AskAhmadiyyat

حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ان معنوں میں خاتم ہیں کہ آپؐ کی شریعت آخری ہے اور قیامت تک منسوخ نہیں ہو سکتی ۔ مگر غیر تشریعی، تابع محمدی اور امتی نبوت کا امکان ختم نہیں ہوا جو آپؐ کی وساطت اور آپ ؐ ہی کے فیض سے جاری ہو اور آپؐ ہی کی مہر تصدیق اس پر ثبت ہو۔

٭ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔
” میں اس کے رسولؐ پر دلی صدق سے ایمان لایا ہوں۔اور جانتا ہوں کہ تمام نبوتیں اس پر ختم ہیں اور اس کی شریعت خاتم الشرائع ہے۔ مگر ایک قسم کی نبوت ختم نہیں یعنی وہ نبوت جو اس کی کامل پیروی سے ملتی ہے اور جو اس کے چراغ میں سے نور لیتی ہے وہ ختم نہیں۔ کیونکہ وہ محمدی نبوت ہے یعنی اس کا ظل ہے اور اسی کے ذریعہ سے ہے اور اسی کا مظہر ہے اور اسی سے فیضیاب ہے۔”

(چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ340)

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔
”یہ شرف مجھے محض آنحضرت صلعم کی پیروی سے حاصل ہوا ۔ اگر میں آنحضرت صلعم کی امت نہ ہوتا اور آپؐ کی پیروی نہ کرتا تو اگر دنیا کے تمام پہاڑوں کے برابر میرے اعمال ہوتے تو پھر بھی میں کبھی یہ شرف مکالمہ و مخاطبہ ہرگز نہ پاتا کیونکہ اب بجز محمدی نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے۔ مگر وہی جو پہلے امتی ہو۔ پس اسی بناء پر میں امتی بھی ہوں اور نبی بھی۔”

(تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد20 صفحہ412،411)

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔

ہست او خیر الرسل خیر الانام
ہر  نبوت   را  بر و شد  اختتام

(سراج منیر روحانی خزائن جلد 12 ص 96،95)

ترجمہ:۔
وہی خیر الرسل اور خیر الانام ہے اور ہر قسم کی نبوت کی تکمیل اس پر ہوگئی۔

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔
”صرف اس نبوت کا دروازہ بند ہے جو احکام شریعت جدیدہ ساتھ رکھتی ہو یا ایسا دعویٰ ہو جو آنحضرت ؐ کی اتباع سے الگ ہو کر دعویٰ کیا جائے۔لیکن ایسا شخص جو ایک طرف اس کو خدا تعالیٰ اس کی وحی میں امتی بھی قرار دیتا ہے پھر دوسری طرف اس کا نام نبی بھی رکھتا ہے یہ دعویٰ قرآن شریف کے احکام کے مخالف نہیں ہے۔کیونکہ یہ نبوت بباعث امتی ہونے کے دراصل آنحضرت ؐ کی نبوت کا ایک ظل ہے کوئی مستقل نبوت نہیں ۔”

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21صفحہ 356)

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام آیت خاتم النبیین کی تفسیر میں فرماتے ہیں:۔
”اب بجز محمدیؐ نبوت کے سب نبوتیں بند ہیں۔ شریعت والا نبی کوئی نہیں آسکتا اور بغیر شریعت کے نبی ہو سکتا ہے مگر وہی جو پہلے امتی ہو”

(تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد20 صفحہ 412)

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔
وَاِنَّ نَبِیَّنَا خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ لَا نَبِیَّ بَعْدَہ، اِلَّا الَّذِیْ یُنَوَّرُ بِنُوْرِہٖ وَیَکُوْنُ ظُھُوْرُہ، ظِلَّ ظُھُوْرِہٖ۔

(الاستفتاء ضمیمہ حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد22صفحہ 643)

ترجمہ:۔اور ہمارے نبی ؐخاتم الانبیاء ہیں ۔اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا سوائے اس شخص کے جو آپ ہی کے نور سے منور ہو اور آپ ہی کا ظہور وبروز ہو۔

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔
”کوئی مرتبہ شرف وکمال کا اور کوئی مقام عزت ا ورقرب کا بجز سچی اور کامل متابعت اپنے نبی ؐ کے ہم ہرگز حاصل نہیں کر ہی نہیں سکتے۔ ہمیں جو کچھ ملتا ہے ظلی اور طفیلی طور پر ملتا ہے۔

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ170)

٭حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں:۔

اس نور پر فدا ہوں اس کا ہی میں ہوا ہوں
وہ ہے  میں  چیز کیا ہوں بس فیصلہ یہی ہے

(قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد 20 ص 456)

    We recommend Firefox for better fonts view.