AskAhmadiyyat

قرآنِ عظیم کی اعلیٰ و اَرفع شان حضرت بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کی نظر میں

’’خاتم النبییّن کا لفظ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بولا گیا ہے بجائے خود چاہتا ہے اور بالطبع اسی لفظ میں یہ رکھا گیا ہے کہ وہ کتاب جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی ہے وہ بھی خاتم الکتب اور سارے کمالات اس میں موجود ہوں اور حقیقت میں وہ کمالات اس میں موجود ہیں۔کیونکہ کلام الٰہی کے نزول کاعام قاعدہ اور اصول یہ ہے کہ جس قدر قوت قدسی اور کمال باطنی اس شخص کا ہوتا ہے اس قدر قوت و شوکت اس کلا م کی ہوتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسی اور کمال باطنی چونکہ اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کا تھا جس سے بڑھ کر کسی انسان کا نہ کبھی ہوا اور نہ آئندہ ہو گا اس لئے قرآن شریف بھی تمام پہلی کتابوں اور صحائف سے ا س اعلیٰ مقام اور مرتبہ پر واقع ہوا ہے جہاں تک کوئی دوسرا کلام نہیں پہنچا کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی استعداد اور قوت قدسی سب سے بڑھی ہوئی تھی اور تمام مقامات ِکمال آپؐ پر ختم ہوچکے تھے اور آپ انتہائی نقطہ پر پہنچے ہوئے تھے۔ اس مقام پر قرآن شریف جو آپ پر نازل ہوا کمال کو پہنچا ہوا ہے اور جیسے نبوت کے کمالات آپ پر ختم ہو گئے اسی طرح پر اعجاز کلام کے کمالات قرآن شریف پر ختم ہوگئے آپ ؐ خاتم النبییّن ٹھہرے اور آپؐ کی کتاب خاتم الکتب ٹھہری۔ جس قدر مراتب اور وجوہ اعجاز کلام کے ہوسکتے ہیں ان سب کے اعتبار سے آپؐ کی کتاب انتہائی نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔یعنی کیا باعتبار فصاحت و بلاغت ، کیا باعتبار ترتیب مضامین، کیا باعتبار تعلیم، کیا باعتبار کمالات تعلیم، کیا باعتبار ثمرات تعلیم۔ غرض جس پہلو سے دیکھو اسی پہلو سے قرآن شریف کا کمال نظر آتا ہے اور اس کا اعجاز ثابت ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے کسی خاص امر کی نظیر نہیں مانگی بلکہ عام طور پر نظیرطلب کی ہے یعنی جس سے چاہو مقابلہ کر و خواہ بلحاظ فصاحت وبلاغت ، خواہ بلحاظ مطالب و مقاصد، خواہ بلحاظ تعلیم خواہ بلحاظ پیشگوئیوں اور غیب کے جو قرآن شریف میں موجود ہیں غرض کسی رنگ میں دیکھو یہ معجزہ ہے ۔‘‘

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 26،27 جدید ایڈیشن)

’’قرآن شریف ایسا معجزہ ہے کہ نہ اول مثل ہوا اور نہ آخر کبھی ہو گا۔اس کے فیوض و برکات کا در ہمیشہ جاری ہے اور وہ ہر زمانہ میں اسی طرح نمایاں اور درخشاں ہے جیسا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت تھا علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت او رعزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا وہ کلام ہو گااور وحی الٰہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت و استعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔کیونکہ آپ کی دعوت کسی محدود وقت یا مخصوص قوم کے لئے نہ تھی۔جیسے آپ سے پہلے نبیوں کی ہوتی تھی بلکہ آپ کے لئے فرمایا گیا قُلْ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَلَیْکُمْ جَمِیْعًا اور مَا اَرْسَلْنٰکَ اِلَّارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ جس شخص کی بعثت اور رسالت کا دائرہ اس قدر وسیع ہو اس کا مقابلہ کون کر سکتا ہے۔اس وقت اگر کسی کو قرآن شریف کی کوئی آیت بھی الہام ہو تو ہمارا یہ اعتقاد ہے کہ اس کے اس الہام میں اتنا دائرہ وسیع نہیں ہوگا۔جس قدر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا اور ہے ۔‘‘

 (ملفوظات جلد دوم صفحہ 40، 41جدید ایڈیشن)

 ’’ لاکھوں مقدسوں کا یہ تجربہ ہے کہ قرآن شریف کے اتباع سے برکات الٰہی دل پر نازل ہوتی ہیں اور ایک عجیب پیوند مولیٰ کریم سے ہوجاتا ہے خدائے تعالیٰ کے انوار اور الہام ان کے دلوں پر اترتے ہیں اور معارف اور نکات ان کے مونہہ سے نکلتے ہی ایک قوی توکل ا ن کو عطا ہوتی ہے اور ایک محکم یقین ان کو دیا جاتا ہے اور ایک لذیذ محبت الٰہی جو لذت وصال سے پرورش یاب ہے ان کے دلوں میں رکھی جاتی ہے اگر ان کے وجودوں کو ہاون مصائب میں پیسا جائے اور سخت شکنجوں میں دے کر نچوڑا جائے تو ان کا عرق بجز ُحبِّ الٰہی کے اور کچھ نہیں۔ دنیا ان سے ناواقف اور وہ دنیا سے دور تر و بلند تر ہیں۔ خدا کے معاملات ان سے خارق عادت ہیں انہیں پر ثابت ہوا ہے کہ خدا ہے۔ انہیں پر کھلا ہے کہ ایک ہے جب وہ دعا کرتے ہیں تو وہ ان کی سنتا ہے۔ جب وہ پکارتے ہیں تو وہ انہیں جواب دیتا ہے جب وہ پناہ چاہتے ہیں تو وہ ان کی طرف دوڑتا ہے وہ باپوں سے زیادہ ان سے پیار کرتا ہے اور ان کی درودیوار پر برکتوں کی بارش برساتا ہے پس وہ اس کی ظاہری و باطنی و روحانی و جسمانی تائیدوں سے شناخت کئے جاتے ہیں اور وہ ہریک میدان میں ان کی مدد کرتا ہے کیونکہ وہ اس کے اور وہ ان کا ہے۔ یہ باتیں بلا ثبوت نہیں‘‘۔

