AskAhmadiyyat

الزام کی حقیقت اور احمدیو ں کے خلاف کفر کے فتاوی

اعتراض:۔

احمدی دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نہ نماز پڑھتے ہیں نہ ان کا جنازہ ادا کرتے ہیں نہ ان سے شادی بیاہ کا تعلق قائم کرتے ہیں۔

جواب:۔

جماعتِ احمدیہ اِس معاملہ میں ایک مظلوم جماعت ہے جس پر شروع ہی سے علماء حضرات نے فتاوٰی لگا رکھے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔

’’جو ہمیں کافر نہیں کہتا ہے ہم اسے ہر گز کافر نہیں کہتے لیکن جو ہمیں کافر کہتاہے اسے کافر نہ سمجھیں تو اس میں حدیث اور متفق علیہ مسئلہ کی مخالفت لازم آتی ہے اور یہ ہم سے نہیں ہو سکتا………..پس جب تک یہ لوگ ایک اشتہار نہ دیں کہ ہم سلسلہ احمدیہ کے لوگوں کو مومن سمجھتے ہیں بلکہ ان کو کافر کہنے والوں کو کافر سمجھتے ہیں تو میں آج ہی اپنی تمام جماعت کو حکم دے دیتا ہوں کہ وہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھ لیں۔ہم سچائی کے پابند ہیں آپ ہمیں شریعت اسلام سے باہر مجبور نہیں کر سکتے۔‘‘

(ملفوظات جلد پنجم ص 636-635)

تکفیر میں ابتدا حضرت مسیح موعودؑ کے مخالفین نے کی جس کی وجہ سے وہ خود اس کے مورد بنے اور حدیث نبوی ؐ کے فیصلہ کے تحت کافر ہوئے ۔

چنانچہ 1892ء میں مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے بانی ٔ سلسلہ احمدیہ کے متعلق فتویٰ دیا کہ
”نہ اس کو ابتداءً سلام کریں ۔۔۔۔۔۔ اور نہ اس کے پیچھے اقتداء کریں”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6صفحہ 85)

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی نے فتویٰ دیا کہ
”قادیانی کے مرید رہنا اور مسلمانوں کا امام بننا دونوں باہم ضدّین ہیں یہ جمع نہیں ہو سکتیں”۔

 (شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مولوی رشید احمد صاحب گنگوہی نے فتویٰ دیا کہ
”اس کو اور اس کے اتباع کو امام بنانا حرام ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مولوی ثناء اﷲ صاحب امرتسری نے فتویٰ دیا کہ
”اس کے خلف نماز جائز نہیں”۔

 (فتویٰ شریعت غراء صفحہ9)

مولوی عبدالسمیع صاحب بدایونی نے فتویٰ دیا کہ
”کسی مرزائی کے پیچھے نماز ہر گز جائز نہیں۔ مرزائیوں کے پیچھے نماز پڑھنا ایسا ہی ہے جیسا ہندوؤں اور یہود و نصارٰی کے پیچھے۔ مرزائیوں کو نماز پڑھنے یا دیگر مذہبی احکام ادا کرنے کے لئے اہلسُنّت و الجماعت اور اہلِ اِسلام اپنی مسجدوں میں ہر گز نہ آنے دیں”۔

(صاعقہ ربّانی پر فتنہ قادیانی مطبوعہ 1892ء صفحہ9)

مولوی عبدالرحمن صاحب بہاری نے فتویٰ دیا کہ
”اس کے اور اس کے متبعین کے پیچھے نماز محض باطل و مردُود ہے ۔۔۔۔۔۔ ان کی امامت ایسی ہے جیسی کسی یہودی کی امامت”۔

(فتویٰ شریعت غراء صفحہ4)

مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ
”اس کے اور اس کے مریدوں کے پیچھے اِقتداء ہر گز درست نہیں”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 25)

مولوی عبدالجبار صاحب عمر پوری نے فتویٰ دیا کہ
”مرزا قادیانی اسلام سے خارج ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر گز امامت کے لائق نہیں”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 20)

