AskAhmadiyyat

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے عقلی معجزات

حضرت مسیح موعودؑ حضرت عیسیٰ ؑ کے معجزات کا ذکر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔

’’بعض لوگ موحدین کے فرقہ میں سے بحوالہ آیات قرآنی یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت مسیح ابن مریم انواع واقسام کے پرندے بنا کر اور ان میں پھونک مار کر زندہ کر دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اسی بناء پر اس عاجز پر اعتراض کیا ہے کہ جس حالت میں مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ ہے توپھر آپ بھی کوئی مٹی کا پرندہ بناکر پھر اس کو زندہ کر کے دکھلائیے۔ کیونکہ جس حالت میں حضرت مسیح کے کروڑہا پرندے بنائے ہوئے ابتک موجود ہیں جو ہر طرف پرواز کرتے نظر آتے ہیں تو پھر مثیل مسیح بھی کسی پرندہ کا خالق ہونا چاہیئے۔

ان تمام اوہام باطلہ کا جواب یہ ہے کہ وہ آیات جن میں ایسا لکھا ہے متشابہات میں سے ہیں اور ان کے یہ معنے کرنا کہ گویا خداتعالیٰ نے اپنے ارادہ اور اذن سے حضرت عیسیٰ کو صفات خالقیت میں شریک کر رکھا تھا صریح الحاد اور سخت بے ایمانی ہے کیونکہ اگر خدائے تعالےٰ اپنی  صفات خاصۂ الوہیت بھی دوسروں کو دے سکتا ہےتو اس سے اس کی خدائی باطل ہوتی ہے اور موحد صاحب کا یہ عذر کہ ہم ایسا اعتقاد نہیں رکھتے کہ اپنی ذاتی طاقت سے حضرت عیسیٰ خالق طیور تھے بلکہ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ یہ طاقت خدا ئے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے اُن کو دے رکھی تھی اور اپنی مرضی سے ان کو اپنی خالقیت کا حصہ دار بنا دیاتھا اور یہ اسکو اختیار ہے کہ جس کو چاہے اپنا مثیل بنا دیو ے قادر مطلق جو ہوا۔ یہ سراسر مشرکانہ باتیں ہیں اور کفر سے بدتر۔اس موحدکو یہ بھی کہا گیا کہ کیا تم اب شناخت کر سکتے ہو کہ ان پرندوں میں سے کونسے ایسے پرندے ہیں جو خدائے تعالیٰ کے بنائے ہوئے ہیں اورکون سے ایسے پرندے ہیں جو اُن پرندوں کی نسل ہیں جن کے حضرت عیسیٰ خالق ہیں؟تو اس نے اپنے ساکت رہنے سے یہی جواب دیا کہ میں شناخت نہیں کر سکتا۔