 (سرمہ چشم آریہ روحانی خزائن جلد 2 صفحہ79 حاشیہ)

’’سب سے سیدھی راہ اوربڑا ذریعہ جو انوار یقین اور تواتر سے بھر اہوا اور ہماری روحانی بھلائی اور ترقی علمی کے لئے کامل رہنما ہے قرآن کریم ہے جو تمام دنیا کے دینی نزاعوں کے فیصل کرنے کا متکفل ہوکر آیا ہے جس کی آیت آیت اورلفظ لفظ ہزارہا طور کا تواتر اپنے ساتھ رکھتی ہے اور جس میں بہت سا آبِ حیات ہماری زندگی کے لئے بھراہوا ہے اور بہت سے نادر اور بیش قیمت جواہر اپنے اندر مخفی رکھتا ہے جو ہر روز ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔ یہی ایک عمدہ محک ہے جس کے ذریعہ سے ہم راستی اور ناراستی میں فرق کرسکتے ہیں۔یہی ایک روشن چراغ ہے جو عین سچائی کی راہیں دکھاتا ہے۔ بلا شبہ جن لوگوں کو راہِ راست سے مناسبت اور ایک قسم کا رشتہ ہے اُن کا دل قرآن شریف کی طرف کھنچا چلا جاتا ہے اور خدائے کریم نے اُن کے دل ہی اس طرح کے بنا رکھے ہیں کہ وہ عاشق کی طرح اپنے اس محبوب کی طرف جھکتے ہیں اور بغیر اس کے کسی جگہ قرار نہیں پکڑ تے اور اس سے ایک صاف اور صریح بات سن کر پھر کسی دوسرے کی نہیں سنتے اس کی ہریک صداقت کو خوشی سے اور دوڑ کر قبول کرلیتے ہیں اور آخر وہی ہے جوموجب اشراق اور روشن ضمیری کا ہوجاتا ہے اور عجیب در عجیب انکشافات کا ذریعہ ٹھہرتا ہے اور ہر یک کو حسب استعداد معراج ترقی پر پہنچاتا ہے۔ راستبازوں کو قرآن کریم کے انوار کے نیچے چلنے کی ہمیشہ حاجت رہی ہے اور جب کبھی کسی حالتِ جدیدہ زمانہ نے اسلام کوکسی دوسرے مذہب کے ساتھ ٹکرا دیا ہے تو وہ تیز اور کار گر ہتھیار جو فی الفور کام آیا ہے قرآن کریم ہی ہے۔ ایسا ہی جب کہیں فلسفی خیالات مخالفانہ طور پر شائع ہوتے رہے تو اس خبیث پودہ کی بیخ کنی آخر قرآن کریم ہی نے کی اور ایسا اس کو حقیر اور ذلیل کر کے دکھلا دیا کہ ناظرین کے آگے آئینہ رکھ دیا کہ سچا فلسفہ یہ ہے نہ وہ۔ حال کے زمانہ میں بھی جب اوّل عیسائی واعظوں نے سراُٹھایا اور بد فہم اورنادان لوگوں کو توحید سے کھینچ کر ایک عاجز بندہ کا پرستار بنانا چاہا اور اپنے مغشوش طریق کو سوفسطائی تقریروں سے آراستہ کر کے اُن کے آگے رکھ دیا اور ایک طوفان ملک ہند میں برپا کر دیا آخر قرآن کریم ہی تھا جس نے انہیں پسپا کیا کہ اب وہ لوگ کسی با خبر آدمی کو منہ بھی نہیں دکھلا سکتے اور اُن کے لمبے چوڑے عذرات کو یوں الگ کر کے رکھ دیا جس طرح کوئی کاغذ کا تختہ لپیٹے‘‘۔

 (ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 381، 382)

