AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعودؑ کی تحریرات کے ذریعہ جواب کہ کلام اللہ میں آپؑ کا نام ابن مریم رکھا گیا ہے

اس کا جواب حضرت مسیح موعود ؑ کے الفاظ میں پیش ہے ۔ آپؑ نے متعدد جگہ اس بات کا جواب بیان فرمایا ہے۔ ان میں سے چند اقتباسات پیش ہیں ۔آپؑ فرماتے ہیں :۔

            ’’  کتاب براہین احمدیہ میں اول خدا نے میرا نام مریم رکھا اور پھر فرمایا کہ مَیں نے اِس مریم میں صدق کی رُوح پھونکنے کے بعد اس کا نام عیسیٰ رکھ دیاگویا مریمی حالت سے عیسیٰ پیدا ہو گیا اور اس طرح میں خدا کے کلام میں ابن مریم کہلایا۔ اِس بارہ میں قرآن شریف میں بھی ایک اشارہ ہے اور وہ میرے لئے بطور پیشگوئی کے ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اِس اُمّت کے بعض افراد کو مریم سے تشبیہ دیتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ وہ مریم عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی اور اب ظاہر ہے کہ اس اُمّت میں بجُز میرے کسی نے اِس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ میرا نام خدا نے مریم رکھا اور پھر  اس مریم میں عیسیٰ کی روح پھونک دی ہے اور خدا کا کلام باطل نہیں ضرور ہے کہ اس اُمّت میں کوئی اس کا مصداؔ ق ہو۔ اور خوب غور کرکے دیکھ لو اور دنیا میں تلاش کر لو کہ قرآن شریف کی اس آیت کا بجُز میرے کوئی دنیا میں مصداق نہیں۔ پس یہ پیشگوئی سورہ تحریم میں خاص میرے لئے ہے اور وہ آیت یہ ہے وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ  عِمْرَان َ الَّتِیْ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَافَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا(التحریم:13) دیکھو سورۃ تحریم الجزو نمبر 28(ترجمہ۔اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے )جس نے اپنی عصمت  کو اچھی طرح بچائے رکھاتو ہم نے اس میں اپنی روح میں سے کچھ پھونکا۔ ناقل) اوردوسری مثال اس اُمّت کے افرادکی مریم عمران کی بیٹی ہے جس نے اپنی عصمت کو محفوظ رکھا تب ہم نے اُس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی یعنی عیسیٰ کی روح۔ اب ظاہر ہے کہ بموجب اس آیت کے اس اُمّت کی مریم کو پہلی مریم کے ساتھ تب مشابہت پیدا ہوتی ہے کہ اس میں بھی عیسیٰ کی روح پھونک دی جائے جیسا کہ خدا نے خود روح پھونکنے کا ذکر بھی اِس آیت میں فرما دیا ہے اور ضرور ہے کہ خدا کا کلام پورا ہو۔پس اِس تمام اُمّت میں وہ میں ہی ہوں میرا ہی نام خدا نے براہین احمدیہ میں پہلے مریم رکھا اور بعد اس کے میری ہی نسبت یہ کہا کہ ہم نے اس مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی اور پھر روح پھونکنے کے بعد مجھے ہی عیسیٰ قرار دیا۔ پس اِس آیت کا میں ہی مصداق ہوں۔ میرے سوا تیرہ۱۳۰۰ سو برس میں کسی نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ پہلے خدا نے میرا نام مریم رکھا اور مریم میں اپنی طرف سے روح پھونک دی جس سے مَیں عیسیٰ بن گیا۔ خدا سے ڈرواور اِس میں غور کرو جس زمانہ میں خدا نے براہین احمدیہ میں یہ فرمایا اُسوقت تو میں اِس دقیقہ معرفت سے خود بے خبر تھا جیسا کہ میں نے براہین احمدیہ میں اپنا عقیدہ بھی ظاہرکر دیا کہ عیسیٰ آسمان سے آنیوالا ہے۔ یہ میرا عقیدہ اِس بات پر گواہ ہے کہ میری طرف سے کوئی افترا نہیں اور میں خدا کی تفہیم سے پہلے کچھ نہیں سمجھ سکا۔ ‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ رخ جلد 22ص350-351حاشیہ)

پھر فرماتے ہیں :۔

’’ یہ نکتہ بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں مجھے عیسیٰ کے نام سے موسوم کرنے سے پہلے میرا نام مریم رکھا اور ایک مدّت تک میرا نام خدا کے نزدیک یہی رہا اور پھر خدا نے مجھے مخاطب کرکے فرمایا کہ اے مریم میں نے تجھ میں سچائی کی رُوح پھونک دی گویا یہ مریم سچائی کی روح سے حاملہ ہوئی اور پھر خدا نے براہین احمدیہ کے اخیر میں میرا نام عیسیٰ رکھ دیاگویا وہ سچائی کی روح جو مریم میں پھونکی گئی تھی ظہور میں آکر عیسیٰ کے نام سے موسوم ہو گئی۔ پس اِس طرح پر مَیں خدا کی کلام میں ابن مریم کہلایا   ‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ رخ جلد 22ص 351-352)

’’ترجمہ از عربی :۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ تحریم میں اپنے قول فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا (ترجمہ : تب ہم نے اُس کے پیٹ میں اپنی قدرت سے روح پھونک دی۔ناقل)میں مومنوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ ان میں سے ابن مریم پیدا کرے گا اور وہ شخص اس نام کا وارث ہو گا اور وہ ماہیت میں بغیر کسی فرق کے عیسیٰ ہو گا۔ پس اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ پختہ وعدہ کیا گیا ہے کہ اس امت میں سے ایک فرد کا نام ابن مریم رکھا جائے گا اور اس میں کامل تقویٰ کے بعد مسیح کی روح پھونکی جائے گی سو مَیں ہی وہ مسیح ہوں جسے تم اس کے دعویٰ کے بارہ میں ملامت کر رہے ہو ۔   ‘‘

(خطبہ الہامیہ۔ رخ جلد 16ص309)

We recommend Firefox for better fonts view.