مولوی عزیز الرحمن صاحب مفتی دیوبند نے فتویٰ دیا کہ
”جس شخص کا عقیدہ قادیانی ہے اس کو امام الصلوٰۃ بنانا حرام ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

مشتاق احمد صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ
”مرزا اور اس کے ہم عقیدہ لوگوں کو اچھا جاننے والا جماعتِ اسلام سے جُدا ہے اور اس کو امام بنانا ناجائز ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 24)

مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی نے فتویٰ دیا کہ
”اس کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم بعینہٖ وہی ہے جو مرتدوں کا حکم ہے”۔

(حسام الحرمین صفحہ 95)

مولوی محمد کفایت اﷲ صاحب شاہجہان پوری نے فتویٰ دیا کہ
”ان کے کافر ہونے میں شک و شُبہ نہیں اور ان کی بیعت حرام ہے اور امامت ہر گز جائز نہیں”۔

(فتویٰ شریعت غرّاء صفحہ6)

جنازے کے متعلق اِن حضرات کے فتوے یہ ہیں

مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی نے فتویٰ دیا کہ
”ایسے دجّال کذّاب سے اِحتراز اختیار کریں ۔۔۔۔۔۔ نہ اس کی نماز جنازہ پڑھیں”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6)

مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ
”اس کی نماز جنازہ نہ پڑھی جائے”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6 صفحہ 101)

قاضی عبید اﷲ بن صبغۃ اﷲ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ
”جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے ۔۔۔۔۔۔ اور مرتد بغیر توبہ کے مَر گیا تو اس پر نماز جنازہ نہیں پڑھنا”۔

(فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی و نزولِ حضرت عیسیٰ علیہ السلام)

مفتی محمد عبداﷲ صاحب ٹونکی لاہور نے فتویٰ دیا کہ
”جس نے دیدہ دانستہ مرزائی کے جنازہ کی نماز پڑھی ہے اس کو علانیہ توبہ کرنی چاہئے اور مناسب ہے کہ وہ اپنا تجدیدِ نکاح کرے”۔

(فتویٰ شریعت غرّاء صفحہ12)

پھر اس سے بھی بڑھ کر انہوں نے یہ فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں بھی دفن نہ ہونے دیا جائے۔ چنانچہ مولوی عبدالصمد صاحب غزنوی نے فتویٰ دیا کہ ان کو مسلمانوں کے قبرستانوں میں دفن نہ کیا جائے تاکہ:
”اہلِ قبور اس سے ایذاء نہ پائیں”۔

(اشاعت السُنّہ جلد 13 نمبر 6صفحہ101)

قاضی عبید اﷲ صاحب مدراسی نے فتویٰ دیا کہ ان کو
”مقابر اہلِ اسلام میں دفن نہیں کرنا بلکہ بغیر غسل و کفن کے کُتّے کی مانند گڑھے میں ڈال دینا”۔

(فتویٰ 1893ء منقول از فتویٰ در تکفیر منکر عروج جسمی و نزول عیسیٰ علیہ السلام)

اِسی طرح انہوں نے یہ بھی فتوے دیئے کہ کسی مسلمان کے لئے احمدیوں کو لڑکیاں دینا جائز نہیں چنانچہ شرعی فیصلہ میں لکھا گیا کہ

”جو شخص ثابت ہو کہ واقع ہی وہ قادیانی کا مرید ہے اس سے رشتہ مناکحت کا رکھنا ناجائز ہے”۔

(شرعی فیصلہ صفحہ 31)

بلکہ اس سے بڑھ کر یہ فتویٰ دیا گیا کہ
”جو لوگ اس پر عقیدہ رکھتے ہوں وہ بھی کافر ہیں اور اُن کے نکاح باقی نہیں رہے جو چاہے ان کی عورتوں سے نکاح کرے”۔

(فتویٰ مولوی عبداﷲ و مولوی عبدالعزیز صاحبان لدھیانہ از اشاعت السنّہ جلد نمبر 13 صفحہ 5)