 ’’انسان کو یہ ضرورت ہے کہ وہ گناہ کے مہلک جذبات سے پاک ہو اور اس قدر خدا کی عظمت اُس کے دل میں بیٹھ جائے کہ وہ بے اختیار کرنے والی نفسانی شہوات کی خواہش کہ جو بجلی کی طرح اس پر گرتی اور اس کے تقویٰ کے سرمایہ کو ایک دم میں جلا دیتی ہے وہ دور ہو جاوے مگر کیا وہ ناپاک جذبات کہ جو مرگی کی طرح باربار پڑتے ہیں اور پرہیز گاری کے ہوش و حواس کو کھو دیتے ہیں وہ صرف اپنے ہی خودتر اشیدہ پرمیشر کے تصوّر سے دور ہو سکتے ہیں یا صرف اپنے ہی تجویز کردہ خیالات سے دب سکتے ہیں اور یا کسی ایسے کفارہ سے رُک سکتے ہیں جس کا دُکھ اپنے نفس کو چُھوا بھی نہیں ؟ ہرگز نہیں یہ بات معمولی نہیں بلکہ سب باتوں سے بڑھ کر عقلمند کے نزدیک غور کرنے کے لائق یہی بات ہے کہ وہ تباہی جو اس بےباکی اور بے تعلقی کی وجہ سے پیش آنے والی ہے جس کی اصلی جڑھ گناہ اور معصیت ہے اُس سے کیونکر محفوظ رہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان یقینی لذّات کو محض ظنّی خیالات سے چھوڑ نہیں سکتا۔ ہاں ایک یقین دوسرے یقینی امر سے دست بردار کراسکتا ہے مثلاً ایک بَن کے متعلق ایک یقین ہے کہ اس جگہ سے کئی ہرن ہم بآسانی پکڑ سکتے ہیں اور ہم اس یقین کی تحریک پر قدم اُٹھانے کے لئے مستعد ہیں مگر جب یہ دوسرا یقین ہو جائے گا کہ وہاں پچاس شیرببر بھی موجود ہیں اور ہزارہا خونخوار اژدہا بھی ہیں جو منہ کھولے بیٹھے ہیں تب ہم اس ارادہ سے دستکش ہو جائیں گے اسی طرح بغیر اس درجہ یقین کے گناہ بھی دور نہیں ہوسکتا۔ لوہا لوہے سے ہی ٹوٹتا ہے۔ خدا کی عظمت اور ہیبت کا وہ یقین چاہئے جو غفلت کے پردوں کو پاش پاش کردے اور بدن پر ایک لرزہ ڈال دے اور موت کو قریب کرکے دکھلادے اور ایساخوف دل پر غالب کرے جس سے تمام تا ر و پود نفسِ امّارہ کے ٹوٹ جائیں اور انسان ایک غیبی ہاتھ سے خدا کی طرف کھینچا جائے اور اُس کا دل اس یقین سے بھر جائے کہ درحقیقت خدا موجود ہے جو بے باک مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔ پس ایک حقیقی پاکیزگی کا طالب ایسی کتاب کو کیاکرے جس کے ذریعہ سے یہ ضرورت رفع نہ ہوسکے؟

 اِس لئے میں ہر ایک پر یہ بات ظاہر کرتاہوں کہ وہ کتاب جو ان ضرورتوں کو پوراکرتی ہے وہ قرآن شریف ہے اُس کے ذریعہ سے خدا کی طرف انسان کو ایک کشش پیدا ہو جاتی ہے اور دُنیا کی محبت سرد ہو جاتی ہے اور وہ خدا جو نہایت نہاں در نہاں ہے اُس کی پیروی سے آخر کار اپنے تئیں ظاہر کرتاہے اوروہ قادر جس کی قدرتوں کو غیر قومیں نہیں جانتیں قرآن کی پیروی کرنے والے انسان کو خدا خود دکھا دیتاہے اور عالم ملکوت کا اُس کو سیر کراتا ہے اور اپنے اَنَا الْمَوجُود ہونے کی آواز سے آپ اپنی ہستی کی اُس کو خبر دیتا ہے مگر وید میں یہ ہنر نہیں ہے ہرگز نہیں ہے اور وید اُس بوسیدہ گٹھری کی مانند ہے جس کا مالک مر جائے اور یاجس کی نسبت پتہ نہ لگے کہ یہ کس کی گٹھری ہے۔ جس پر میشر کی طرف وید بلاتا ہے اُس کا زندہ ہونا ثابت نہیں ہوتا بلکہ وید اس بات پر کوئی دلیل قائم نہیں کرتاکہ اُس کا پرمیشر موجود بھی ہے اور وید کی گمراہی کنندہ تعلیم نے اس بات میں بھی رخنہ ڈال دیا ہے کہ مصنوعات سے صانع کا پتہ لگایا جائے کیونکہ اس کی تعلیم کی رُو سے ارواح اور پرمانو یعنی ذرّات سب قدیم اور غیر مخلوق ہیں۔ پس غیر مخلوق کے ذریعہ سے صانع کا کیونکر پتہ لگے ایسا ہی وید کلام الٰہی کا دروازہ بند کرتا ہے اور خدا کے تازہ نشانوں کامنکر ہے اور وید کی رُو سے پرمیشر اپنے خاص بندوں کی تائید کے لئے کوئی ایسانشان ظاہر نہیں کرسکتا کہ جو معمولی انسانوں کے علم اور تجربہ سے بڑھ کر ہو پس اگر وید کی نسبت بہت ہی حسن ظن کیاجائے تواس قدر کہیں گے کہ وہ صرف معمولی سمجھ کے انسانوں کی طرح خدا کے وجود کا اقرار کرتا ہے اورخدا کی ہستی پر کوئی یقینی دلیل پیش نہیں کرتا۔ غرض وید وہ معرفت عطا نہیں کرسکتا جو تازہ طور پرخدا کی طرف سے آتی ہے اور انسان کوزمین سے اٹھاکر آسمان تک پہنچا دیتی ہے مگر ہمارا مشاہدہ اور تجربہ اور اُن سب کا جو ہم سے پہلے گذر چکے ہیں اس بات کا گواہ ہے کہ قرآن شریف اپنی رُوحانی خاصیت اور اپنی ذاتی روشنی سے اپنے سچے پیرو کو اپنی طرف کھینچتا ہے اور اُس کے دل کومنور کرتا ہے اور پھر بڑے بڑے نشان دکھلاکرخدا سے ایسے تعلقات مستحکم بخش دیتا ہے کہ وہ ایسی تلوار سے بھی ٹوٹ نہیں سکتے جو ٹکڑہ ٹکڑہ کرنا چاہتی ہے۔ وہ دل کی آنکھ کھولتا ہے اور گناہ کے گندے چشمہ کو بند کرتا ہے اور خدا کے لذیذ مکالمہ مخاطبہ سے شرف بخشتا ہے اورعلوم غیب عطا فرماتا ہے اور دُعا قبول کرنے پر اپنے کلام سے اطلاع دیتاہے اور ہرایک جواُس شخص سے مقابلہ کرے جو قرآن شریف کا سچا پیرو ہے خدا اپنے ہیبت ناک نشانوں کے ساتھ اس پر ظاہر کردیتا ہے کہ وہ اُس بندہ کے ساتھ ہے جو اس کے کلام کی پیروی کرتا ہے۔‘‘

