AskAhmadiyyat

کیا حضرت مسیح موعودؑ کا انکا ر کرنے والا کافر ہے؟

اعترض: ۔حضرت مسیح موعودؑ نے ان تما م مسلمانوں کے خلا ف جو آپ کا انکا ر کرتے ہیں کفر کا فتوی دیا ۔

حضرت مسیح موعودؑ کی جس تحریر کو سا منے رکھ کر یہ اعتراض کیا جا تا ہے۔وہ حسب ذیل ہے۔

” خدا تعا لیٰ نے میرے پر ظاہر کیا ہے کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے“

(تذکرہ صفحہ519)

جواب

معترضین کی پیش کردہ یہ تحریر در اصل اس مکتو ب کا حصہ ہے جو آ پؑ نے عبد الحکیم کو لکھا۔حضرت مسیح موعود ؑ کی زندگی میں ہی آپ ؑکے سامنے یہ سو ال پیش ہوااور حضو رؑ نے اس کا مدلّل جواب حقیقة الوحی میں دیا، یہ سوال اور اس پر حضرت مسیح موعود ؑ کے جو اب کو یہاں درج کر نے سے قبل ایک وضاحت ضروری ہے۔ اوروہ یہ ہے کہ ۔

عمومی وضا حت

درحقیقت امت محمد یہ کے تمام بڑے بڑے فر قے باوجود اس کے کہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کلمہ گو سبھی مسلمان ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی صداقت کے قائل ہیں پھر بھی دیگر وجوہات اور اختلافات عقائد کی بناء پر ایک دوسرے پر کفر کے فتوے لگاتے ہیں ۔جبکہ احمدی جب دوسرے مسلمانوں پر کفر کا فتوی لگاتے ہیں تو محض اسی بناء پر کہ وہ خود حضرت مرزا صاحب کو آپؑ کے دعاوی کی بناء پر کافر قرار دیتے ہیں۔ اور حدیث نبوی کی روسے ایک مسلمان جب دوسرے مسلمان کو کافر قرار دے تو یہ کفر اسی پر الٹ آتا ہے ۔

چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا :

ایُّمَارَجُلٍ مُسْلِمٍ کَفَرَ رَجُلاًمُسلِماً فاِنْ کَانَ کافراً واِلَّا کَانَ ھُوَ الْکَافِرُ  

(سنن ابی داوٴد کتاب السنة)

یعنی جب کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو کافر ٹھہرائے تو اگرچہ وہ خود کا فر ہو یا نہ ہو لیکن اپنے اس عمل سے وہ ضرور کافر ہو جاتا ہے ۔

پس عقلاً و نقلاً احمدیو ں کے لئے کوئی اور راہ باقی ہی نہیں رہتی کہ وہ جس کو خدا کا بھیجا ہوا امام تسلیم کرتے ہیں اس کی تکفیر کرنے والے کو کافر قرار نہ دیں ۔یہ کوئی غلط بات دوسروں کی طرف منسوب نہیں کی جارہی ۔یہ ایسی بات ہے جس پر دوسرے خود فخر کرتے ہیں کہ وہ اس مسیح موعود و مہدی موعود پر کفر کا فتوی صادر کرتے ہیں ۔ پس اگر معترضین اس پر فخر کرتے ہیں تو ان کا اپنا کفر فتوی حدیث کے مطابق ان پر ہی الٹتا ہے تو پھر ان کو اس سے تکلیف نہیں ہو نی چاہیے ۔

اعترا ض کی اصل حقیقت

اس وضاحت کے بعد اب ملاحظہ فرمائیں وہ سوال اور اس پر حضرت مسیح موعود ؑکاتفصیلی جواب جس میں معترض کے کسی ہمنوا نے اسی قسم کا ایک اعتراض اٹھایا ہے ۔

