AskAhmadiyyat

پنشن لینے کے واقعے کے بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی وضاحت

معترضہ عبارت سیرت المہدی:

’’بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ ایک دفعہ اپنی جوانی کے زمانہ میں حضرت صاحب  تمہارے دادا کی پنشن  وصول کرنے گئے۔ تو پیچھے پیچھے مرزاامام دین بھی چلا گیا۔ جب آپ نے پنشن وصول کر لی تو آپ کو پھسلا کر اور دھوکہ دے کر بجائے قادیان کے باہر لے گیا اور ادھر ادھر پھراتا رہا۔ پھر جب سارا روپیہ اڑا کر ختم کر دیا تو وہ آپ کو چھوڑ کر کہیں اور چلا گیا۔ حضرت صاحب اس شرم کے مارے گھر نہیں آئے۔ بلکہ سیالکوٹ پہنچ کر ڈپٹی کمشنر کی کچہری میں قلیل تنخواہ پر ملازم ہوگئے۔‘‘

(سیرۃ المہدی ج1 ص38-39، روایت نمبر49)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ  کی وضاحت

’’(اس روایت سے یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سیالکوٹ میں ملازم ہونا اس وجہ سے تھا کہ آپ سے مرزا امام الدین نے دادا صاحب کی پنشن کا روپیہ دھوکا دے کر اڑا لیا تھاکیونکہ جیسا کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیفات میں تصریح کی ہے آپ کی ملازمت اختیار کرنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ آپ کے والد صاحب ملازمت کے لئے زور دیتے رہتے تھے ورنہ آپ کی اپنی رائے ملازمت کے خلاف تھی اسی طرح ملازمت چھوڑ دینے کی بھی اصل وجہ یہی تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ملازمت کو ناپسند فرماتے تھے اور اپنے والد صاحب کو ملازمت ترک کر دینے کی اجازت کے لئے لکھتے رہتے تھے لیکن دادا صاحب ترک ملازمت کی اجازت نہیں دیتے تھے مگر بالآخر جب دادی صاحبہ بیمار ہوئیں تو دادا صاحب نے اجازت بھجوا دی کہ ملازمت چھوڑ کر آجاﺅ۔‘‘

(سیرت المہدی جلد 1صفحہ 38-39)

اعتراض حضورؑ کے چچازا د بھائی پر پڑتا ہے نہ کہ آپؑ پر

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراضات کرنے والے اس اعتراض کو بڑے اعتماد سے بڑے قابل اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ حالانکہ غور کیا جائے تو آپؑ کی ذات پر اس روایت سے کوئی بھی اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اگر ہوتا ہے تو آپؑ کے چچا زاد مرزا امام الدین پر ہوتا ہے ۔

کسی شریف انسان کو پھسلانا اور دھوکہ دینا کوئی ایسی انہونی نہیں جو اس واقعہ سے قبل نہ ہوئی ہو ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھی تو انکے بھائی انکا خیر خواہ ظاہر کر کے انکے والد حضرت یعقوب علیہ السلام کو قائل کرنے میں  کامیاب ہو گئے تھے ۔ پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی شرافت کے باعث اپنے چچا زاد کے کہنے میں آگئے تو اس میں کیا جائے اعتراض ہے ؟

چوری کا الزام لگانے کی غرض

اب دیکھنا چاہئے کہ معترض کی آپ پر الزام لگانے کی وجہ کیا ہے؟ اس کی وجہ قرآن کریم نے بتا دی ہے کہ مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِءُوْنَ (یس:31)یعنی ان لوگوں کا شیوہ ہے کہ جو بھی نبی آتا ہےاس پر استہزاء کرتے ہیں اور طرح طرح کے الزام لگاتے ہیں چنانچہ انبیاء کے منکرین ہمیشہ سے ہی انبیاء پر چوری کا الزام لگانے کے عادی ہیں۔

چنانچہ قرآن کریم میں حضرت یوسفؑ  کے متعلق یہ واقعہ آتا ہےکہ آپ کے بھائیوں نے بنیامین کے معاملہ میں کہا :     فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّہُ مِنْ قَبْلُ(یوسف:78)

کہ اس کے بھائی  (یعنی یوسفؑ)نے بھی چوری کی تھی تو یہاں یہ بات ظاہر ہے کہ  قرآن کریم نے یہ واقعہ ایک جھوٹے الزام کے طور پر پیش کیا ہےنہ یہ کہ اسے تسلیم کیا ہے۔بلکہ صرف یہ بتانے کے لئے اس واقعہ کا ذکر کیا ہےکہ انبیاء پر جھوٹے الزام لگا کرتے ہیں اور ان کی دل آزاری کی جاتی ہے۔

غیر کی شہادت

اس اعتراض کا تعلق سیالکوٹ میں ملازمت کے وقت سے ہے ۔ اس زمانے میں آپ کے  کردار کے متعلق ایک غیر کی گواہی درج کی جاتی ہے ۔سیالکوٹ کے اس زمانہ کے متعلق مولوی ظفر علی خان کے والدمنشی سراج الدین صاحب گواہی دیتے ہیں۔

’’ہم چشم دید شہادت سے کہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھےکارو بارِ ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات میں صرف ہوتا تھا عوام سے کم ملتے تھے‘‘۔

(اخبار زمیندار مئی1908 بحوالہ بدر 25جون 1908، صفحہ 13)

پس اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے چچا زاد بھائی کے دھوکے میں آگئے تو قطعاً اسے آپ کے خلاف استعمال نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی آپ کے کردار پر اس سے کوئی حرف آتا ہے ۔

We recommend Firefox for better fonts view.