 (چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 306 تا 309)

’’ متبعین قرآن شریف کو جو انعامات ملتے ہیں اور جو مواہب خاصہ ان کے نصیب ہوتے ہیں اگرچہ وہ بیان اور تقریر سے خارج ہیں مگر ان میں سے کئی ایک ایسے انعاماتِ عظیمہ ہیں جن کو اس جگہ مفصّل طور پر بغرض ہدایت طالبین بطور نمونہ لکھنا قرین مصلحت ہے۔ چنانچہ وہ ذیل میں لکھے جاتے ہیں:

ازاں جملہ علوم و معارف ہیں جو کامل متبعین کو خوان نعمت فرقانیہ سے حاصل ہوتے ہیں۔ جب انسان فرقان مجید کی سچی متابعت اختیار کرتا ہے اور اپنے نفس کو اس کے امرونہی کے بکُلّی حوالہ کردیتا ہے اور کامل محبت اور اخلاص سے اس کی ہدایتوں میں غور کرتا ہے اور کوئی اعراض صوری یا معنوی باقی نہیں رہتا۔ تب اس کی نظر اور فکر کو حضرت فیاض مطلق کی طرف سے ایک نور عطا کیا جاتا ہے اور ایک لطیف عقل اس کو بخشی جاتی ہے جس سے عجیب غریب لطائف اور نکات علم الٰہی کے جو کلام الٰہی میں پوشیدہ ہیں اس پر کھلتے ہیں اور ابرنیساں کے رنگ میں معارف دقیقہ اس کے دل پر برستے ہیں۔ وہی معارف دقیقہ ہیں جن کو فرقان مجید میں حکمت کے نام سے موسوم کیا گیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے یُوْتِی الْحِکْمَۃَ مَنْ یَّشَآ ءُ وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِیَ خَیْرًا کَثِیْرًا۔یعنی خدا جس کو چاہتا ہے حکمت دیتا ہے اور جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر دی گئی ہے یعنی حکمت خیر کثیر پر مشتمل ہے اور جس نے حکمت پائی اس نے خیر کثیر کو پالیا۔ سو یہ علوم و معارف جو دوسرے لفظوں میں حکمت کے نام سے موسوم ہیں یہ خیر کثیر پر مشتمل ہونے کی و جہ سے بحرمحیط کے رنگ میں ہیں جو کلام الٰہی کے تابعین کو دیئے جاتے ہیں اور ان کے فکر اور نظر میں ایک ایسی برکت رکھی جاتی ہے جو اعلیٰ درجہ کے حقائق حقّہ اُن کے نفس آئینہ صفت پر منعکس ہوتے رہتے ہیں اور کامل صداقتیں ان پر منکشف ہوتی رہتی ہیں۔ اور تائیداتِ الٰہیہ ہریک تحقیق اور تدقیق کے وقت کچھ ایسا سامان ان کے لئے میسر کردیتی ہیں جس سے بیان ان کا ادھورا اور ناقص نہیں رہتا اور نہ کچھ غلطی واقعہ ہوتی ہے۔ سو جو جو علوم و معارف و دقائق حقائق و لطائف و نکات و ادلّہ و براہین ان کو سوجھتے ہیں وہ اپنی کمیت اور کیفیت میں ایسے مرتبہ کاملہ پر واقع ہوتے ہیں کہ جو خارق عادت ہے اور جس کا موازنہ اور مقابلہ دوسرے لوگوں سے ممکن نہیں کیونکہ وہ اپنے آپ ہی نہیں بلکہ تفہیم غیبی اور تائید صمدی ان کی پیش رو ہوتی ہے۔ اور اسی تفہیم کی طاقت سے وہ اسرار اور انوار قرآنی اُن پر کھلتے ہیں کہ جو صرف عقل کی دود آمیز روشنی سے کھل نہیں سکتے۔ اور یہ علوم و معارف جو اُن کو عطا ہوتے ہیں جن سے ذات اور صفات الٰہی کے متعلق اور عالم معاد کی نسبت لطیف اور باریک باتیں اور نہایت عمیق حقیقتیں اُن پر ظاہر ہوتی ہیں یہ ایک روحانی خوارق ہیں کہ جو بالغ نظروں کی نگاہوں میں جسمانی خوارق سے اعلیٰ اور الطف ہیں بلکہ غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ عارفین اور اہل اللہ کا قدر و منزلت دانشمندوں کی نظر میں اِنہیں خوارق سے معلوم ہوتا ہے اور وہی خوارق ان کی منزلت عالیہ کی زینت اور آرائش اور ان کے چہرہ صلاحیت کی زیبائی اور خوبصورتی ہیں کیونکہ انسان کی فطرت میں داخل ہے کہ علوم و معارف حقہ کی ہیبت سب سے زیادہ اس پر اثر ڈالتی ہے اور صداقت اور معرفت ہریک چیز سے زیادہ اس کو پیاری ہے اور اگر ایک زاہد عابد ایسا فرض کیا جائے کہ صاحب مکاشفات ہے اور اخبارِ غیبیہ بھی اسے معلوم ہوتے ہیں اور ریاضاتِ شاقہ بھی بجالاتا ہے اور کئی اور قسم کے خوارق بھی اس سے ظہور میں آتے ہیں مگر علم الٰہی کے بارہ میں سخت جاہل ہے۔ یہاں تک کہ حق اور باطل میں تمیز ہی نہیں کرسکتا بلکہ خیالاتِ فاسدہ میں گرفتار اور عقائد غیر صحیحہ میں مبتلا ہے ہریک بات میں خام اور ہریک رائے میںؔ فاش غلطی کرتا ہے تو ایسا شخص طبائع سلیمہ کی نظر میں نہایت حقیر اور ذلیل معلوم ہوگا۔ اس کی یہی وجہ ہے کہ جس شخص سے دانا انسان کو جہالت کی بدبو آتی ہے اور کوئی احمقانہ کلمہ اس کے منہ سے سن لیتا ہے تو فی الفور اس کی طرف سے دل متنفر ہوجاتا ہے اور پھر وہ شخص عاقل کی نظر میں کسی طور سے قابل تعظیم نہیں ٹھہرسکتا اور گو کیسا ہی زاہد عابد کیوں نہ ہو کچھ حقیر سا معلوم ہوتا ہے پس انسان کی اس فطرتی عادت سے ظاہر ہے کہ خوارق روحانی یعنی علوم و معارف اس کی نظر میں اہل اللہ کے لئے شرط لازمی اور اکابر دین کی شناخت کے لئے علامات خاصہ اور ضروریہ ہیں۔ پس یہ علامتیں فرقان شریف کی کامل تابعین کو اکمل اور اتم طور پر عطا ہوتی ہیں اور باوجودیکہ ان میں سے اکثروں کی سرشت پر اُ میت غالب ہوتی ہے اور علومِ رسمیہ کو باستیفاءحاصل نہیں کیا ہوتا لیکن نکات اور لطائف علم الٰہی میں اس قدر اپنے ہم عصروں سے سبقت لے جاتے ہیں کہ بسا اوقات بڑے بڑے مخالف ان کی تقریروں کو سن کر یا ان کی تحریروں کو پڑھ کر اور دریائے حیرت میں پڑ کر بلا اختیار بول اٹھتے ہیں کہ ان کے علوم و معارف ایک دوسرے عالم سے ہیں جو تائیداتِ الٰہی کے رنگ خاص سے رنگین ہیں اور اس کا ایک یہ بھی ثبوت ہے کہ اگر کوئی منکر بطور مقابلہ کے الٰہیات کے مباحث میں سے کسی بحث میں ان کی محققانہ اور عارفانہ تقریروں کے ساتھ کسی تقریر کا مقابلہ کرنا چاہے تو اخیرپر بشرط انصاف و دیانت اس کو اقرار کرنا پڑے گا کہ صداقت حقّہ اسی تقریر میں تھی جو ان کے منہ سے نکلی تھی اور جیسے جیسے بحث عمیق ہوتی جائے گی بہت سے لطیف اور دقیق براہین ایسے نکلتے آئیں گے جن سے روز روشن کی طرح ان کا سچا ہونا کھلتا جائے گا چنانچہ ہریک طالب حق پر اس کا ثبوت ظاہر کرنے کے لئے ہم آپ ہی ذمہ وار ہیں۔

