کہ کلام الٰہی کے معنے کرنے میں بعض مواضع میں ایک وقت تک مجھ سے خطا ہو جائے۔ مگر یہ ممکن نہیں کہ مَیں شک کروں کہ وہ خدا کا کلام نہیں۔ اور چونکہ میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لئے خدا نے میرا نام نبی رکھا مگر بغیر شریعت کے۔ شریعت کا حامل قیامت تک قرآن شریف ہے۔‘‘

                                                                                    (تجلیات ِ الٰہیہ ۔ روحانی خزائن جلد 20صفحہ 412)

ترجمہ از عربی :۔                      نبوت ہمارے نبی کریم ﷺ پر ختم ہو گئی اور قرآن کریم کے سوا ہماری کوئی کتاب نہیں۔ جو سب سابقہ کتب میں سے بہتر ہے اور شریعت محمدیہ ؐ کے سوا ہماری کوئی شریعت نہیں۔ ہاں بے شک آنحضرت ﷺ کی زبان سے میرانام نبی رکھا گیا ہے اور یہ آپؐ کی کامِل پیروی کی برکات میں سے ایک ظلی امر ہے ۔ مَیں اپنے نفس میں کوئی خوبی نہیں پاتا اورجو کچھ بھی مَیں نے پایا ہے وہ اس مقدّس ذات سے پایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک میری نبوت سے مراد صرف کثرت مکالمہ و مخاطبہ ہے اور جو اس سے زیادہ کا دعویٰ کرے یا اپنے نفس کو کچھ اہمیت دے یا اپنی گردن کو آنحضرت ﷺ کے جوئے سے نکالے اس پر خدا کی لعنت ہے اور ہمارے رسول کریم ﷺ خاتم النبیین ہیں اور ان پر رسولوں کا سلسلہ ختم ہو گیا اور کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوتِ مستقلہ کا دعویٰ کرے اَب صرف کثرت مکالمہ باقی ہے اور وہ بھی اتباع ِ نبوی کے ساتھ ہی مشروط ہے اس کے سوا نہیں۔ اور اللہ کی قسم ! مجھے یہ مقام محمد مصطفیٰ ﷺ کے انوار کی شعاعوں کی پیروی سے ہی ملا ہے اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام مجازی طور پر نبی رکھا ہے نہ کہ حقیقی طور پر ۔ پس یہاں اللہ تعالیٰ کی غیرت یا رسول کریم ﷺ کی غیرت کے بھڑکنے کا کوئی مقام نہیں کیونکہ میری تربیت نبی کریم ﷺ کے پروں کے نیچے ہوئی ہے اور میرا قدم نبی کریم ﷺ کے نقوشِ قدم کی متابعت میں ہے اور مَیں نے کوئی بات اپنے پاس سے نہیں کی بلکہ اللہ تعالیٰ نے جومیر ی طرف وحی کی اس کی پیروی کی ہے اور اس کے بعد مَیں مخلوق کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔

                                                                                  (الاستفاء۔ روحانی خزائن جلد22۔صفحہ 689،688)

’’ہمیں اللہ تعالیٰ نے وہ نبی دیا جو خاتم المؤمنین ، خاتم العارفین اور خاتم النبیین ہے اور اسی طرح پر وہ کتاب اس پر نازل کی جو جامع الکتب اور ختم الکتب ہے ۔ رسول اللہ ﷺ جو خاتم النبیین ہیں اور آپ پر نبوت ختم ہو گئی  تو یہ نبوت اس طرح ختم نہیں ہوئی جیسے کوئی گلا گھونٹ کر ختم کر دے۔ ایسا ختم قابلِ فخر نہیں ہوتا بلکہ رسول اللہ ﷺ پر نبوت ختم ہونے سے یہ مراد ہے کہ طبعی طور پر آپؐ پر کمالاتِ نبوت ختم ہو گئے ۔ یعنی وہ تمام کمالات ِ متفرقہ جو آدم سےلے کر مسیح ابن ِ مریم ؑ تک نبیوں کو دئے گئے تھے کِسی کو کوئی اور کسی کوکوئی ۔ وہ سب کے سب آنحضرت ﷺ میں جمع کر دئے گئے اور اس طرح پر طبعًا آپؐ خاتم النبیین ٹھہرے اور ایساہی وہ جمیع تعلیمات وصایا اور معارف جو مختلف کتابوں میں چلے آتے ہیں وہ قرآن شریف پر آکر ختم ہو گئے اور قرآن شریف خاتم الکتب ٹھہرا۔‘‘

                                                                                    (الحکم جلد 9نمبر9مورخہ 17مارچ1905ء صفحہ 6)

’’خاتم النبیین کے معنے یہ ہیں کہ آپ ؑ کی مہر کے بغیر کسی کی نبوت کی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ جب مہر لگ جاتی ہے تو وہ کاغذ سَند ہو جاتا ہے اور مصدقہ سمجھا جاتا ہے ۔ اِسی طرح آنحضرت ﷺ کی مہر اور تصدیق جس نبوت پر نہ ہو وہ صحیح نہیں ہے ۔‘‘