اب واضح رہے کہ اس زمانہ کے بعض موحدین کا یہ اعتقاد کہ پرندوں کے نوع میں سے کچھ تو خدائے تعالےٰ کی مخلوق اور کچھ حضرت عیسیٰ کی مخلوق ہے۔ سراسر فاسد اور مشرکانہ خیال ہے اور ایسا خیال رکھنے والا بلا شبہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور یہ عذر کہ ہم حضرت عیسیٰ کو خدا تو نہیں مانتے بلکہ یہ مانتے ہیں کہ خدا ئے تعالےٰ نے بعض اپنی خدائی کی صفتیں انکو عطا کر دی تھیں نہایت مکروہ اور باطل عذر ہے۔ کیونکہ اگرخدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے اپنی خدائی کی صفتیں بندوں کو دے سکتا ہے تو بلاشبہ وہ اپنی ساری صفتیں خدائی کی ایک بندے کودے کر پور اخدابنا سکتاہے۔ پس اس صورت میں مخلوق پرستوں کے کل مذاہب سچے ٹھہرجائیں گے۔ اگرخداتعالیٰ کسی بشرکواپنے اذن اور ارادہ سے خالقیت کی صفت عطا کر سکتا ہے تو پھر وہ اس طرح کسی کو اذن اور ارادہ سے اپنی طرح عالم الغیب بھی بنا سکتا ہے اور اس کو ایسی قوت بخش سکتا ہے جو خدائے تعالے  کی طرح ہر جگہ حاضر ناظر ہو اور ظاہر ہے کہ اگر خدائی کی صفتیں بھی بندوں میں تقسیم ہوسکتی ہیں تو پھر خدائے تعالےٰ کا وحدہ‘ لاشریک ہونا باطل ہے۔ جس قدر دنیا میں مخلوق پرست ہیں وہ بھی یہ تو نہیں کہتے کہ ہمارے معبود خداہیں بلکہ ان موحدوں کی طرح ان کا بھی درحقیقت یہی قول ہے کہ ہمارے معبودوں کو خدائے تعالیٰ نے خدائی کی طاقتیں دے رکھی ہیں۔ ربّ اعلیٰ وبرتر تو وہی ہے اور یہ صرف چھوٹے چھوٹے خدا ہیں۔ تعجب کہ یہ لوگ یا رسول اللہ کہنا شرک کا کلمہ سمجھ کر منع کرتے ہیں لیکن مریم کے ایک عاجز بیٹے کو خدائی کا حصہ دار بنا رہے ہیں۔ بھائیو! آپ لوگوں کا دراصل یہی مذہب ہے کہ خدائی بھی مخلوق میں تقسیم ہو سکتی ہے اور خدائے تعالیٰ جس کو چاہتاہے اپنی صفت خالقیت ورازقیت وعا لمیت وقادریت وغیرہ میں ہمیشہ کے لئے شریک کر دیتا ہے تو پھر آپ لوگوں نے اپنے بدعتی بھائیوں سے اس قدر جنگ وجدل کیوں شروع کر رکھی ہے وہ بیچارے بھی تو اپنے اولیاء کو خدا کر کے نہیں مانتے صرف یہی کہتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ نے اپنے اذن اور ارادہ سے کچھ کچھ خدائی طاقتیں انہیں دے رکھی ہیں اور انہیں طاقتوں کی وجہ سے جو باذن الٰہی انکو حاصل ہیں وہ کسی کو بیٹا دیتے ہیں اور کسی کو بیٹی۔ اور ہر جگہ حاضر وناظر ہیں۔ نذریں نیاز یں لیتے ہیں۔اور مرادیں دیتے ہیں۔ اب اگر کوئی طالبِ حق یہ سوال کرے کہ اگر ایسے عقائد سراسر باطل اور مشرکانہ خیالات ہیں تو ان آیات فرقانیہ کے صحیح معنے کیا ہیں جن میں لکھا ہے کہ مسیح ابن مریم مٹی کے پرندے بناکر پُھونک اُن میں مارتا تھا تو وہ باذن الٰہی پرندے ہوجاتے تھے۔

سو واضح ہو کہ انبیاء کے معجزات دو قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) ایک وہ جو محض سماوی امورہوتے ہیں جن میں انسان کی تدبیراور عقل کو کچھ دخل نہیں ہوتا جیسے شق القمر جو ہمارے سیّد ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا اور خدائے تعالیٰ کی غیر محدود قدرت نے ایک راستباز اور کامل نبی کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے اس کو دکھایاتھا۔ (۲) دوسرے عقلی معجزات ہیں جو اس خارق عادت عقل کے ذریعہ سے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو الہام الٰہی سے ملتی ہے جیسے حضر ت سلیمان کا وہ معجزہ جو  صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِيْر جس کو دیکھ کر بلقیس کو ایمان نصیب ہوا۔

