AskAhmadiyyat

کفار نے آنحضرتﷺ سے آسمان پر چڑھ جانے کا مطالبہ کیا تھا

کفارِ مکّہ کا مطالبہ

اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِىْ السَّمَآءِؕ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ‌ؕ قُلْ سُبْحَانَ رَبِّىْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلاً

(بنی اسرائیل 94)

ترجمہ :۔”یا تُو آسمان میں چڑھ جائے۔ مگر ہم تیرے چڑھنے پر بھی ہرگز ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ تُو ہم پر ایسی کتاب اتارے جسے ہم پڑھ سکیں۔ تُو کہہ دے کہ میرا ربّ (ان باتوں سے ) پاک ہے (اور) میں تو ایک بشر رسول کے سوا کچھ نہیں۔“

کفارِ مکّہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور ہمارے لئے ایک کتاب لے آئیں تب ہم آپ پر ایمان لائیں گے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان سے کہہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایسی باتوں سے پاک ہے۔ یعنی وہ کبھی بھی کسی انسان کو جسم سمیت اوپر نہیں لے کرگیا اور میں تو صرف ایک بشر رسول ہوں۔ لہٰذا اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے جسمانی طور پر آسمان پر جانے کے عقیدہ کو مانا جائے تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ وہ نہ بشر ہیں نہ رسول۔

جہاں تک معراج پر آنحضور ﷺ کے جسمانی طور پر جانے کا ذکر ہےتو اس دعویٰ کے برعکس قرآن و حدیث کے مندرجہ ذیل دلائل یہ ثابت کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جسمانی نہیں بلکہ روحانی تھا۔ معراج یعنی آسمان پر جانے کا واقعہ 5 نبوی میں ہوا جب آپ خانہ کعبہ یعنی مسجدِ حرام میں سورہے تھے۔ ۔پس اس واقعہ کے روحانی ثابت ہوجانے سے حضرت عیسیٰ ؑ کا آسمان پر جسم کے ساتھ جانے کی دلیل بھی رد ہوجاتی ہے۔مندرجہ ذیل دلائل سے معراج کے روحانی ہونے کی تائید کرتے ہیں۔

    We recommend Firefox for better fonts view.