ازاں جملہ ایک عصمت بھی ہے جس کو حفظِ الٰہی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اور یہ عصمت بھی فرقان مجید کے کامل تابعین کو بطور خارق عادت عطا ہوتی ہے۔ اور اس جگہ عصمت سے مراد ہماری یہ ہے کہ وہ ایسی نالائق اور مذموم عادات اور خیالات اور اخلاق اور افعال سے محفوظ رکھے جاتے ہیں جن میں دوسرے لوگ دن رات آلودہ اور ملوث نظر آتے ہیں اور اگر کوئی لغزش بھی ہوجائے تو رحمت الٰہیہ جلد تر ان کا تدارک کرلیتی ہے۔ یہ بات ظاہر ہے کہ عصمت کا مقام نہایت نازک اور نفس امارہ کے مقتضیات سے نہایت دور پڑا ہوا ہے جس کا حاصل ہونا بجز توجہ خاص الٰہی کے ممکن نہیں مثلاً اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ وہ صرف ایک کذب اور دروغ گوئی کی عادت سے اپنے جمیع معاملات اور بیانات اور حرفوں اور پیشوں میں قطعی طور پر باز رہے تو یہ اس کے لئے مشکل اور ممتنع ہوجاتا ہے۔ بلکہ اگر اس کام کے کرنے کے لئے کوشش اور سعی بھی کرے تو اس قدر موانع اور عوائق اس کو پیش آتے ہیں کہ بالآخر خود اس کا یہ اصول ہوجاتا ہے کہ دنیاداری میں جھوٹ اور خلاف گوئی سے پرہیز کرنا ناممکن ہے۔ مگر ان سعید لوگوں کے لئے کہ جو سچی محبت اور پُرجوش ارادت سے فرقان مجید کی ہدایتوں پر چلنا چاہتے ہیں۔ صرف یہی امر آسان نہیں کیا جاتا کہ وہ دروغ گوئی کی قبیح عادت سے باز رہیں بلکہ وہ ہر ناکردنی اور ناگفتنی کے چھوڑنے پر قادر مطلق سے توفیق پاتے ہیں اور خدائے تعالیٰ اپنی رحمت کاملہ سے ایسی تقریبات شنیعہ سے اُن کو محفوظ رکھتا ہے جن سے وہ ہلاکت کے ورطوں میں پڑیں۔ کیونکہ وہ دنیا کا نور ہوتے ہیں اور ان کی سلامتی میں دنیا کی سلامتی اور ان کی ہلاکت میں دنیا کی ہلاکت ہوتی ہے۔ اسی جہت سے وہ اپنے ہریک خیال اور علم اور فہم اور غضب اور شہوت اور خوف اور طمع اور تنگی اور فراخی اور خوشی اور غمی اور عسر اور یسر میں تمام نالائق باتوں اور فاسد خیالوں اور نادرست علموں اور ناجائز عملوں اور بے جا فہموں اور ہریک افراط اور تفریط نفسانی سے بچائے جاتے ہیں اور کسی مذموم بات پر ٹھہرنا نہیں پاتے کیوں کہ خود خداوند کریم ان کی تربیت کا متکفل ہوتا ہے اور جس شاخ کو ان کے شجرۂ  طیبہ میں خشک دیکھتا ہے۔ اس کو فی الفور اپنے مربیانہ ہاتھ سے کاٹ ڈالتا ہے اور حمایت ِالٰہی ہردم اور ہر لحظہ ان کی نگرانی کرتی رہتی ہے۔ اور یہ نعمت محفوظیت کی جو ان کو عطا ہوتی ہے۔ یہ بھی بغیر ثبوت نہیں بلکہ زیرک انسان کسی قدر صحبت سے اپنی پوری تسلی سے اس کو معلوم کرسکتا ہے۔