حضرت مسیح موعودؑ سے سوال اور اس کا جواب:۔

حضور عالی نے ہزاروں جگہ تحریر فرمایا ہے کہ کلمہ گو اور اہل قبلہ کو کافر کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے اس سے صاف ظاہر ہے کہ علاوہ اُن مومنوں کے جو آپ کی تکفیر کرکے کافربن جائیں صرف آپ کے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہو سکتا۔ لیکن عبد الحکیم خان کو آپ لکھتے ہیں کہ ہر ایک شخص جس کو میری دعوت پہنچی ہے اور اُس نے مجھے قبول نہیں کیا وہ مسلمان نہیں ہے۔ اِس بیان اور پہلی کتابوں کے بیان میں تناقض ہے۔ یعنی پہلے آپ تریاق القلوب وغیرہ میں لکھ چکے ہیں کہ میرے نہ ماننے سے کوئی کافر نہیں ہوتا اور اب آپ لکھتے ہیں کہ میرے انکار سے کافر ہو جاتا ہے۔

الجواب

حضرت مسیح موعود ؑ فرما تے ہیں:۔

 ْْیہ عجیب بات ہے کہ آپ کافر کہنے والے اور نہ ماننے والے کو دو قسم کے انسان ٹھہراتے ہیں حالانکہ خدا کے نزدیک ایک ہی قسم ہے کیونکہ جو شخص مجھے نہیں مانتا وہ اِسی وجہ سے نہیں مانتا کہ وہ مجھے مُفتری قرار دیتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خدا پر افترا کرنے والا سب کافروں سے بڑھ کر کافر ہے جیسا کہ فرماتا ہے فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَیٰ عَلَی اللّٰہ کَذِبا اَوْ کذَّبَ باٰیٰتِہ(الاعراف:38۔ناقل)یعنی بڑے کافر دو ہی ہیں ایک خدا پر افترا کرنے والا ۔دوسرا خدا کے کلام کی تکذیب کرنے والا۔

پس جبکہ میں نے ایک مکذب کے نزدیک خدا پر افترا کیا ہے۔ اس صورت میں نہ میں صرف کافر بلکہ بڑا کافر ہوا، اور اگر میں مُفتری نہیں تو بلا شُبہ وہ کفر اُس پر پڑے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اِس آیت میں خود فرمایا ہے۔ علاوہ اِس کے جو مجھے نہیں مانتا وہ خدا اور رسول کو بھی نہیں مانتا کیونکہ میری نسبت خدا اور رسول کی پیشگوئی موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ آخری زمانہ میں میری اُمت میں سے ہی مسیح موعود آئے گا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی تھی کہ میں معراج کی رات میں مسیح ابن مریم کو اُن نبیوں میں دیکھ آیا ہوں جو اِس دنیا سے گذر گئے ہیں اور یحیٰ شہید کے پاس دوسرے آسمان میں اُن کو دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں خبر دی کہ مسیح ابن مریم فوت ہو گیا ہے اور خدا نے میری سچائی کی گواہی کے لئے تین لاکھ سے زیادہ آسمانی نشان ظاہر کئے اور آسمان پر کسوف خسوف رمضان میں ہوا۔ اب جو شخص خدا اور رسول کے بیان کو نہیں مانتا اور قرآن کی تکذیب کرتا ہے اور عمدًا خدا تعالیٰ کے نشانوں کو رد کرتا ہے اور مجھ کو باوجود صدہا نشانوں کے مُفتری ٹھہراتا ہے تو وہ مومن کیونکر ہو سکتا ہے اور اگر وہ مومن ہے تو میں بوجہ افترا کرنے کے کافر ٹھہرا کیونکہ میں اُن کی نظر میں مفتری ہوں اور اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَکِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْإِیْمَانُ فِیْ قُلُوبِکُمْ(الحجرا ت:15۔ناقل) یعنی عرب کے دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ اُن سے کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے۔ ہاں یوں کہو کہ ہم نے اطاعت اختیار کر لی ہے اور ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ پس جبکہ خدا اطاعت کرنے والوں کا نام مومن نہیں رکھتا۔ پھروہ لوگ خدا کے نزدیک کیونکر مومن ہو سکتے ہیں جو کھلے کھلے طور پر خدا کے کلام کی تکذیب کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے ہزار ہانشان دیکھ کر جو زمین اور آسمان میں ظاہر ہوئے پھر بھی میری تکذیب سے باز نہیں آتے۔ وہ خود اس بات کا اقرار رکھتے ہیں کہ اگر میں مفتری نہیں اور مومن ہوں تو اس صورت میں وہ میری تکذیب اور تکفیر کے بعد کافر ہوئے اور مجھے کافر ٹھہراکر اپنے کفر پر مہر لگا دی۔ یہ ایک شریعت کا مسئلہ ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا آخر کافر ہو جاتا ہے۔ پھر جب کہ قریبًا دوسو مولوی نے مجھے کافر ٹھہرایا اور میرے پر کُفر کا فتویٰ لکھا گیا اور انہیں کے فتویٰ سے یہ بات ثابت ہے کہ مومن کو کافر کہنے والا کافر ہو جاتا ہے اور کافر کو مومن کہنے والا بھی کافر ہو جاتاہے۔ تو اب اِس بات کا سہل علاج ہے کہ اگر دوسرے لوگوں میں تخم دیانت اورایمان ہے اور وہ منافق نہیں ہیں تو اُن کو چاہئے کہ ان مولویوں کے بارے میں ایک لمبا اشتہار ہر ایک مولوی کے نام کی تصریح سے شائع کر دیں کہ یہ سب کافر ہیں کیونکہ انہوں نے ایک مسلمان کو کافر بنایا۔ تب میں اُن کو مسلمان سمجھ لوں گا۔ بشرطیکہ اُن میں کوئی نفاق کا شبہ نہ پایا جاوے اور خدا کے کُھلے کُھلے معجزات کے مکذب نہ ہوں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ اْلمُنَافِقِیْنَ فِیْ الْدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ الْنَّارِ(النساء:146:ناقل) یعنی منافق دوزخ کے نیچے کے طبقے میں ڈالے جائیں گے اور حدیث شریف میں یہ بھی ہے کہ مَا زَنَا زَانٍ وَ ھُوَ مُوٴْمِن وَمَا سَرَقَ سَارِق وَھُوَ مُوٴْمِن۔ یعنی کوئی زانی زنا کی حالت میں اور کوئی چور چوری کی حالت میں مومن نہیں ہوگا۔ پھر منافق نفاق کی حالت میں کیونکر مومن ہو سکتا ہے۔ اگر یہ مسئلہ صحیح نہیں ہے کہ کسی کو کافر کہنے سے انسان خود کافر ہو جاتا ہے تو اپنے مولویوں کا فتویٰ مجھے دکھلادیں میں قبول کر لوں گا اور اگر کافر ہو جاتا ہے تو دو سو مولوی کے کفر کی نسبت نام بنام ایک اشتہار شائع کر دیں۔ بعد اس کے حرام ہوگا کہ میں اُن کے اسلام میں شک کروں بشرطیکہ کوئی نفاق کی سیرت اُن میں نہ پائی جائے۔“

(حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد 22 ص 167تا 169 )

اس مسئلہ کی مزید وضاحت بھی آپ ؑ نے فرمائی کہ:

”ہم کسی کلمہ گو کو اسلا م سے خارج نہیں کہتے جب تک کہ وہ ہمیں کافر کہہ کر خود کافر نہ بن جائے ۔۔۔۔جو ہمیں کافر نہیں کہتا ہم اسے کافر ہر گز نہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتا ہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہو سکتا ۔“

(ملفوظات جلد 10 ص 376 تا 377)

تکفیر میں ابتداء حضرت مسیح موعود ؑکے مخالفین نے کی تھی جس کی وجہ سے و ہ خود اس کے مورد بنے اور حدیث نبوی کے فیصلہ کے تحت کافر ہوئے ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے خود کسی کو کافر قرار نہیں دیا ۔

حضرت مسیح موعود ؑ اور جماعت احمدیہ کا مسلک تو بڑاواضح اور شریعت کے عین مطابق ہے ۔حضرت مسیح موعود ؑ نے کسی کو کافر قرار نہیں دیا بلکہ حضورر ﷺ نے کلمہ گو مسلمان کو کافر کہنے والے کو کافر قرار دیا ہے ۔پس معترض نے یہا ں بھی عوام النا س کو دھوکہ دیا ہے۔

مسیح اور مہدی کا انکارکرنے والا

حقیقت یہ ہے کہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی ؑ و ہ مسیح موعود اور معہود مہدی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے صحف سابقہ کی نیز حضور ﷺ کی پیشگوئیوں کے عین مطابق مبعوث فرمایاہے ۔اس لئے آپ ؑ کا انکارلازماً خدا تعالیٰ کی نافرمانی ہے اور حضور ﷺ کے فرمودات کا انکار قرار پاتا ہے ۔حضورر ﷺ نے اپنے مسیح و مہدی کے بارہ میں فرمایا تھا :