اب جانناچاہیئے کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ حضرت مسیح کا معجزہ حضرت سلیمان کے معجزہ کی طرح صرف عقلی تھا۔ تاریخ سے ثابت ہے کہ اُن دنوں میں ایسے امور کی طرف لوگوں کے خیالات جھکے ہوئے تھے کہ جو شعبدہ بازی کی قسم میں سے اور در اصل بے سود اور عوام کر فریفتہ کرنے والے تھے۔ وہ لوگ جو فرعون کے وقت میں مصر میں ایسے ایسے کام کرتے تھے جو سانپ بنا کر دکھلادیتے تھے اور کئی قسم کے جانور طیارکر کے ان کو زندہ جانوروں کی طرح چلادیتے تھے۔ وہ حضرت مسیح کے وقت میں عام طور پر یہودیوں کے ملکوں میں پھیل گئے تھے اور یہودیوں نے اُن کے بہت سے ساحر انہ کام سیکھ لئے تھے جیسا کہ قرآن کریم بھی اس بات کا شاہد ہے۔ سو کچھ تعجب کی جگہ نہیں کہ خدائے تعالےٰ نے حضرت مسیح کو عقلی طور سے ایسے طریق پر اطلاع دے دی ہو جو ایک مٹی کا کھلونا کسی کل کے دبانے یاکسی پھونک مارنے کے طور پر ایسا پرواز کرتا ہو جیسے پرندہ پرواز کرتا ہے یا اگر پرواز نہیں تو پَیروں سے چلتا ہو۔ کیونکہ حضرت مسیح ابن مریم اپنے باپ یوسف کے ساتھ بائیس 22 برس کی مدّت تک نجاری کا کام بھی کرتے رہے ہیں اور ظا ہر ہے کہ بڑھئی کاکام درحقیقت ایک ایسا کام ہے جس میں کلوں کے ایجاد کرنے اور طرح طرح کی صنعتوں کے بنانے میں عقل تیز ہوجاتی ہے اور جیسے انسان میں قوےٰ موجود ہوں انہیں کے موافق اعجاز کے طور پر بھی مدد ملتی ہے جیسے ہمارے سیّد ومولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے روحا نی قویٰ جو دقائق اور معارف تک پہنچنے میں نہایت تیز وقوی تھے سو انہی کے موافق قرآن شریف کا معجزہ دیا گیاجو جامع جمیع دقائق ومعارف الٰہیہ ہے۔ پس اس سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے کہ حضرت مسیح نے اپنے داد ا سلیمان کی طرح اس وقت کے مخالفین کو یہ عقلی معجزہ دکھلایا ہو اور ایسا معجزہ دکھانا عقل سے بعید بھی نہیں کیونکہ حال کے زمانہ میں بھی دیکھاجاتا ہے کہ اکثر صنّاع ایسی ایسی چڑیاں بنا لیتے ہیں کہ وہ بولتی بھی ہیں اور ہلتی بھی ہیں اور دُم بھی ہلاتی ہیں اور میں نے سُنا ہے کہ بعض چڑیاں کَلْ کے ذریعہ سے پرواز بھی کرتی ہیں۔ بمبئی اور کلکتہ میں ایسے کھلونے بہت بنتے ہیں اور یوروپ اور امریکہ کے ملکوں میں بکثرت ہیں اور ہرسال نئے نئے نکلتے آتے ہیں۔ اور چونکہ قرآن شریف اکثر استعارات سے بھرا ہوا ہے اس لئے ان آیات کے روحانی طور پر معنی بھی کرسکتے ہیں کہ مٹی کی چڑیوں سے مراد وہ اُمّی اور نادان لوگ ہیں جن کو حضرت عیسیٰ نے اپنا رفیق بنایا گویا اپنی صحبت میں لے کر پرندوں کی صورت کا خاکہ کھینچا پھر ہدایت کی روح اُن میں پھونک دی جس سے وہ پرواز کرنے لگے۔

