AskAhmadiyyat

معراج روحانی ہونے کے دلائل از قرآن و حدیث

 قرآن کریم میں ذکر :۔ 

آنکھ نے نہیں ،دل نے دیکھا

اگر معراج جسمانی ہوتا تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو جسمانی آنکھ سے دیکھتے لیکن قرآن و حدیث میں ذکرہے کہ جو کچھ بھی دیکھا گیا دل سے دیکھا گیا۔

  مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى‏ (النجم: 12)

”اور دل نےجھوٹ بیان نہیں کیا جو اس نے دیکھا “

وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِىْۤ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ

اور وہ خواب جو ہم نے تجھے دکھایا اُسے ہم نے نہیں بنایا مگر لوگوں کے لئے آزمائش۔۔۔“ (بنی اسرائیل 61)

حدیث میں ذکر  

  ”عَنْ اِبْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَاٰہُ بَفُوَٴادِہ مَرَّتَیْنِ “

ابن عبّاس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دو بار دیکھا۔“ (مسلم کتاب الایمان)

حضرت عا ئشہ ؓ فرماتی ہیں

”مَنۡ زَعَمَ اَنَّ مُحَمّداً صَلیَّ اللہُ عَلیہِ وَسَلَّمَ رَاٰی رَبَّہُ فَقَدۡ اَعۡظَمَ عَلی اللہِ الۡقَرِیَّةَ۔۔۔ اَوَلَمۡ تَسۡمَعۡ اَنَّ اللہَ عَزَّوَجَلَّ یَقُولُ لَا تُدۡرِکُہُ اۡلاَبۡصَارُ وَ ھُوَ یُدۡرِکُ اۡلاَبۡصَارَ۔۔۔“ 

” جو اس بات کا قائل ہوا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا ۔۔۔ کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آنکھیں اس تک نہیں پہنچتیں بلکہ وہ آنکھوں تک پہنچتا ہے۔“ (مسلم کتاب الایمان)

مسجدِ حرام میں سوئے ۔ جاگے تو وہیں تھے

صحیح بخاری میں مذکور مندرجہ ذیل حدیث پوری وضاحت سے یہ ثابت کررہی ہے کہ یہ سارا نظارہ روحانی تھا۔ اس حدیث کے شروع میں کہا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجدِ حرام میں سورہے تھے۔ آپ کی آنکھیں تو بند تھیں لیکن دل جاگ رہا تھا۔ پھر اس حدیث کا اختتام ان الفاظ سے ہوتا ہے کہ پھر حضور جاگ گئے اور آپ مسجدِ حرام میں ہی تھے۔ چنانچہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ سارا نظارہ دل نے دیکھا جو جاگ رہا تھا جبکہ آنکھیں سورہی تھیں۔

”وَ ھُوَ نَائِمٌ فِی اۡلمَسۡجِدِ الحَرَامِ ۔۔۔ یَریٰ قَلۡبَہ ُوَ تَنَامُ عَیۡنُہ وَلَا یَنَامُ قَلۡبُہ ۔۔۔ وَاسۡتَیۡقَظَ وَ ھُوَ فِی اۡلمَسۡجَدِ الۡحَرامِ“

(بخاری کتاب التوحید)

”اور آپ مسجدِ حرام میں سو رہے تھے ۔۔۔ آپ کا دل دیکھ رہاتھا اور آپ کی آنکھیں سو رہی تھیں لیکن دل نہیں سورہا تھا ۔۔۔ اور آپ بیدار ہوئے تو مسجدِ حرام میں تھے۔“

آپ کا جسم غائب نہیں ہوا:۔حضرت عائشہ صدیقہؓ خدا کی قسم کھا کر بیان فرماتی ہیں کہ معراج میں حضور کا جسم غائب نہیں ہوا تھا۔

’وَ اللّٰہِ مَا فُقِدَ جَسَدُ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَلٰکِن عُرِجَ بِرُوحِہ

(تفسیر کشّاف)

اللہ کی قسم (معراج میں) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم غائب نہیں ہوا تھا بلکہ آپ کی روح کے ذریعے معراج ہوئی تھی۔

    We recommend Firefox for better fonts view.

    Follow by Email
    Facebook
    Twitter