ازاں جملہ ایک مقام توکل ہے جس پر نہایت مضبوطی سے ان کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے غیر کو وہ چشمہ صافی ہرگز میسر نہیں آسکتا بلکہ انہیں کے لئے وہ خوشگوار اور موافق کیا جاتا ہے۔ اور نور معرفت ایسا ان کو تھامے رہتا ہے کہ وہ بسا اوقات طرح طرح کی بے سامانی میں ہوکر اور اسباب عادیہ سے بکلّی اپنے تئیں دور پاکر پھر بھی ایسی بشاشت اور انشراح خاطر سے زندگی بسر کرتے ہیں اور ایسی خوشحالی سے دنوں کو کاٹتے ہیں کہ گویا ان کے پاس ہزارہا خزائن ہیں۔ ان کے چہروں پر تونگری کی تازگی نظر آتی ہے اور صاحب دولت ہونے کی مستقل مزاجی دکھائی دیتی ہے اور تنگیوں کی حالت میں بکمال کشادہ دلی اور یقین کامل اپنے مولیٰ کریم پر بھروسہ رکھتے ہیں۔ سیرت ایثار اُن کا مشرب ہوتا ہے اور خدمتِ خلق ان کی عادت ہوتی ہے اور کبھی انقباض ان کی حالت میں راہ نہیں پاتا اگرچہ سارا جہان ان کا عیال ہوجائے اور فی الحقیقت خدائے تعالیٰ کی ستاری مستوجب شکر ہے جو ہر جگہ ان کی پردہ پوشی کرتی ہے اور قبل اس کے جو کوئی آفت فوق الطاقت نازل ہو ان کو دامن عاطفت میں لے لیتی ہے کیونکہ اُن کے تمام کاموں کا خدا متولّی ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس نے آپ ہی فرمایاہے۔وَھُوَ یَتَوَلَّی الصَّالِحِیْنَ لیکن دوسروں کو دنیاداری کے دل آزار اسباب میں چھوڑا جاتا ہے اور وہ خارق عادت سیرت جو خاص ان لوگوں کے ساتھ ظاہر کی جاتی ہے کسی دوسرے کے ساتھ ظاہر نہیں کی جاتی۔ اور یہ خاصہ ان کا بھی صحبت سے بہت جلد ثابت ہوسکتاہے۔

ازاں جملہ ایک مقام محبتِ ذاتی کا ہے جس پر قرآن شریف کے کامل متبعین کو قائم کیا جاتا ہے اور ان کے رگ و ریشہ میں اس قدر محبت الٰہیہ تاثیر کرجاتی ہے کہ ان کے وجود کی حقیقت بلکہ ان کی جان کی جان ہوجاتی ہے اور محبوب حقیقی سے ایک عجیب طرح کا پیار ان کے دلوں میں جوش مارتا ہے اور ایک خارق عادت انس اور شوق ان کے قلوب صافیہ پر مستولی ہوجاتا ہے کہ جو غیر سے بکلی منقطع اور گسستہ کردیتا ہے اور آتشِ عشقِ الٰہی ایسی افروختہ ہوتی ہے کہ جو ہم صحبت لوگوں کو اوقات خاصہ میں بدیہی طور پر مشہود اور محسوس ہوتی ہے بلکہ اگر محبان صادق اس جوش محبت کو کسی حیلہ اور تدبیر سے پوشیدہ رکھنا بھی چاہیں تو یہ ان کے لئے غیر ممکن ہوجاتا ہے۔ جیسے عشاق مجازی کے لئے بھی یہ بات غیر ممکن ہے کہ وہ اپنے محبوب کی محبت کو جس کے دیکھنے کے لئے دن رات مرتے ہیں اپنے رفیقوں اور ہم صحبتوں سے چھپائے رکھیں بلکہ وہ عشق جو ان کے کلام اور ان کی صورت اور ان کی آنکھ اور ان کی وضع اور ان کی فطرت میں گھس گیا ہے اور ان کے بال بال سے مترشح ہورہا ہے وہ ان کے چھپانے سے ہرگز چھپ ہی نہیں سکتا۔ اور ہزار چھپائیں کوئی نہ کوئی نشان اس کا نمودار ہوجاتا ہے اور سب سے بزرگ تر ان کے صدق قدم کا نشان یہ ہے کہ وہ اپنے محبوب حقیقی کو ہریک چیز پر اختیار کرلیتے ہیں اور اگر آلام اس کی طرف سے پہنچیں تو محبت ذاتی کے غلبہ سے برنگ انعام ان کو مشاہدہ کرتے ہیں اور عذاب کو شربت عذب کی طرح سمجھتے ہیں۔ کسی تلوار کی تیز دھار ان میں اور ان کے محبوب میں جدائی نہیں ڈال سکتی اور کوئی بلیّہ عظمیٰ ان کو اپنے اس پیارے کی یادداشت سے روک نہیں سکتے اسی کو اپنی جان سمجھتے ہیں اور اسی کی محبت میں لذّات پاتے اور اسی کی ہستی کو ہستی خیال کرتے ہیں اور اسی کے ذکر کو اپنی زندگی کا ماحصل قرار دیتے ہیں۔ اگر چاہتے ہیں تو اسی کو اگر آرام پاتے ہیں تو اسی سے۔ تمام عالم میں اسی کو رکھتے ہیں اور اسی کے ہورہتے ہیں۔ اسی کے لئے جیتے ہیں۔ اسی کے لئے مرتے ہیں۔ عالم میں رہ کر پھر بے عالم ہیں اور باخود ہوکر پھر بے خود ہیں نہ عزت سے کام رکھتے ہیں نہ نام سے نہ اپنی جان سے نہ اپنے آرام سے بلکہ سب کچھ ایک کے لئے کھو بیٹھتے ہیں اور ایک کے پانے کے لئے سب کچھ دے ڈالتے ہیں۔ لا یدرک آتش سے جلتے جاتے ہیں اور کچھ بیان نہیں کرسکتے کہ کیوں جلتے ہیں اور تفہیم اور تفہّم سے صمٌّ و بکمٌ ہوتے ہیں اور ہریک مصیبت اور ہریک رسوائی کے سہنے کو طیار رہتے ہیں اور اُس سے لذّت پاتے ہیں

