AskAhmadiyyat

نبی اکرم ﷺ نے اپنی مسجد کوبھی آخر المساجد فرمایاہے

حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں :۔

’’افسوس کہ یہ لوگ آخر الانبیاء تو دیکھتے ہیں ، مگر مسلم کی حدیث میں جو اس کے ساتھ ہی وَاِنَّ مَسْجِدیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ (مسلم کتاب الحج۔ باب فضل الصلوٰۃ بمسجدی مکۃ والمدینۃ)آیا ہے اسے نہیں دیکھتے۔ اگرفَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ کے معنی ہیں کہ آپؐ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں تو وَاِنَّ مَسْجِدیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے بھی یہ معنی ہوں گے کہ مسجد نبوی کے بعد کوئی مسجد نہیں بنوائی جا سکتی ، لیکن وہی لوگ جو   فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِکے الفاظ سے استدلال کرکے ہر قسم کی نبوت کی نفی کر دیتے ہیں۔ وہ وَاِنَّ مَسْجِدیْ اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے الفاظ کی موجود گی میں نہ صرف اور مسجدیں بنوا رہے ہیں بلکہ اس قدر مساجد تیار کر وا رہے ہیں کہ آج بعض شہروں میں مساجد کی زیادتی کی وجہ سے بہت سی مساجد ویران پڑی ہیں۔۔۔۔اگر اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ کے آنے کے باعث کوئی انسان نبی نہیں ہو سکتا تو اٰخِرُ الْمَسَاجِدِ کے بعد دوسری مسجدیں کیوں بنوائی جاتی ہیں ۔

 اس سوال کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ یہ مسجدیں رسول کریم ﷺ ہی کی مسجدیں ہیں کیونکہ ان میں اسی طریق پر عبادت ہوتی ہے جس طریق کی عبادت کے لئے رسول کریم ﷺ نے مسجد بنوائی تھی ۔ پس بوجہ ظلیت کے یہ اس سے جُدا نہیں ہیں اس لئے اس کے آخر ہونے کی نفی نہیں کرتیں۔ یہ جواب درست ہے مگر ہم کہتے ہیں کہ اسی طرح فَاِنِّیْ اٰخِرُ الْاَنْبِیَاءِ کے باوجود ایسے نبی بھی آسکتے ہیں جو رسول کریم ﷺ کے لئے بطور ظل کے ہوں اور جو بجائے نئی شریعت لانے کے آپؐ ہی کی شریعت کے متبع ہوں اور آپؐ کی تعلیم کے پھیلانے ہی کے لئے بھیجے گئے ہوں اور سب کچھ اُن کو آپؐ ہی کے فیض سے حاصل ہوا ہو۔ اس قسم کے نبیوں کی آمد سے آپ کے آخر الانبیاء ہونے میں اسی طرح فرق نہیں آتا جس طرح آپؐ کی مسجد کے نمونے پر نئی مساجد کے تیار کرانے سے آپؐ کی مسجد کے آخر المساجد ہونے میں کوئی فرق نہیں آتا۔

اسی طرح لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کے بھی یہ معنی نہیں کہ آپؐ کی بعثت کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا بلکہ اس کے بھی یہ معنی ہیں کہ ایسا نبی نہیں آسکتا جو آپؐ کی شریعت کو منسوخ کر ے۔ کیونکہ بعد وہی چیز ہو سکتی ہے جو پہلی کے ختم ہونے پر شروع ہو۔ پس جو نبی رسول کریم ﷺ کی نبوت کی تائید کے لئے آئے وہ رسول کریم ﷺ کے بعد نبی نہیں کہلا سکتا۔ وہ تو آپؐ کی نبوت کے اندر ہے بعدتو تب ہوتا جب آپؐ کی شریعت کا کوئی حکم منسوخ کرتا۔ عقلمند انسان کا کام ہوتا ہے کہ ہر ایک مضمون پر پورے طور پر غور کرے اور لفظوں کی تہ تک پہنچے۔ غالباً انہیں لوگوں کے متعلق اسی قسم کے دھوکے میں پڑجانے کا ڈر تھا جس کے باعث حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا قُوْلُوْا اِنَّہُ خَاتَمُ الْاَنْبِیَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِیَّ بَعْدَہُ۔(تکملہ مجمع بحار الانوار جلد 4 ص85)یعنی اے لوگو! یہ تو کہو کہ آپؐ خاتم النبیین تھے مگر یہ نہ کہو کہ آپؐ کے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔ اگر حضرت عائشہ ؓکے نزدیک رسول کریم ﷺ کے بعد کسی قسم کا نبی بھی نہیں آسکتا تھا تو آپنے لَا نَبِیَّ بَعْدِیْ کہنے سے لوگوں کو کیوں روکا اور اگر اُن کا خیال درست نہ تھا تو کیوں صحابہ ؓنے ان کے قول کی تردید نہ کی۔ پس ان کا لَانَبِیَّ بَعْدَہُ کہنے سے روکنا بتا تا ہے کہ ان کے نزدیک آنحضرت ﷺ کے بعد نبی تو آسکتا تھا مگر صاحب شریعت نبی یا رسول کریم ﷺ سے آزاد نبی نہیں آسکتا تھا اور صحابہ کا آپ کے قول پر خاموش رہنا بتاتا ہے کہ باقی سب صحابہ بھی ان کی طرح اس مسئلہ کو مانتے تھے۔ ‘‘

(دعوۃ الامیر۔ ص51تا53)

We recommend Firefox for better fonts view.