                                                                               (الحکم جلد 6نمبر37مورخہ 17اکتوبر1903ء صفحہ 9)

’’نبوت جو اللہ تعالیٰ نے اب قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے بعد حرام کی ہے اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اب اس امت کو کوئی خیر و برکت ملے گی ہی نہیں اور نہ اس کو شرف ِ مکالمات اور مخاطبات ہو گا بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی مہر کے سوائے اب کوئی نبوت نہیں چل سکے گی۔ اِس اُمّت کے لوگوں پر جو نبی کا لفظ نہیں بولا گیا اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ حضرت موسیٰ ؑ کے بعد تو نبوت ختم نہیں ہوگئی تھی بلکہ ابھی آنحضرت ﷺ جیسے عالیجناب اولو العزم صاحبِ شریعت کمال آنے والے تھے اسی وجہ سے ان کے واسطے یہ لفظ جاری رکھا گیا مگر آنحضرت ﷺ کے بعد چونکہ ہر ایک قسم کی نبوت بجز آنحضرتﷺ کیااجازت کے بند ہو چکی تھی اس واسطے ضروری تھا کہ اس کی عظمت کی وجہ سے وہ لفظ نہ بولا جاتا۔ مَاکَانَ مُحَمَّدٌ اَبَآ اَحَدٍمِّنْ رِّجَالِکُمْ وَلٰکِنْ رَّسُوْلَ اللّٰہِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے جسمانی طور سے آپؐ کی اولاد کی نفی بھی کی ہے اور ساتھ ہی روحانی طور سے اثبات بھی کیا ہے کہ روحانی طور سے آپ باپ بھی ہیں اور روحانی نبوت اور فیض کا سلسلہ آپؐ کے بعد جاری رہے گا اور وہ آپ میں سے ہوکر جاری ہوگا نہ الگ طور سے ۔ وہ نبوت چل سکے گی جس پر آپؐ کی مہر ہو گی۔ ورنہ اگر نبوت کا دروازہ بالکل بند سمجھا جاوے تو نعوذباللہ اس سے تو انقطاع فیض لازم آتا ہے اور اس میں تو نحوست ہے اور نبی کی ہتک شان ہوتی ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو یہ جو کہا کہ کنتم خیر امۃ یہ جھوٹ تھا نعوذباللہ۔ اگر یہ معنے کئے جاویں کہ آئندہ کے واسطے نبوت کا دروازہ ہر طرح سے بند ہے تو خیر الامۃ کی بجائے شر الامم ہوئی یہ امت۔ جب اس کو اللہ تعالیٰ سے مکالمات اور مخاطبات کا شرف بھی نصیب نہ ہوا تو یہ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ ہوئی اور بہائم سیرت اسے کہنا چاہیے نہ یہ کہ خیر الامم۔ ۔۔۔۔

            نہیں بلکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کا سلسلہ جاری ہے مگر آپؐ میں سے ہو کر اور آپؐ کی مہر سے ۔اور فیضان کا سلسلہ جاری ہے ۔ ہزاروں اس امت سے مکالمات اور مخاطبات کے شرف سے مشرف ہوئے اور انبیاء کے خصائص ان میں موجود ہوتے رہے۔ ‘‘

                                                                                (الحکم جلد 7نمبر14مورخہ17اپریل 1903ء صفحہ 8)

’’نبوت کا لفظ ہمارے الہامات میں دو شرطیں رکھتا ہے اول یہ کہ اس کے ساتھ شریعت نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ بواسطہ آنحضرتﷺ ۔‘‘

                                                                             (الحکم جلد 7نمبر14مورخہ 17اپریل 1903ء صفحہ 12)

’’خوب یاد رکھو کہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں یعنی ہمارے نبی ﷺ کے بعد کوئی نئی شریعت اور نئی کتاب نہ آئے گی۔ نئے احکام نہ آئیں گے ۔ یہی کتاب اور یہی احکام رہیں گے ۔ جو الفاظ میر ی کتابوں میں نبی یا رسول کے میرے نسبت پائے جاتے ہیں اس میں ہر گز یہ منشاء نہیں ہے کہ کوئی نئی شریعت یانئے احکام سکھائے جاویں بلکہ منشاء یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی ضرورت ِ حقّہ کے وقت کسی کومامور کرتا ہے تو ان معنوں سے کہ مکالمات ِ الٰہیہ کا شرف اس کو دیتا ہے اور غیب کی خبریں اس کو دیتا ہے اس پر نبی کا لفظ بولا جاتا ہے اور وہ مامور نبی کا خطاب پاتا ہے ۔ یہ معنے نہیں ہیں کہ نئی شریعت دیتا ہے یا وہ آنحضرتﷺ کی شریعت کو نعوذباللہ منسوخ کرتا ہے بلکہ یہ جو کچھ اُسے ملتا ہے وہ آنحضرت ﷺ ہی کی سچی اور کامل اتباع سے ملتا ہے اور بغیر اس کے مل سکتا ہی نہیں۔ ‘‘

                                                                        (الحکم جلد8نمبر1مورخہ 10جنوری1904ء صفحہ 2)

We recommend Firefox for better fonts view.