عشق است کہ برخاک مذلت غلطاند

عشق است کہ برآتش سوزاں بنشاند

کس بہر  کسے  سر ندہد  جان  نہ  فشاند

عشق است کہ ایں کار بصد صدق کناند

 ازاں جملہ اخلاق فاضلہ ہیں جیسے سخاوت، شجاعت، ایثار، علوہمت، و فور شفقت، حلم حیا،مودّت یہ تمام اخلاق بھی بوجہ احسن اور انسب انہیں سے صادر ہوتے ہیں اور وہی لوگ بہ یمن متابعتِ قرآن شریف وفاداری سے اخیر عمر تک ہر یک حالت میں ان کو بخوبی و شائستگی انجام دیتے ہیں اور کوئی انقباض خاطر ان کو ایسا پیش نہیں آتا کہ جو اخلاق حسنہ کی کماینبغی صادر ہونے سے ان کو روک سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ خوبی علمی یا عملی یا اخلاقی انسان سے صادر ہوسکتی ہے وہ صرف انسانی طاقتوں سے صادر نہیں ہوسکتی بلکہ اصل موجب اس کے صدور کا فضل الٰہی ہے۔ پس چونکہ یہ لوگ سب سے زیادہ مورد فضل الٰہی ہوتے ہیں اس لئے خود خداوند کریم اپنے تفضّلات نامتناہی سے تمام خوبیوں سے ان کو متمتع کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں سمجھو کہ حقیقی طور پر بجُز خدائے تعالیٰ کے اور کوئی نیک نہیں تمام اخلاق فاضلہ اور تمام نیکیاں اسی کے لئے مسلمّ ہیں پھر جس قدر کوئی اپنے نفس اور ارادت سے فانی ہوکر اس ذات خیر محض کا قرب حاصل کرتا ہے اسی قدر اخلاقِ الٰہیہ اس کے نفس پر منعکس ہوتی ہیں پس بندہ کو جو جو خوبیاں اور سچی تہذیب حاصل ہوتی ہے وہ خدا ہی کے قرب سے حاصل ہوتی ہے اور ایسا ہی چاہئے تھا کیونکہ مخلوق فی ذاتہٖ کچھ چیز نہیں ہے سو اخلاق فاضلہ الٰہیہ کا انعکاس انہیں کے دلوں پر ہوتا ہے کہ جو لوگ قرآن شریف کا کامل اتباع اختیار کرتے ہیں اور تجربہ صحیحہ بتلا سکتا ہے کہ جس مشرب صافی اور روحانی ذوق اور محبت کے بھرے ہوئے جوش سے اخلاق فاضلہ ان سے صادر ہوتے ہیں اس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی اگرچہ منہ سے ہریک شخص دعویٰ کرسکتا ہے اور لاف و گذاف کے طور پر ہریک کی زبان چل سکتی ہے مگر جو تجربہ صحیحہ کا تنگ دروازہ ہے اس دروازہ سے سلامت نکلنے والے یہی لوگ ہیں اور دوسرے لوگ اگر کچھ اخلاق فاضلہ ظاہر کرتے بھی ہیں تو تکلّف اور تصنّع سے ظاہر کرتے ہیں اور اپنی آلودگیوں کو پوشیدہ رکھ کر اور اپنی بیماریوں کو چھپا کر اپنی جھوٹی تہذیب دکھلاتے ہیں اور ادنیٰ ادنیٰ امتحانوں میں ان کی قلعی کھل جاتی ہے اور تکلّف اور تصنّع اخلاقِ فاضلہ کے ادا کرنے میں اکثر وہ اس لئے کرتے ہیں کہ اپنی دنیا اور معاشرت کا حسن انتظام وہ اسی میں دیکھتے ہیں اور اگر اپنی اندرونی آلائشوں کی ہر جگہ پیروی کریں تو پھر مہمات معاشرت میں خلل پڑتا ہے اور اگرچہ بقدر استعداد فطرتی کے کچھ تخم اخلاق کا ان میں بھی ہوتا ہے مگر وہ اکثر نفسانی خواہشوں کے کانٹوں کے نیچے دبا رہتا ہے اور بغیر آمیزش اغراض نفسانی کے خالصاً للہ ظاہر نہیں ہوتا چہ جائیکہ اپنے کمال کو پہنچے اور خالصاًللہ انہیں میں وہ تخم کمال کو پہنچتا ہے کہ جو خدا کے ہورہتے ہیں اور جن کے نفوس کو خدائے تعالیٰ غیریت کی لوث سے بکلّی خالی پاکر خود اپنے پاک اخلاق سے بھر دیتا ہے اور ان کے دلوں میں وہ اخلاق ایسے پیارے کردیتا ہے جیسے وہ اس کو آپ پیارے ہیں پس وہ لوگ فانی ہونے کی وجہ سے تخلّق باخلاق اللہ کا ایسا مرتبہ حاصل کرلیتے ہیں کہ گویا وہ خدا کا ایک آلہ ہوجاتے ہیں جس کی توسّط سے وہ اپنے اخلاق ظاہر کرتا ہے اور ان کو بھوکے اور پیاسے پاکر وہ آبِ زلال ان کو اپنے اس خاص چشمہ سے پلاتا ہے جس میں کسی مخلوق کو علیٰ وجہ الاصالت اس کے ساتھ شرکت نہیں۔