ماسو ا اس کے یہ بھی قرین قیاس ہے کہ ایسے ایسے اعجاز طریق عمل التِّرب یعنی مسمریزمی طریق   ہوسکتا ہے جس کو پیش کر کے ہم ہریک ملک کے آدمی کو خواہ ہندی ہو یا پارسی یا یوروپین یا امریکن یا کسی اَورملک کا ہو ملزم و ساکت و لاجواب کرسکتے ہیں۔وہ غیرمحدود معار  ف و حقائق و علوم حکمیہ قرآنیہ ہیں جو ہر زمانہ میں اس زمانہ کی حاجت کے موافق کھلتے جاتے ہیں اورہر یک زمانہ کے خیالات کو مقابلہ کرنے کے لئےُ مسلّح سپاہیوں کی طرح کھڑے ہیں اگر قرآ ن شریف اپنے حقائق و دقائق کے لحاظ سے ایک محدود چیزہوتی تو ہرگز و ہ معجزہ تامّہ نہیں ٹھہر سکتا تھا ۔فقط بلاغت و فصاحت ایسا امر نہیں ہے جس کی اعجازی کیفیت ہریک خواندہ ناخواندہ کو معلوم ہوجائے کھلا کھلا اعجاز اس کا تو یہی ہے کہ وہ غیر محدود معارف و دقائق سے بطور لہو ولعب نہ بطور حقیقت ظہور میں آسکیں کیونکہ عمل التِّرب میں جس کو زمانۂ حال میں مسمریزم کہتے ہیں ایسے ایسے عجائبات ہیں کہ اس میں پوری پوری مشق کرنے والے اپنی روح کی گرمی دوسری چیزوں پر ڈال کر ان چیزوں کو زندہ کے موافق کردکھاتے ہیں۔ انسان کی روح میں کچھ ایسی خاصیت ہے کہ وہ اپنی زندگی کی گرمی ایک جماد پر جو بالکل بے جان ہے ڈال سکتی ہے۔ تب جماد سے وہ بعض حرکات صادر ہوتی ہیں جو زندوں سے صادر ہؤا کرتی ہیں۔ راقم رسالہ ہذا نے اس علم کے بعض مشق کرنے والوں کو دیکھا ہے جو انہوں نے ایک لکڑی کی تپائی پر ہاتھ رکھ کر ایسا اپنی حیوانی روح سے اُسے گرم کیا کہ اس نے چارپایوں کی طرح حرکت کرنا شروع کر دیا اور کتنے آدمی گھوڑے کی طرح اس پر سوا ر ہوئے اور اسکی تیزی اور حرکت میں کچھ کمی نہ ہوئی۔ سو یقینی طور پر خیال کیاجاتا ہے کہ اگر ایک شخص اس فن میں کامل مشق رکھنے والا مٹی کا ایک پرند بنا کر اس کو پرواز کرتا ہؤا بھی دکھا دے تو کچھ بعید نہیں کیونکہ کچھ اندازہ نہیں کیا گیا کہ اس فن کے کما ل کی کہاں تک انتہاء ہے۔ اور جبکہ ہم بچشم خود دیکھتے ہیں کہ اس فن کے ذریعہ سے ایک جماد میں حرکت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ جانداروں کی طرح چلنے لگتا ہے تو پھر اگر اس میں پرواز بھی ہو تو بعید کیا ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ ایسا جانور جو مٹی یالکڑی وغیرہ سے بنایا جاوے اور عمل التِّرب سے اپنی روح کی گرمی اس کو پہنچائی جا ئے وہ درحقیقت زندہ نہیں ہوتا بلکہ بدستور بے جان اور جماد ہوتا ہے صرف عامل کے روح کی گرمی بارُوت(اسےآجکل ’’بارود‘‘ لکھا جاتا ہے۔ناشر)  کی طرح اُس کو جنبش میں لاتی ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ ان پرندوں کا پرواز کرنا قرآن شریف سےہرگز ثابت نہیں ہوتا بلکہ ان کا ہلنا اور جنبش کرنا بھی بپایہ ثبوت نہیں پہنچتا اورنہ درحقیقت ان کا زندہ ہوجانا ثابت ہوتا ہے۔ اس جگہ یہ بھی جاننا چاہیئے کہ سلبِ امراض کرنا یا اپنی روح کی گرمی جماد میں ڈال دینا درحقیقت یہ سب عمل التِّرب کی شاخیں ہیں۔ ہر یک زمانہ میں ایسے لوگ ہوتے رہے ہیں اور اب بھی ہیں جو اس روحانی عمل کے ذریعہ سے سلبِ امراض کرتے رہے ہیں اور مفلوج ، مبروص، مدقوق وغیرہ ان کی توجہ سے اچھے ہوتے رہے ہیں۔جن لوگوں کی معلومات وسیع ہیں وہ میرے اس بیان پر شہادت دے سکتے ہیں کہ بعض فقراء نقشبندی وسُہر وردی وغیرہ نے بھی ان مشقوں کی طرف بہت توجہ کی تھی اور بعض ان میں یہاں تک مشّاق گذرے ہیں کہ صدہا بیماروں کو اپنے یمین ویسا ر میں بٹھا کر صرف نظرسے اچھا کر دیتے تھے اور محی الدین ابن عربی صاحب کو بھی اس میں خاص درجہ کی مشق تھی۔ اولیاء اور اہل سلوک کی تواریخ اور سوانح پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ کاملین ایسے عملوں سے پرہیز کرتے رہے ہیں مگر بعض لوگ اپنی ولایت کا ایک ثبوت بنانے کی غرض سے یا کسی اور نیت سے ان مشغلوں میں مبتلا ہوگئے تھے۔ اور اب یہ بات قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم باذن وحکم الٰہی الیسع نبی کی طرح اس عمل التِّرب میں کمال رکھتے تھے گو الیسع کے درجہ کاملہ سے کم رہے ہوئے تھے۔ کیونکہ الیسع کی لاش نے بھی معجزہ دکھلایا کہ اس کی ہڈیوں کے لگنے سے ایک مردہ زندہ ہوگیا مگر چوروں کی لاشیں مسیح کے جسم کے ساتھ لگنے سے ہرگز زندہ نہ ہوسکیں۔ یعنی وہ دو چور جو مسیح کے ساتھ مصلوب ہوئے تھے۔ بہرحال مسیح کی یہ تربی کارروائیاں زمانہ کے مناسب حال بطور خاص مصلحت کے تھیں۔مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ عمل ایسا قدر کے لائق نہیں۔ جیسا کہ عوام الناس اس کو خیال کرتے ہیں۔ اگر یہ عاجز اس عمل کومکروہ اور قابل نفرت نہ سمجھتا توخدا تعالیٰ کے فضل وتوفیق سے امید قوی رکھتا تھا کہ ان اعجوبہ نمائیوں میں حضرت مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا۔ لیکن مجھے وہ روحانی طریق پسند ہے جس پر ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مارا ہے اورحضرت مسیح نے بھی اس عمل جسمانی کو یہودیوں کے جسمانی اور پست خیالات کی وجہ سے جو ان کی فطرت میں مرکوزتھے باذن وحکم الٰہی اختیار کیاتھا ورنہ دراصل مسیح کو بھی یہ عمل پسند نہ تھا۔ واضح ہو کہ اس عمل جسمانی کا ایک نہایت بُراخاصہ یہ ہے کہ جوشخص اپنے تئیں اس مشغولی میں ڈالے اورجسمانی مرضوں کے رفع دفع کرنے کے لئے اپنی دلی ودماغی طاقتوں کو خرچ کرتا رہے وہ اپنی اُن روحانی تاثیروں میں جو روح پر اثر ڈال کر روحانی بیماریوں کو دورکرتی ہیں بہت ضعیف اور نکماہوجاتا ہے اور امر تنویر باطن اور تزکیہ نفوس کاجو اصل مقصد ہے اس کے ہاتھ بہت کم انجام پذیر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ گوحضرت مسیح جسمانی بیماروں کو اس عمل کے ذریعہ سے اچھا کرتے رہے مگر ہدایت اورتوحید اور دینی استقامتوں کے کامل طور پر دلوں میں قائم کرنے کے بارے میں انکی کارروائیوں کا نمبر ایسا کم درجہ کارہا کہ قریب قریب ناکام کے رہے لیکن ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چونکہ ان جسمانی امور کی طرف توجہ نہیں فرمائی اور تمام زور اپنی روح کادلوں میں ہدایت پیدا ہونے کیلئے ڈالا اسی وجہ سے تکمیل نفوس میں سب سے بڑھ کر رہے اور ہزارہا بندگانِ خدا کو کمال کے درجہ تک پہنچادیا اوراصلاح خلق اوراندرونی تبدیلیوں میں وہ یدِ بیضا دکھلایا کہ جس کی ابتدائے دنیا سے آج تک نظیر نہیں پائی جاتی۔ حضرت مسیح کے عمل التِّرب سے وہ مردے جو زندہ ہوتے تھے یعنی وہ قریب المرگ آدمی جو گویانئے سرے زندہ ہوجاتے تھے وہ بلاتوقف چند منٹ میں مرجاتے تھے کیونکہ بذریعہ عمل التِّرب روح کی گرمی اور زندگی صرف عارضی طور پران میں پیدا ہوجاتی تھی مگر جن کوہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے زندہ کیا وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور یہ جو میں نے مسمریزمی طریق کا عمل التِّرب نام رکھا جس میں حضرت مسیح بھی کسی درجہ تک مشق رکھتے تھے یہ الہامی نام ہے اور خدا ئے تعالےٰ نے مجھ پر ظاہر کیا کہ یہ عمل الترب ہے اوراس عمل کے عجائبات کی نسبت یہ الہام ہؤا ھٰذا ھو الترب الذی لایعلمون یعنی یہ وہ عمل الترب ہے جس کی اصل حقیقت کی زمانہ حال کے لوگوں کوکچھ خبر نہیں۔ ورنہ خدائے تعالیٰ اپنی ہر یک صفت میں واحد لاشریک ہے اپنی صفات الوہیت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔ فرقان کریم کی آیات بیّنات میں اس قدر اس مضمون کی تاکید پائی جاتی ہے جو کسی پر مخفی نہیں جیسا کہ وہ عزّا سمہ‘ فرماتا ہے:

 الَّذِىْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِىْ الْمُلْكِ وَخَلَقَ كُلَّ شَىْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِيْرًا‏  

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا يَخْلُقُوْنَ شَيْـًٔـا وَّهُمْ يُخْلَقُوْنَ وَلَا يَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّلَا نَفْعًا وَّلَا يَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّلَا حَيٰوةً وَّلَا نُشُوْرًاسورۃالفرقان الجزو18یعنی خدا وہ خدا ہے جو تمام زمین وآسمان کا اکیلامالک ہے کوئی اس کا حصہ دار نہیں۔ اس کا کوئی بیٹا نہیں اور نہ اس کے ملک میں کوئی اُس کا شریک اور اسی نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اور پھر ایک حد تک اس کے جسم اور اس کی طاقتوں اوراس کی عمر کو محدود کر دیا اور مشرکوں نے بجز اس خدائے حقیقی کے اَور اَور ایسے ایسے خدا مقررکر رکھے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ آپ پیداشدہ اور مخلوق ہیں اپنے ضرر اور نفع کے مالک نہیں ہیں اورنہ موت اور زندگی اورجی اُٹھنے کے مالک ہیں اب دیکھو خدا ئے تعالیٰ صاف صاف طور پر فرما رہا ہے کہ بجُز میرے کوئی اور خالق نہیں بلکہ ایک دوسری آیت میں فرماتا ہے کہ تمام جہان مل کر ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتا۔ اورصاف فرماتا ہے کہ کوئی شخص موت اورحیات اورضرر اور نفع کا مالک نہیں ہوسکتا۔ اس جگہ ظاہر ہے کہ اگر کسی مخلوق کو موت اور حیات کا مالک بنادینااور اپنی صفات میں شریک کر دینا اس کی عادت میں داخل ہوتا تو وہ بطور استثناء ایسے لوگوں کو ضرور باہر رکھ لیتا اور ایسی اعلیٰ توحید کی ہمیں ہرگز تعلیم نہ دیتا۔ اگر یہ وسواس دل میں گذرے کہ پھر اللہ جلَّشانہ‘ نے مسیح ابن مریم کی نسبت اس قصہ میں جہاں پرندہ بنانے کا ذکر ہے تخلق کالفظ کیوں استعمال کیا جس کے بظاہریہ معنے ہیں کہ تُو پیدا کرتاہے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس جگہ حضرت عیسیٰ کو خا لق قرار دینا بطور استعارہ ہے جیسا کہ اس دوسری آیت میں فرمایا ہے  فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ بلا شبہ حقیقی اور سچا خالق خدائے تعالےٰ ہے۔ اور جولوگ مٹی یالکڑی کے کھلونے بناتے ہیں وہ بھی خالق ہیں مگر جھوٹے خالق جن کے فعل کی اصلیت کچھ بھی نہیں۔

