توہین عیسیٰؑ لے الزام کا بنیادی جواب

حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپؑ نے نعوذباللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کی ہے ۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کے الزام کا بنیادی جواب

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام بانی جماعت احمدیہ پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ آپ ؑ نے حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کی ہے ۔حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسیٰ ؑ کی توہین کا الزام نہ صرف غلط بلکہ خلافِ عقل ہے کیونکہ مرزا صاحب خود مثیل مسیح ہونے کے مدعی تھے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں:۔

’’جس حالت میں مجھے دعویٰ ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے مجھے مشابہت ہے تو ہر ایک شخص سمجھ سکتا ہے کہ میں اگر نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ ؑ کو برا کہتا تو اپنی مشابہت ان سے کیوں بتاتا‘‘۔

(اشتہار 28؍ دسمبر 1897ء حاشیہ مندرجہ تبلیغ رسالت جلد 7صفحہ 70)

 چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بار بار اس الزام کی تردید کی اور فرمایا:۔

’’ہم اس بات کے لئے بھی خداتعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا تعالیٰ کا سچا اور پاک اور راستباز نبی مانیں اور ان کی نبوت پر ایمان لاویں۔سو ہماری کسی کتاب میں کوئی ایسا لفظ بھی نہیں ہے جو ان کی شانِ بزرگ کے برخلاف ہو۔ اور اگر کوئی ایساخیال کرے تو وہ دھوکا کھانے والا اور جھوٹا ہے‘‘۔

(ایام الصّلح۔ ٹائٹل پیج ۔ روحانی خزائن جلد نمبر14صفحہ 228)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بائبل کے بیان کردہ یسوع کی حقیقت بیان فرمائی ہے

حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے تصورات جدا جدا ہیں ۔ عیسٰی ابن مریم اور یسوع تاریخی طور پر ایک ہی وجودہیں ۔ ناصرہ کے مقام پر حضرت مریمؑ کے بطن سے پیدا ہونے والا بچہ جس کوقرآن کریم عیسٰی ابن مریم کہتاہے وہ اﷲکے ایک برگزیدہ رسول تھے۔ انکی عظمت قرآن شریف میں بیان ہوئی ہے۔ انہوں نے کبھی خدائی یا خدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ وہ مؤحّد تھے، کبھی تثلیث کی تعلیم نہیں دی ۔ یہ عیسٰی ابن مریم کے بارے میں مسلمانوں کا تصور ہے۔ قرآن حکیم نے ابن مریم ہونے کے علاو ہ حضرت عیسیٰؑ کا شجرۂ نسب بیان نہیں کیا۔ مگر عیسائیوں کے ہاں یسوع کا شجرۂ نسب ملتاہے اور جوکچھ رطب و یابس عیسائیوں کی بائبل میں درج ہے اسکے مطابق یسوع کی دو نانیاں نعوذباﷲ کسبیاں تھیں۔ یہ آیا ت آج تک کسی نے بائبل سے حذف نہیں کیں۔ یسوع کی جو شخصیت بائبل سے ظاہر ہوتی ہے اسکے مطابق یسوع شراب بھی پیا کرتے تھے اور بھی بہت سی لغویات یسوع کے بارے میں بائبل میں ملتی ہیں۔

حضرت مرزا صاحب نے پادریوں کو انہی کے اعتقادات دکھائے۔ مگر ساتھ ساتھ ہمیشہ اس امر کی وضاحت فرماتے رہے کہ ان کا روئے سخن اس فرضی یسوع کی طرف ہے جو عیسائیوں کے مُسلّمہ صحیفوں سے نظر آتا ہے۔اور اس فرضی مسیح کا نقشہ جو بائبل سے ابھرتا ہے وہ عیسائیوں کو بطور آئینہ کے دکھایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں:۔

’’ بالٓا خر ہم لکھتے ہیں کہ ہمیں پادریوں کے یسوع اور اس کے چال چلن سے کچھ غرض نہ تھی۔ انہوں نے نا حق ہمارے نبی ﷺ کوگالیاں دے کر ہمیں آمادہ کیا کہ اُن کے یسوع کا تھوڑا سا حال ان پر ظاہر کریں۔۔۔۔۔۔اور مسلمانوں کو واضح رہے کہ خدا تعالیٰ نے یسوع کی قرآن شریف میں کچھ خبر نہیں دی کہ وہ کون تھا ۔۔۔۔۔۔‘‘ ۔

(ضمیمہ انجَام آتھم ۔روحانی خزائن جلد نمبر11 صفحہ293،292)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس طرز خطابت کا پس منظر

یسوع کے متعلق اس طرزِ خطاب کا پس منظر بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں:۔