گویا احمدیوں کی عورتوں سے جبراً نکاح کر لینا بھی علماء کے نزدیک عین اسلام تھا۔

اسی طرح یہ فتویٰ دیا کہ
”جس نے اس کی تابعداری کی وہ بھی کافر مرتد ہے اور شرعاً مُرتد کا نکاح فسخ ہو جاتا ہے اور اس کی عورت حرام ہوتی ہے اور اپنی عورت کے ساتھ جو وطی کرے گا سو وہ زنا ہے اور ایسی حالت میں جو اولاد ان کے پیدا ہوتے ہیں وہ ولدِ زنا ہوں گے”۔

(فتویٰ در تکفیر منکرِ عروج جسمی و نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام مطبوعہ 1311ھ)

تحریک احمدیت کے مخالف علماء نے صرف فتاویٰ ہی نہیں دیئے بلکہ ان پر سختی سے عمل کرانے کی ہمیشہ کوشش کی جیسا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے مرید مولوی عبدالاحد صاحب خانپوری کی کتاب ”مخادعت مسیلمہ قادیانی” (مطبوعہ 1901ء) کی مندرجہ ذیل اشتعال انگیز تحریر سے ظاہر ہے کہ

”طائفہ مرزائیہ بہت ذلیل و خوار ہوئے۔ جمعہ اور جماعت سے نکالے گئے اور جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے اُس میں بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حُکماً رو کے گئے ۔۔۔۔۔۔ نیز بہت قسم کی ذِلّتیں اُٹھائیں۔ معاملہ اور برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔ عورتیں منکوحہ اور مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔ مُردے اُن کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے”۔ (صفحہ 2)

 کیا ان تمام فتاوی کی موجودگی میں احمدیوں پر یہ الزام لگانا کہ احمدی مسلما نوں کے پیچھے نماز اور نماز جنا زہ نہیں پڑھتے اور نہ ہی مسلما نوں کے ساتھ شادی بیاہ کرتے ہیں،کسی با شعور اور حق شناس کو زیب دیتا ہے؟

فتاوٰی تکفیر کے بارے میں جماعت احمدیہ کا موقف

1974ء میں جماعت احمدیہ  کے وفدنے  پاکستان کی  قومی اسمبلی کی سپیشل کمیٹی کے روبرو  اپنا تحریری مؤقف محضرنامہ  کی صورت میں پیش کیا۔ اس محضرنامہ میں جماعت ِ احمدیہ کا یہ موقف درج کیا گیا کہ

’’جماعتِ احمدیہ کے نزدیک ایسے فتاوٰی کی حیثیت اس سے بڑھ کر کچھ نہیں کہ بعض علماء کے نزدیک بعض عقائد اِس حد تک اسلام کے منافی ہیں کہ ان عقائد کا حامل عند اﷲ کافر قرار پاتا ہے اور قیامت کے روز اس کا حَشر نشر مسلمانوں کے درمیان نہیں ہو گا۔ اِس لحاظ سے ان فتاوٰی کو اِس دُنیا میں محض ایک انتباہ کی حیثیت حاصل ہے اور جہاں تک دُنیا کے معاملات کا تعلق ہے کسی شخص یا فرقے کو اُمّتِ مُسلمہ کے وسیع تر دائرہ سے خارج کرنے کا اہل یا مجاز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ معاملہ خدا اور بندے کے درمیان ہے اور اس کا فیصلہ قیامت کے روز جزا سزا کے دن ہی ہو سکتا ہے۔ دُنیا کے معاملات میں ان فتاوٰی کا اطلاق اُمّتِ مُسلمہ کی وحدت کے لئے انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے اور کسی فرقے کے علماء کے فتویٰ کے پیش نظر کسی دوسرے فرقہ یا فرد کو اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔‘‘

 (محضر نامہ ص20تا21)

    We recommend Firefox for better fonts view.

    Follow by Email
    Facebook
    Twitter