اور اگر یہ کہا جائے کہ کیوں بطور معجزہ جائز نہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اذن اورارادہ الٰہی سے حقیقت میں پرندے بنا لیتے ہوں اور وہ پرندے ان کی اعجازی پھونک سے پرواز کر جاتے ہوں تو اس کا جواب یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ اپنے اذن اور ارادہ سے کسی شخص کو موت اور حیات اور ضرر اور نفع کا مالک نہیں بناتا۔ نبی لوگ دعا اور تضرع سے معجزہ مانگتے ہیں۔ معجزہ نمائی کی ایسی قدرت نہیں رکھتے جیسا کہ انسا ن کوہاتھ پَیر ہلانے کی قدرت ہوتی ہے۔ غرض معجزہ کی حقیقت اور مرتبہ سے یہ امر بالاتراور ان صفات خا صہ خدائے تعالےٰ میں سے ہے جو کسی حالت میں بشر کو مل نہیں سکتیں۔معجزہ کی حقیقت یہ ہے کہ خدائے تعالےٰ ایک امر خارق عادت یا ایک امر خیال اور گمان سے باہر اور امید سے بڑھکر ایک اپنے رسول کی عزت اور صداقت ظاہر کرنے کے لئے اور اس کے مخالفین کے عجز اورمغلوبیت جتلانے کی غرض سے اپنے ارادہ خاص سے یا اس رسول کی دعا اوردرخواست سے آپ ظاہر فرماتا ہے مگر ایسے طور سے جو اس کی صفات وحدانیت وتقدّس وکمال کے منافی ومغائر نہ ہو اور کسی دوسرے کی وکالت یاکارسازی کا اس میں کچھ دخل نہ ہو۔

اب ہر یک دانشمند سوچ سکتا ہے کہ یہ صورت ہرگز معجزہ کی صورت نہیں کہ خدائے تعالےٰ دائمی طورپر ایک شخص کو اجازت اور اذن دیدے کہ تو مٹی کے پرندے بناکر پھونک مارا کر وہ حقیقت میں جانو ر بن جایا کریں گے اور ان میں گوشت او رہڈی اور خون اور تمام اعضا جانوروں کے بن جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اگر خدائے تعالےٰ پرندو ں کے بنانے میں اپنی خالقیت کا کسی کو وکیل ٹھہرا سکتا ہے تو تمام امور خالقیت میں وکالتِ تامّہ کاعہدہ بھی کسی کودے سکتا ہے۔ اس صورت میں خدائے تعالیٰ کی صفات میں شریک ہوناجائز ہوگاگو اس کے حکم اور اذن سے ہی سہی اورنیز ایسے خالقوں کے سامنے اور فتشابہ الخلق علیہم کی مجبور ی سے خالق حقیقی کی معرفت مشتبہ ہوجائے گی۔ غرض یہ اعجاز کی صورت نہیں یہ تو خدائی کا حصہ دار بنانا ہے۔

بعض دانشمند شرک سے بچنے کے لئے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح جو پرندے بناتے تھے وہ بہت دیر تک جیتے نہیں تھے ان کی عمر چھوٹی ہوتی تھی تھوڑی مسافت تک پرواز کر کے پھر گرکرمرجاتے تھے۔

لیکن  یہ عذر بالکل فضول ہے اور صر ف اس حالت میں ماننے کے لائق ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھاجائے کہ ان پرندوں میں واقعی اورحقیقی حیات پیدا نہیں ہوتی تھی بلکہ صرف ظلّی اور مجازی اور جھوٹی حیات جو عمل الترب کے ذریعہ سے پیداہوسکتی ہے ایک جھوٹی جھلک کی طرح ان میں نمودار ہوجاتی تھی۔ پس اگر اتنی ہی بات ہے تو ہم اسکو پہلے سے تسلیم کر چکے ہیں ہمارے نزدیک ممکن ہے کہ عمل الترب کے ذریعہ سے پھونک کی ہوا میں وہ قوت پیدا ہو جائے جو اس دُخان میں پیدا ہوتی ہے جس کی تحریک سے غبارہ اوپر کو چڑھتا ہے۔ صانع فطرت نے اس مخلوقات میں بہت کچھ خواص مخفی رکھے ہوئے ہیں۔ ایک شریک صفات باری ہونا ممکن نہیں اور کونسی صنعت ہے جو غیر ممکن ہے؟۔