’’ چونکہ پادری فتح مسیح متعین فتح گڑھ ضلع گورداسپور نے ہماری طرف ایک خط نہایت گندہ بھیجا اور اس میں ہمارے سیدو مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر ۔۔۔۔۔۔تہمت لگائی اور سوا اس کے اور بہت سے الفاظ بطریق سبّ و شتم استعمال کئے۔ اس لئے قرینِ مصلحت معلوم ہوا کہ اس کے خط کا جواب شائع کردیا جاوے۔ لہٰذا یہ رسالہ لکھا گیا۔ امید ہے کہ پادری صاحبان اس کو غور سے پڑھیں اور اس کے الفاظ سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں کیونکہ یہ تمام پیرایہ میاں فتح مسیح کے سخت الفاظ اور نہایت ناپاک گالیوں کا نتیجہ ہے۔ تا ہم ہمیں حضرت مسیح علیہ السلام کی شانِ مقدس کا بہر حال لحاظ ہے اور صرف فتح مسیح کے سخت الفاظ کے عوض ایک فرضی مسیح کا بالمقابل ذکر کیا گیا ہے اوروہ بھی سخت مجبوری سے۔ کیونکہ اس نادان (فتح مسیح ۔ناقل) نے بہت ہی شّدت سے گالیاں آنحضرت ﷺ کو نکالی ہیں اور ہمارا دل دکھایا ہے‘‘۔

(نور القرآن نمبر 2 ۔روحانی خزائن جلد نمبر9 صفحہ376)

یہ وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات میں جگہ جگہ موجود ہے ۔فرماتے ہیں:۔

’’ ہم اس بات کو افسوس سے ظاہر کرتے ہیں کہ ایک ایسے شخص کے مقابل پر یہ نمبر نور القرآن کا جاری ہوا ہے جس نے بجائے مہذّبانہ کلام کے ہمارے سید و مولیٰ نبی ﷺ کی نسبت گالیوں سے کام لیاہے اور اپنی ذاتی خباثت سے اس امام الطیبین و سیّد المطہرین پر سراسر افتراء سے ایسی تہمتیں لگائی ہیں کہ ایک پاک دل انسان کا ان کے سننے سے بدن کانپ جاتا ہے لہٰذا محض ایسے یا وہ گو لوگو ں کے علاج کے لئے جواب ترکی بہ ترکی دینا پڑا۔

ہم ناظرین پر ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام پر نہایت نیک عقیدہ ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کے سچے نبی اور اس کے پیارے تھے اور ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ وہ جیسا کہ قرآن شریف ہمیں خبر دیتا ہے اپنی نجات کے لئے ہمارے سید و مولیٰ محمد مصطفےٰ ﷺ پر دل و جان سے ایمان لائے تھے، اور حضرت موسیٰ کی شریعت کے صد ہا خادموں میں سے ایک مخلص خادم وہ بھی تھے۔ پس ہم ان کی حیثیت کے موافق ہر طرح ان کا ادب ملحوظ رکھتے ہیں۔ لیکن عیسائیوں نے جو ایک ایسا یسوع پیش کیا ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتا تھا اور بجزُ اپنے نفس کے تمام اوّلین آخرین کو لعنتی سمجھتا تھا یعنی ان بدکاریوں کا مرتکب خیال کرتا تھا جن کی سزا لعنت ہے ایسے شخص کو ہم بھی رحمت الٰہی سے بے نصیب سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے کلام میں ہر جگہ عیسائیوں کا فرضی یسوع مراد لیا ہے اور خدا تعالیٰ کا ایک عاجز بندہ عیسیٰ بن مریم جو نبی تھا اور جس کا ذکر قرآن میں ہے۔ وہ ہمارے درشت مخاطبات میں ہرگز مراد نہیں اور یہ طریق ہم نے برابر چالیس برس تک پادری صاحبوں کی گالیاں سن کر اختیار کیا ہے ‘‘۔

( نور القرآن نمبر2بعنوان ناظرین کیلئے ضروری اطلاع۔روحانی خزائن جلد نمبر 9 صفحہ 375،374)

ان تحریرات کو سیاق و سباق سے کاٹ کر عیسٰی ؑ کی توہین قرار دینا کسی مسلمان کیلئے اپنی غیرت کا جنازہ نکالنے والی بات ہے۔ جب آنحضرتﷺ پر گندے الزام لگائے گئے تو غیرت کا تقاضہ یہ تھاکہ عیسائیوں کو یسوع کے بارے میں آئینہ دکھایاجاتا۔ طرز تحریر اور زور بیان سمجھنے کی چیزیں ہیں ۔ دراصل اہلِ علم اور اہلِ کلام میں یہ ایک معرو ف طریق ہے کہ بعض اوقات فریقِ مخالف کو اس کے اپنے معتقدات یا بیانات کا آئینہ دکھا کر اسے لا جواب کیا جاتاہے۔اس طریق کو الزامی جواب کہتے ہیں۔اوریہی وہ طریق ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اختیار کیا۔

یہ بھی ملاحظہ فرمائیں

حضرت بانی جماعت احمدیہ کی دعوت مقابلہ تفسیر نویسی اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کی اصل واقعاتی حقیقت

قارئین کرام!آجکل سوشل میڈیا پر احمدیوں کے خلاف اشتعال انگیزمنفی مہم میں الزام تراشیوں کا ا…