 ”اِذَارَاَیْتُمُوْہُ فَبَایِعُوہُ

کہ جب تم اس کو پاوٴ تو اس کی بیعت میں داخل ہوجانا ۔

 (ابن ماجہ کتاب الفتن باب خروج المہدی)

یہاں سوال دراصل حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کی ذات کا نہیں بلکہ اس مسیح اور مہد ی کا ہے جس کے منصب پر آپ ؑ کو خداتعالیٰ نے فائز فرمایا ۔اس مسیح و مہدی پر ایمان لانے کا اور اس کی بیعت کرنے کا ارشاد حضورﷺ کا ہے اور ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے کہ:

مَنْ مَاتَ وَلَیْسَ فِیْ عُنُقِہ بَیْعَةٌ مَاتَ مِیْتَةَ الْجَاھِلِیَةِ

(مسلم کتاب الامارة باب وجوب الملازمة جماعة المسلمین )

اس مکمل جواب کے بعد حسب ذیل امور بھی قارئین کی دلچسپی کے لئے پیش ہیں ۔چنانچہ لکھا ہے :

قَالَ رسُول اللّٰہِ ﷺ مَنْ اَنْکَرَ خُرُوْجَ الْمَھْدِیِّ فَقَدْ اَنْکَرَ بِمَا اُنْزِل عَلَی مُحَمَّدٍ

(ینابیع المودة الباب الثامن والسبعون از علامہ الشیخ سلیمان بن الشیخ ابراہیم المتوفی 1294ء)

ترجمہ : نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے مہدی کے ظہور کاانکار کیا اس نے گویا ان باتوں کا انکا رکیا جو محمدﷺ پر نازل ہوئیں ۔

اسی طرح اہل حدیث کے مستند اور مسلمہ بزرگ یہ فتوی تحریر کرچکے ہیں کہ :

مَنْ کَذَّبَ بِالْمَھْدِیِّ فَقَدْ کَفَرَ

(حجج الکرامہ ص 351از نواب صدیق حسن خان بھوپالی ۔مطبع شاہجہان پریس بھوپال )

کہ جس نے مہدی کی تکذیب کی اس نے یقینا کفر کیا ۔

نواب نور الحسن خان آف بھوپال لکھتے ہیں :

”جو کوئی ۔۔۔۔۔تکذیبِ مہد ی کرے گا وہ کافر ہو جائے گا ۔“

(اقتراب الساعة صفحہ 100مصنفہ نواب نو ر الحسن خان صاحب)

یہ فتوے جماعت احمدیہ کے نہیں بلکہ معترض اور ان کے ہم مشربوں کے بزرگوں کے ہیں جو انہی لوگوں کے لئے حجت کے طورپر پیش کئے گئے ہیں ۔جماعت احمدیہ جن عقائد پر قائم ہے وہ قرآن کریم کی محکم آیات اور واضح احادیث ہیں جنہیں حضرت مسیح موعودؑ نے بڑی وضاحت کے ساتھ پیش فرمایا ہے اور انہیں اپنے موٴقف کی بنیاد ٹھہرایا ۔

خلا صہ جواب

الغرض معترض کے لئے راستہ کھلا ہے کہ وہ مسیح موعود ؑ کی تکفیر کریں یاتصدیق ،تصدیق کریں گے تو ہر حال میں مسلمان ہی رہیں گے لیکن تکفیر کریں گے تو ان کی تکفیر الٹ کر انہی کو کافر بنائے گی ۔البتہ ایسے معترضین کا کفر ویسے ہی دوہرا ہے ۔ایک ا س وجہ سے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کے سچے مسیح و مہدی نبی اللہ کا انکا ر کیا اور دوسرے اس وجہ سے کہ انہوں نے اسے کافر ٹھہرایا ۔پس انہیں اپنی فکر کرنی چاہیے کہ انہیں اللہ تعالی کے حضور اپنے اس کفر کا حساب دینا ہے ۔

We recommend Firefox for better fonts view.