 اور منجملہ ان عطیات کے ایک کمال عظیم جو قرآن شریف کے کامل تابعین کو دیا جاتا ہے عبودیت ہے یعنی وہ باوجود بہت سے کمالات کے ہر وقت نقصان ذاتی اپنا پیش نظر رکھتے ہیں اور بشہود کبریائی حضرت باری تعالیٰ ہمیشہ تذلل اور نیستی اور انکسار میں رہتے ہیں اور اپنی اصل حقیقت ذ ّلت اور مفلسی اور ناداری اور پُر تقصیری اور خطاواری سمجھتے ہیں اور ان تمام کمالات کو جو ان کو دیئے گئے ہیں اس عارضی روشنی کی مانند سمجھتے ہیں جو کسی وقت آفتاب کی طرف سے دیوار پر پڑتی ہے جس کو حقیقی طور پر دیوار سے کچھ بھی علاقہ نہیں ہوتا اور لباس مستعار کی طرح معرضِ زوال میں ہوتی ہے۔ پس وہ تمام خیر و خوبی خدا ہی میں محصور رکھتے ہیں اور تمام نیکیوں کا چشمہ اسی کی ذات کامل کو قرار دیتے ہیں اور صفات الٰہیہ کے کامل شہود سے ان کے دل میں حق الیقین کے طور پر بھر جاتا ہے کہ ہم کچھ چیز نہیں ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے وجود اور ارادہ اور خواہش سے بکلّی کھوئے جاتے ہیں اور عظمتِ الٰہی کا پُرجوش دریا اُن کے دلوں پر ایسا محیط ہوجاتا ہے کہ ہزارہا طور کی نیستی ان پر وارد ہوجاتی ہے اور شرک خفی کے ہریک رگ و ریشہ سے بکلّی پاک اور منزّہ ہوجاتے ہیں‘‘۔

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد1 صفحہ 532 تا 543)

قرآن مجید کی شان میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا منظوم کلام

نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اَجلی نکلا

پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا

حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا

ناگہاں غیب سے یہ چشمہ ٔاصفٰی نکلا

یا الٰہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم ہے

جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا

سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں

مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا

کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ

وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا

پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں

پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا

ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور

ایسا چمکا ہے کہ صد نَیّرِ بیضا نکلا

زندگی ایسوں کی کیا خاک ہے اس دنیا میں

جن کا اس نور کے ہوتے بھی دل اَعمیٰ نکلا

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد ١ صفحہ 308-306حاشیہ در حاشیہ نمبر2)

جمال و حسن قرآں نور جانِ ہر مسلماں ہے

قمر ہے چاند اوروں کا ہمارا چاند قرآں ہے

نظیر اس کی نہیں جمتی نظر میں فکر کر دیکھا

بھلا کیونکر نہ ہو یکتا کلامِ پاک رحماں ہے

بہار جاوداں پیدا ہے اس کی ہر عبارت میں

نہ وہ خوبی چمن میں ہے نہ اس سا کوئی بستاں ہے

کلام پاک یزداں کا کوئی ثانی نہیں ہرگز

اگر لولوئے عماں ہے وگر لعل بدخشاں ہے

خدا کے قول سے قول بشر کیونکر برابر ہو

وہاں قدرت یہاں درماندگی فرق نمایاں ہے

ملائک جس کی حضرت میں کریں اقرار لاعلمی

سخن میں اس کے ہمتائی کہاں مقدور انساں ہے

بنا سکتا نہیں اک پاؤں کیڑے کا بشر ہرگز

تو پھر کیونکر بنانا نور حق کا اُس پہ آساں ہے

ارے لوگو کرو کچھ پاس شان کبریائی کا

زباں کو تھام لو اب بھی اگر کچھ بوئے ایماں ہے

خدا سے غیر کو ہمتا بنانا سخت کفراں ہے

خدا سے کچھ ڈرو یا رویہ کیسا کذب و بہتاں ہے

اگر اقرار ہے تم کو خدا کی ذات واحد کا

توپھر کیوں اسقدر دل میں تمہارے شرک پنہاں ہے

یہ کیسے پڑ گئے دل پر تمہارے جہل کے پردے

خطا کرتے ہو باز آؤ اگر کچھ خوف یزداں ہے

ہمیں کچھ کیں نہیں بھائیو! نصیحت ہے غریبانہ

کوئی جوپاک دل ہووے دل وجاں اُس پہ قرباں ہے

 (براہینِ احمدیہ ہر چہار حصص روحانی خزائن جلد 1صفحہ 198 تا 204)

We recommend Firefox for better fonts view.