اور ا گر یہ اعتقا د رکھاجائے کہ اُن پرندوں میں واقعی اور حقیقی حیات پیدا ہوجاتی تھی اورسچ مچ اُن میں ہڈیاں گوشت پوست خون وغیرہ اعضا بن کر جان پڑجاتی تھی تو اس صورت میں یہ بھی ماننا پڑیگا کہ اُن میں جاندار ہونے کے تمام لوازم پیدا ہوجاتے ہوں گے اور وہ کھانے کے بھی لائق ہوتے ہونگے اور اُن کی نسل بھی آج تک کروڑہا پرندے زمین پر موجود ہوں گے اور کسی بیماری سے یاشکاری کے ہاتھ سے مرتے ہونگے تو ایسا اعتقاد بلاشبہ شرک ہے۔ بہت لوگ اس وسوسہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ اگر کسی نبی کے دعا کرنے سے کوئی مردہ زندہ ہوجائے یا کوئی جماد جانداربن جائے تو اس میں کونسا شرک ہے۔ ایسے لوگوں کو جاننا چاہیئے کہ اس جگہ دعا کا کچھ ذکر نہیں اوردعا قبول کرنا یا نہ کرنا اللہ جلّ شانُہ‘ کے اختیار میں ہوتا ہے اور دعا پر جوفعل مترتب ہوتا ہے وہ فعل الٰہی ہوتا ہے نبی کا اس میں کچھ دخل نہیں ہوتااور نبی خواہ دعا کرنے کے بعدفوت ہوجائے نبی کے موجودہونے یا نہ ہونے کی اس میں کچھ حاجت نہیں ہوتی۔ غرض نبی کی طرف سے صرف دعا ہوتی ہے جو کبھی قبول اور کبھی ردّ بھی ہوجاتی ہے لیکن اس جگہ وہ صورت نہیں۔ اناجیل اربعہ کے دیکھنے سے   صاف ظاہر ہے کہ مسیح جو جو کام اپنی قوم کو دکھلاتا تھا وہ دعا کے ذریعہ سے ہرگز نہیں تھے اور قرآن شریف میں بھی کسی جگہ یہ ذکر نہیں کہ مسیح بیماروں کے چنگا کرنے یاپرندوں کے بنانے کے وقت دعا کرتاتھا بلکہ وہ اپنی روح کے ذریعہ سے جس کو روح القدس کے فیضان سے برکت بخشی گئی تھی ایسے ایسے کام اقتداری طور پر دکھاتا تھا چنانچہ جس نے کبھی اپنی عمر میں غور سے انجیل پڑھی ہوگی وہ ہمارے اس بیان کی بہ یقین تمام تصدیق کریگا اور قرآن شریف کی آیات بھی بآواز بلند یہی پکار رہی ہیں کہ مسیح کے ایسے عجائب کاموں میں اسکوطاقت بخشی گئی تھی اور خدائے تعالےٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ وہ ایک فطرتی طاقت تھی جو ہریک فرد بشر کی فطرت میں مودّع ہے مسیح سے اس کی کچھ خصوصیت نہیں۔ چنانچہ اس بات کا تجزیہ اسی زمانہ میں ہو رہا ہے۔ مسیح کے معجزات تو اس تالاب کی وجہ سے بے رونق اور بے قدر تھے جو مسیح کی ولادت سے بھی پہلے مظہرِ عجائبات تھا جس میں ہر قسم کے بیمار اور تمام مجذوم مفلوج مبروص وغیرہ ایک ہی غوطہ مار کر اچھے ہوجاتے تھے لیکن بعد کے زمانوں میں جو لوگوں نے اس قسم کے خوارق دکھلائے اُس وقت تو کوئی تالاب بھی موجود نہیں تھا۔

غرض یہ اعتقادبالکل غلط اور فاسد اور مشرکانہ خیال ہے کہ مسیح مٹی کے پرندے بنا کر اوراُن میں پھونک مار کر انہیں سچ مچ کے جانور بنادیتا تھا۔ نہیں بلکہ صرف عمل الترب تھا جو روح کی قوت سے ترقی پذیرہوگیا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مسیح ایسے کام کے لئے اس تالاب کی مٹی لاتا تھا جس میں روح القدس کی تاثیر رکھی گئی تھی۔ بہرحال یہ معجزہ صرف ایک کھیل کی قسم میں سے تھا اور وہ مٹی درحقیقت ایک مٹی ہی رہتی تھی۔ جیسے سامری کاگوسالہ۔ ‘‘

(ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3ص253-263)

We recommend Firefox for better fonts view.