AskAhmadiyyat

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کیا جاتا ہے کہ آپؑ نے ادھیڑ عمر میں اپنی پہلی بیوی کو طلاق دیکر دوسری شادی کرلی اور اپنی پہلی اولاد کو جائیداد سے بھی بے دخل کردیا جوکہ نبی کریمﷺ کے فیصلہ خَیْرُ کُمْ خَیْرُکُمْ لِاَھْلِہٖ وَ اَنَا خَیْرُ کُمْ لِاَھْلِیْ یعنی تم میں سے بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لئے بہترین ہے کے خلاف ہے۔کیا ایک نبی کے یہ شایان شان ہے؟

  1. طلاق دینے کی وجہ دین سےبے رغبتی تھی
  2. نبی کریم ﷺ کا اسوہ
We recommend Firefox for better fonts view.